عمران ، قادری ملاقات ، احتجاجی تحریک کا فیصلہ اے پی سی میں مشاورت سےطے کرنے پر اتفاق

عمران ، قادری ملاقات ، احتجاجی تحریک کا فیصلہ اے پی سی میں مشاورت سےطے کرنے ...

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،ایجوکیشن رپورٹر) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہاکہ ایک بھائی پانامہ کیس میں گیا دوسرا ماڈل ٹاؤن قتل عام کیس میں گھر جائے گا ،45تھانوں اور پولیس کی 12 کمپنیاں اگر شہباز شریف کے حکم پر نہیں آئیں تو پھر کس کے حکم پر آئیں بتایا جائے؟ احتجاج کا فیصلہ اے پی سی میں مشاورت سے کریں گے انہوں نے عمران خان ا ور مرکزی قائدین کی آمد پر انہیں خو ش آمدید کہا۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہاکہ فوج کو مداخلت کی ضرورت ہے نہ اسکا مطالبہ کریں گے ،قاتلوں کا مقابلہ عوامی طاقت سے ہو گا ، غیر جانبدار تفتیش کیلئے شہباز شریف اور راناثناء اللہ کا استعفیٰ ناگزیر ہے ۔، سربراہ عوامی تحریک نے عمران خان کے ہمراہ آنے والی پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی، عون چودھری، فواد چودھری، شفقت محمود ،عبدالعلیم خان، اعجاز چودھری، میاں اسلم اقبال کا بطور خاص شکریہ ادا کیا۔ سیکرٹریٹ آمد پر عمران خان کا ڈاکٹر محمد طاہر القادری ،خرم نواز گنڈا پور،ڈاکٹر حسین محی الدین ،فیاض وڑائچ ،بریگیڈئیر (ر) محمد مشتاق ،مرکزی سیکرٹری اطلاعات نور اللہ صدیقی،ساجد بھٹی،جی ایم ملک ، میاں ریحان مقبول ،جواد حامد و دیگر رہنماؤں نے استقبال کیا ۔عمران خان خان نے کہاکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر طاہرالقادری جو فیصلہ کریں گے ان کے ساتھ ہوں گے۔عوامی تحریک کے دفتر میں عمران خان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ تحریک انصاف نے ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ اپنا مقدمہ سمجھ کر لڑا، یہ پہلے دن سے ہمارے ساتھ ہیں، انہوں نے اس کیس کو اپنا کیس سمجھ کر جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیا لہٰذا اب آل پارٹیز کانفرنس میں مشترکہ طور پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔طاہرالقادری نے کہا کہ سو فیصد بغیر کسی ابہام کے کہتا ہوں کہ یہ قتل عام نوازشریف کی مرضی کے بغیر نہیں ہوا، اس میں شہبازشریف نے حکم دیا اور رانا ثنااللہ نے پنجاب کی بیوروکریسی اور پولیس کو استعمال کرکے اس پر عملدرآمد کرایا، رانا ثنااللہ اور شہبازشریف استعفیٰ دے خود کو قانون کے حوالے کریں۔انہوں نے کہا کہ باقرنجفی کمیشن نے اس سانحہ پر شہبازشریف اور ان کی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا، اب بات قیاس آرائیوں کی نہیں، رپورٹ میں ثابت ہوگیا کہ شہبازشریف نے پولیس کو پیچھے ہٹنے کا نہیں کہا۔عوامی تحریک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اب یہ لوگ جان لیں کہ انہیں معافی نہیں ملے گی، ملک کی تمام جماعتوں اور قوم کا متفقہ مطالبہ ہے کہ انہیں گھر جانا ہوگا، شریف خاندان کی اولادوں کے لیے اقتدار میں اب کوئی جگہ نہیں۔طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں فوج کو کسی مداخلت کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ہم اس کا مطالبہ کریں گے، یہ لوگ قانونی طریقے سے انصاف دیں ورنہ عوامی دباؤسے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جو احتجاج ہوگا وہ ان کا خاتمہ کردے گا۔اس موقع پر عمران خان نے کہا کہ ’طاہرالقادری کے پاس اس لیے آیا کہ پھر سے انہیں یقین دہانی کرائی کہ ماڈل ٹاؤن پر تحریک انصاف ان کے ساتھ کھڑی ہے ۔نہتے لوگوں پر گولیاں چلانے کی کسی جمہوری دور میں مثال نہیں ملتی، یہ عوامی تحریک کا نہیں پاکستان کی قوم کا مسئلہ ہے۔ ڈکٹیٹر کی گود میں پلنے والے ہمیں جمہوریت کا درس دیتے ہیں، یہ لوگ ڈکٹیٹر سے زیادہ خطرناک ہیں، یہ سیاست دان نہیں مافیا ہیں، اگر یہ مافیا نہ ہوتا تو ایک ماہ میں انصاف مل جاتا۔ان کا کہنا تھا کہ سارے ادارے ان کے کنٹرول میں ہیں، انہوں نے رپورٹ کو دبانے کی کوشش کی لیکن رپورٹ سامنے آگئی، ڈراموں کا وقت ختم ہوگیا، ہم ان کی تحریک کا انتظار کررہے ہیں، لکھ کر دیتا ہوں کہ ان کی کبھی تحریک چلانے کی جرات نہیں ہوگی، چیلنج کرتا ہوں یہ لوگ جو مرضی کرلیں اب نہیں بچیں گے۔علاوہ ازیں طاہرالقادری نے پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفی کمال سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے انہیں 30 دسمبر کو شیڈول اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی جس پر مصطفی کمال نے کانفرنس میں شرکت کی دعوت قبول کرلی۔ دریں اثناء ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت دہشتگردوں کے ہاتھوں ایک بڑا قومی نقصان تھا۔محترمہ پوری دنیا میں پاکستان کی سیاسی شناخت تھیں ۔محترمہ کا سیاسی سفر امن، ترقی اور استحکام پر مشتمل تھا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ محترمہ کے ہمراہ مشترکہ سیاسی جدوجہد کی خوشگوار یادیں آج بھی تازہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ محترمہ تحریک منہاج القرآن کی لائف ممبر تھیں اورمرکزی سیکرٹریٹ میں ان کا آنا جانا رہتا تھا ۔

عمران قادری کانفرنس

مزید : صفحہ اول