چوآسیدن شاہ،بچے پرتشددکرنیوالے اساتذہ کیخلاف کاروائی کامطالبہ

چوآسیدن شاہ،بچے پرتشددکرنیوالے اساتذہ کیخلاف کاروائی کامطالبہ

چوآسیدن شاہ (نمائندہ پاکستان) برائیٹ سکالر سکول ڈلوال روڈ چوآ سیدن شاہ کی ٹیچر کا کلاس ون کے بچے پر وحشیانہ تشدد والدین کاٹیچر اور سکول انتظامیہ کے خلاف کاروائی کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق چوآ سیدن شاہ کی رہائشی مبینہ گلشن زوجہ محمد رفیق سکنہ بائی پاس نے تھانہ چوآ سیدن شاہ میں تحریری درخواست دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ میرا بیٹا عتیق الرحمان جو کہ برائیٹ سکالر اکیڈمی ڈلوال روڈ چوآ سیدن شاہ میں کلاس ون میں پڑھتا ہے مورخہ 08-11-2017کو میرے بیٹے کو کلاس ٹیچر ثانیہ مجید دختر عبدالمجید نے سر پر ڈنڈا مار ا اور ٹھوڑی سے پکڑ کر دیوار کے ساتھ دے مارا جس کی وجہ سے بچہ بے ہوش ہو گیا ہوش میں آنے کے بعد معاملے کو سکول میں دبا دیا گیا لیکن چوٹ کی وجہ سے بچے کو شدید درد تھا بچے نے مجھے بتایا کہ اُسے سکول میں ٹیچر نے مارا ہے دوسرے دن میں بچے کو لے کر سکول گئی اور سکول انتظامیہ سے بات کی لیکن سکول انتظامیہ اور کلاس ٹیچر نے کوئی توجہ دی اور سکول پرنسپل کو بھی اصل حقائق بتانے کے با وجود اس نے سکول سے دھکے دے کر باہر نکال دیا اور کہا کہ جو کچھ ہوتا ہے کرو اس سلسلے میں سائلہ ٹیچر ثانیہ مجید کے گھر بھی گئی لیکن اس نے اور اس کے والدین نے میری کوئی بات نہ سنی اور میری بے عزتی کی اور کہا جو کرنا ہے کر لو ہم کسی سے نہیں ڈرتے سائلہ ایک غریب عورت ہے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہے اور اپنا گزارہ مشکل سے کر رہی ہے سائلہ نے اپنی بساط کے مطابق مقامی طور پر اپنے بیٹے کا کافی علاج کروایا مگر کوئی افاقہ نہ ہوا اور میرے بیٹے کی طبیعت مزید بگڑتی گئی اس لئے میں اپنے بیٹے کو PIMSہسپتال اسلام آباد لے گئی انہوں نے بچے کو داخل کر لیا اور اب بھی بچہ PIMSہسپتال میں داخل ہے لیکن نہ ہی سکول انتظامیہ نے کوئی امداد کرنے کی کوشش کی ہے اور نہ ہی ٹیچر نے بچے کے علاج کے سلسلے میں کئے گئے تمام ریکارڈز میرے پاس موجود ہیں جو کہ پیش کئے جا سکتے ہیں لہٰذا میری استدعا ہے کہ سکول انتظامیہ اور ٹیچر کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے اور میرے بیٹے کے علاج کے سلسلے میں آنے والے تمام اخراجات دلوائے جائیں تاکہ اپنے بیٹے کا مکمل علاج کروا سکوں ۔والدین نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور محکمہ ایجوکیشن کے اعلیٰ افسران سے اس واقعہ کا نوٹس لینے کامطالبہ کیا ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر