کراچی ،یوتھ پارلیمنٹ کے تحت جدید پاکستان تحریک کا آغاز

کراچی ،یوتھ پارلیمنٹ کے تحت جدید پاکستان تحریک کا آغاز

کراچی ( اسٹاف رپورٹر )نوجوانوں کو ملکی ترقی کے لیے سیاست سمیت ہر شعبے میں آگے لانے کی ضرورت ہے،نوجوان ہی پاکستان کا مستقبل ہیں، قائد اعظم محمد علی جناح کے تین نکات پر عمل کرلیا جائے تو سب مسئل حل ہوجائیں، جدید پاکستان بنانے سے پہلے ملک میں نظام تعلیم کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، اس بات کا اظہار مقررین نے یوتھ پارلیمنٹ کے تحت جدید پاکستان کانفرنس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ نوجوانوں کو ملکی ترقی کے لیے سیاست سمیت ہر شعبے میں آگے لانے کی ضرورت ہے، قائداعظم کا فرمان تھا ملک کی باگ ڈور نوجوان قیادت کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر فارو ستار کا کہنا تھا کہ میری امی جب سے پریس کانفرنس میں آئی ہیں مصطفیٰ کمال نے میری پارٹی کو ممی قومی موومنٹ کا نام دیا ہے، آج کانفرنس میں میری بیگم اور بیٹیاں بھی موجود ہیں، ڈر ہے کہیں بیگم قومی موومنٹ یا فیملی قومی موومنٹ کا اضافہ نہ کردیا جائے، مگر کوئی بھی تحریک اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکی جب تک اس میں گھر کے افراد شامل نہ ہوں، یہی آج کی کانفرنس میں میرا نوجوانوں کو پیغام ہے، جس کی مثال میرے اور آپ کے عظیم قائد قائداعظم محمد علی جناح اور انکی بہن محترمہ فاطمہ جناح ہیں، ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان بننے سے پہلے ہی پاکستانی تھا، آج پنجاب میں بھی لوگ بانی پاکستان کا دن منارہے ہیں، ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے کے لیے محبت اور بھائی چارگی کو فروغ اور تعصب اور ناانصافیوں کو ختم کرنا ہوگا، جس شہر کی آبادی میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا اسے ہی کم گنا جارہاہے، شہر قائد کو اپنے حق کے لیے بولنا پڑے گا،جمہوری ملکوں میں پارٹیوں کے درمیان فیصلہ ووٹوں کی بنیاد پر ہوتا ہے، عوام سیاسی جماعتوں کو ان کی کارکردگی کی بنیاد پر پسند کرتے ہی، انھوں نے مزید کہا کہ ہم جسے بھی نکالیں گے اسے پتہ ہوگا ۔ پیپلزپارٹی کے رہنماسعید غنی نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا میں کوئی شخص نہیں کہ سکتا کہ اس سے کوئی غلطی نہیں ہوئی،غلطی ہوجانا ٹھیک ، اس کا احساس نہ ہونا بد ترین بات ہے،آج کوئی شخص اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں۔سعید غنی کا کہنا تھا کہ آج سالگرہ اور کرسمس کا دن بھی ہے، اس ملک میں اسلام ہمیشہ ہر چھوٹی چھوٹی بات پر خطرے میں آجاتا ہے، ہم نے کبھی اقلیتوں کودرپیش خطرات کا اندازہ نہیں کیا، ہم قائد کی ہر بات کو تو ماننے کوتیار ہیں، لیکن اقلیتوں کو مسلمانوں کے برابر قرار دینے کی بات کو نظر انداز کرجاتے ہیں، قائد اعظم محمد علی جناح کے تین نکات پر عمل کرلیا جائے تو سب مسئل حل ہوجائیں،ٓآج سے اپنے آپ کو ٹھیک کرنا ہوگا،مسائل حل ہوجائیں گے،احساس ذمہ داری پیدا نہیں ہوگا تو ہم مسائل میں گھرے رہیں گے،جو لوگ ہمیں منتخب کرتے ہیں وہ بے وقوف نہیں ہیں،نوسالہ دور حکومت میں پیپلزپارٹی ڈیلیور نہیں کرسکی،ہم نے سونے کی سڑکیں، اور دودھ کی نہریں نہیں بہائیں مگر کچھ تو کیا جو عوام نے ہمیں ووٹ دیا،میں ان لوگوں میں سے نہیں جواپنی غلطی تسلیم نہ کریں، پیپلزپارٹی کو جتنا کام کرنا چاہیے تھا، وہ نہیں کرسکی،ہمارے ملک میں کھیلوں کو دفن کردیا جاتا ہے، ہر ادارہ ایک دوسرے کے کام میں مداخلت کرنے میں مصروف ہے۔اس موقع پر سابق سینیٹر عبدالحسیب خا ن کا کہنا تھا کہ جدید پاکستان بنانے سے پہلے ملک میں نظام تعلیم کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، اس وقت ملک میں اڑتیس ہزار سے زائداسکولز بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، سندھ میں سولہ ہزار سے زائد اسکول بجلی کی سہولت سے محروم ہیں، جدید پاکستان تحریک کے بعد کسی بھی تحریک کی ضرورت نہیں، پاکستان مسلمانوں نے نہیں ہندووں نے بنایا تھایہ میرا نہیں قائد اعظم کا کہنا تھا،اسی وجہ سے دوقومی نظریئے کی بنیاد پڑی۔ چیئرمین پاک سرزمین پارٹی مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نوجوان ہی پاکستان کا مستقبل ہیں، میں چاہتا ہوں کہ ہم آپس میں سچ بولیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی کمٹمنٹ ہی ٹھیک نہیں کریں گے تو کچھ نہیں کرسکتے، مجھے کوئی بھی بات نہیں کرنی، جلسے کی تھکاوٹ بھی ہے،تجاویز دینے سے کچھ نہیں ہوگا، عملی مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے،نوجوانوں کو سیاست کے سمندر کی ان لہروں میں چھلانگ لگانا ہوگی، آپ کا کام صرف ووٹ دینا نہیں، بلکہ ووٹ لینا بھی ہوگا، نوجوانوں کو بہتری کے لیے سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کرنا ہوگی، آپ اگر اچھے ہیں تو بری پارٹیوں میں جائیں، پیپلزپارٹی ، ن لیگ، اور پی ٹی آئی نے ہی ملک چلانا ہے، یوتھ پارلیمنٹ ایک نرسری ہے، اپنا کردار اکرے۔ مصطفی کمال کا مزید کہنا تھا کہ 2008 میں نے نظام کو بہتر کرنے کے لیے اپنے قائد کے پیر پکڑے ہیں، ایک وقت سیاست میں وہ بھی گزرا ہے جب سیاست دان آدھی رات کو ایک دوسرے کو گالیاں دیتے تھے، کچھ قوتوں کو شہر کے امن کو برباد کرنے کے لیے فنڈنگ کی جاتی تھی۔اس موقع وفاقی وزیراور پیپلزپارٹی کی رہنماشازیہ مری نے کہا کہ جماعتوں کو بنایا گیا کہ تاکہ ملک میں نفرتوں کو فروغ دیا جائے، کچھ ڈکٹیٹرز نے ملک کو برباد کردیا، کچھ لوگ مدرسوں کو چندہ دیتے ہیں اور آرمی پبلک اسکول کے بچوں پر آنسو بہاتے ہیں، بچوں کو لیپ ٹاپ دینے سے بہتر ہے، اچھے اور برے میں تمیز کی آگاہی دی جائے، یہ ملک قائد کا ہے اور ہمیں اس ملک کو جدت کی طرف لیکر جانا ہے، نظریئے انسان کو آگے لیکر جاتے ہیں، ملک کی بھلائی کے لیے یہی بہتر ہے کہ سچائی سے سیاست کی جائے۔انھوں نے کہا کہ جہاں ادارے کام نہیں کرتے وہاں معاشرے کے افراد اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں۔ یوتھ پارلیمنٹ کے فاونڈر چیئرمین رضوان جعفر نے کہا کہ یوتھ پارلیمنٹ کے تحت پاکستان کی سب سے بڑی سماجی تحریک کا آغاز ہورہاہے، جس کا نام جدید پاکستان تحریک ہے، اس تحریک کے ذریعے نوجوانوں کو متحرک کیا جائے گا، تاکہ وہ اپنے شہروں کی بہتری کے لیے کام کریں ۔اس موقع پر سابق سیئنر نائب صدر طلحہ انور ، برج پاور بیٹری کے سی ای او ، سینئر جرنلسٹ مظہر عباس، سردار ملک یاسین، مہتاب الدین چاولہ، اور ن لیگ کے ڈاکٹر رمیش کما ر چاولہ نے بھی خطاب کیا، جبکہ یوتھ پارلیمنٹ کے کراچی ، حیدرآباد، میر پور خاص اور سکھر کے اراکین بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر