تمباکو کی پیداوار پر ٹیکسوں میں کمی پر عمل درآمد روکتے ہوئے جواب طلب

تمباکو کی پیداوار پر ٹیکسوں میں کمی پر عمل درآمد روکتے ہوئے جواب طلب

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس ناصرمحفوظ اورجسٹس شکیل احمد پرمشتمل دورکنی بنچ نے وفاقی حکومت کی جانب سے تمباکوکی پیداوار پر ٹیکسوں میں کمی پرعملدرآمد روکتے ہوئے وزارت خزانہ اورایف بی آر سے جواب مانگ لیاہے عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے یہ احکامات گذشتہ روز درخواست گذار حمیدخان کی جانب سے بابریوسفزئی ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائررٹ پرجاری کئے اس موقع پر عدالت کو بتایاگیاکہ درخواست گذار حمیدخان چھوٹا لاہور صوابی کارہائشی اورتمباکوکاکاشتکارہے وفاقی حکومت نے سینٹرل ایکسائزایکٹ2005ء میں ترمیم کی ہے تاہم اس ترمیم کے لئے وفاقی کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی اورمنی بل کے تحت ترمیم کی گئی ہے اوراس میں تمباکوکاتیسرادرجہ شامل کیا گیاہے اوراس تیسرے درجے کو بنیاد بناکرٹیکس میں 33 فیصد کمی کردی گئی ہے جبکہ دنیابھرمیں تمباکو پرٹیکسوں میں اضافہ کیاجارہا ہے جبکہ ٹیکسوں میں کمی کے باعث انہیں ملنے والے سیس میں کمی آرہی ہے جبکہ فنانس ڈویژن نے اپنابورڈ تمباکوسیس کے لئے بنایاہے اوراس کاچیئرمین وزیرخزانہ ہے اوراس طرح ایک جانب کابینہ کو نظرانداز کیاگیاہے اوراس طرح تمباکوکی فیکٹریاں بند ہورہی ہیں جبکہ صوبے کی معیشت پہلے ہی بدحال ہے جبکہ قانون یہ ہے کہ سیس میں سالانہ اضافہ کیاجاتاہے عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے ابتدائی دلائل کے بعد حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے تمباکو کی پیداوار پرٹیکسوں میں کمی پرعملدرآمد روکتے ہوئے متعلقہ حکام سے جواب مانگ لیاہے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر