مسلم لیگ کے فارور ڈ بلاک اور استعفوں کا غنچہ کھلے کیوں مر جھا گیا ؟

مسلم لیگ کے فارور ڈ بلاک اور استعفوں کا غنچہ کھلے کیوں مر جھا گیا ؟
مسلم لیگ کے فارور ڈ بلاک اور استعفوں کا غنچہ کھلے کیوں مر جھا گیا ؟

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

نوازشریف کو وزارت عظمیٰ سے رخصت ہوئے اب پانچ مہینے ہوگئے ہیں، ابھی اُن کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہی تھا تو بہت سے بقراط ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر ہر شام یہ پیش گوئی کیا کرتے تھے کہ بس فیصلہ آنے والا ہے۔ اِدھر نوازشریف وزارت عظمیٰ سے الگ ہوئے، اُدھر ان کی پارٹی تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائے گی۔ یہ بھی کہا گیا کہ بہت سے ارکان اسمبلی استعفے جیبوں میں ڈال کر بیٹھے ہیں اِدھر فیصلہ آیا تو استعفے جیبوں سے باہر نکل آئیں گے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آگیا، نوازشریف فوری طور پر رخصت ہوگئے، ان کی قومی اسمبلی کی نشست خالی ہوئی جس پر نیا الیکشن بھی ہوگیا، الیکشن کی پوری مہم کے دوران ٹی وی چینلوں سے روزانہ اس مفہوم کے تبصرے ہونے لگے کہ کلثوم نوازشریف کیلئے یہ نشست جیتنا مشکل ہے، بلکہ آپ کو یاد ہوگا الیکشن والے دن جب نتائج آنا شروع ہوئے تو چند پولنگ اسٹیشنوں کے ابتدائی نتائج نے بعض چہروں کو گلابی کردیا اور انہوں نے حلقے کے معروضی حالات سے صرف نظر کرکے یہ امیدیں وابستہ کرلیں کہ مسلم لیگ (ن) ہار رہی ہے۔ خیر جب نتیجہ آگیا اور کلثوم نواز 15 ہزار ووٹوں سے جیت گئیں تو فوراً ہی کانٹا بدل کر یہ کہا جانے لگا کہ نوازشریف تو 40 ہزار ووٹوں سے جیتے تھے، پارٹی کے ووٹ کم ہو رہے ہیں اور اگلے الیکشن تک تو پارٹی کہیں نظر ہی نہیں آئے گی۔ ایک بزرگ تجزیہ نگار نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ 15 ہزار ووٹوں کی جیت بھی کوئی جیت ہوتی ہے یہ تو شکست کے مترادف ہے حالانکہ انہیں معلوم تھا کہ بلوچستان کے بعض علاقوں میں لوگ چند سو ووٹوں سے بھی جیتے تھے اور انہیں مجموعی طور پر اتنے ووٹ نہیں پڑے تھے جتنے ووٹ لے کر مسلم لیگ (ن) کی امیدوار جیت گئی تھیں خورشید محمود قصوری نے 2002ء کا الیکشن دو حلقوں سے لڑا، ایک میں وہ ہار گئے دوسرے میں دو سو ووٹوں سے جیتے اور پورے پانچ سال تک وزیر خارجہ رہے۔ کسی نے انہیں کہا کہ وہ تو دو سو ووٹوں سے جیتے ہوئے ہیں۔

نوازشریف کے جانے اور شاہد خاقان عباسی کے وزیراعظم بننے کے بعد مسلسل کہا جانے لگا کہ مسلم لیگ (ن) میں فارورڈ بلاک بن رہا ہے لیکن آج تک یہ معاملہ آگے نہیں بڑھا۔ جب انتخابی اصلاحات کا قانون منظور ہوا اور اس میں ختم نبوت کے متعلق حلف کی عبارت میں ایک لفظ تبدیل کردیا گیا اور سینیٹ میں اس کی نشاندہی حافظ حمداللہ نے کردی تو چند دن کے اندر اندر حلف کی پرانی عبارت بحال کردی گئی تاہم اس معاملے کو ابھی تک سیاست کا موضوع بنایا گیا ہے۔ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد مستعفی ہوچکے ہیں، صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ سے بھی استعفا طلب کیا جا رہا ہے، اس سلسلے میں فیصل آباد میں پیر حمیدالدین سیالوی کی طلب کردہ کانفرنس میں تین ارکان صوبائی اسمبلی اور دو ارکان قومی اسمبلی نے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا تھا بعد میں ایک اور رکن پنجاب اسمبلی بھی مستعفی ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق یہ استعفے سپیکروں کے پاس پہنچ چکے ہیں البتہ ابھی تک منظور نہیں ہوئے۔ کہا جا رہا تھا کہ مزید استعفے آئیں گے اور تعداد 16 سے 20 تک بتائی جا رہی تھی لیکن ایسے لگتا ہے کہ استعفوں کا سلسلہ رک گیا ہے، اس کی دو ہی وجوہ ہوسکتی ہیں ایک تو یہ کہ جن ارکان نے استعفوں کی یقین دہانی کرائی تھی انہوں نے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرلی اور استعفے دینے کا فیصلہ اگر انہوں نے کر بھی لیا تھا تو اسے بدل دیا۔ دوسرے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ استعفوں کا اعلان تو کردیا گیا ہو لیکن یہ حضرات اس میں مزیدسنجیدہ نہ ہوں۔ پنجاب اسمبلی کے جن ارکان نے استعفے دیئے ہیں ان کی تعداد چار ہے۔ ان چاروں ارکان کے استعفے اگر اگلے چند دن میں منظور ہوگئے تو ان کی نشستوں پر ضمنی انتخاب ہو جائے گا لیکن اگر سپیکر کے پاس جاکر ان حضرات نے اپنے استعفوں کی تصدیق نہ کی اور یہ نہ بتایا کہ انہوں نے اپنی آزاد مرضی سے استعفا دیا ہے تو منظوری کا معاملہ اسی طرح لٹکا رہے گا جس طرح تحریک انصاف کے استعفوں کے ساتھ ہوا تھا۔ کئی ماہ تک یہ استعفے منظور نہیں ہوئے تھے یہاں تک کہ سب حضرات واپس چلے گئے اور تمام تر مراعات کے ساتھ دوبارہ عوامی نمائندگی کے منصب پر فائز ہوگئے۔ جو ارکان اب مستعفی ہوئے ہیں ان کے ساتھ بھی ایسا فراخدلانہ سلوک ہوسکتا ہے۔ جو حضرات یہ اعلان کر رہے تھے کہ ان کے ساتھ فارورڈ بلاک بنانے کیلئے رابطے ہوئے ہیں اور ان کی تعداد ساٹھ ہے وہ ان میں سے کسی رکن کو سامنے نہیں لاسکے، تو اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ فارورڈ بلاک کا شوشہ اپنی موت آپ مرگیا۔ کوئی ہے جو چراغِ رخِ زیبا لے کر اس فارورڈ بلاک کو ڈھونڈے یا ان کے ارکان کو تلاش کرے جو استعفے جیبوں میں ڈالے پھرتے تھے اور کسی بھی وقت پیش کرسکتے تھے۔ ایسے لگتا ہے کہ استعفوں کا غنچہ بھی فارورڈ بلاک کی طرح بن کھلے ہی مرجھا گیا ہے۔ جو حضرات بار بار استعفوں کی بات کرتے تھے اب انہیں ان کے بیانات یاد دلائے جائیں تو وہ یک دم غصے میں آجاتے ہیں۔

استعفوں کا معاملہ بظاہر ٹھپ ہونے کے بعد اب اعلان کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما عنقریب تحریک انصاف میں شامل ہو جائیں گے۔ معلوم نہیں یہ کون سے ہیرے ہیں جو تحریک انصاف کی انگشتری میں جڑے جانے والے ہیں۔ اب تک عمران خان یہی کہہ رہے تھے کہ قومی اسمبلی میں سب چور اور ڈاکو بیٹھے ہیں، معلوم نہیں ان چوروں اور ڈاکوؤں میں سے وہ چمکدار چہرے کیسے تلاش کرلئے گئے جو اب تحریک انصاف کو رونق بخشیں گے۔ شاید ایسے ہی موقع کیلئے کہاگیا ہے ؂

تمہاری زلف میں ہوتی تو حسن کہلاتی

وہ تیرگی جو مرے نامۂ سیاہ میں ہے

غنچہ

مزید : تجزیہ