وہ شخصیت جسے قائد اعظم نے پاکستان کو ایٹمی ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کی ذمہ داری دی توانہوں نے بھارتی وزیر اعظم کی بڑی آفر ٹھکرا دی

وہ شخصیت جسے قائد اعظم نے پاکستان کو ایٹمی ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کی ذمہ داری ...
وہ شخصیت جسے قائد اعظم نے پاکستان کو ایٹمی ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کی ذمہ داری دی توانہوں نے بھارتی وزیر اعظم کی بڑی آفر ٹھکرا دی

  

لاہور(ایس چودھری)پاکستان آج دنیا کی ساتویں بڑی ایٹمی قوت بن چکا ہے جہان سائنس وٹیکنالوجی کی تعلیم کے متعدد ادارے بھی قائم ہوچکے ہیں ،ایٹمی ٹیکنالوجی کے لئے فزکس کا مضمون بنیادی اہمیت کاحامل ہے جس کی تعلیم کا آغاز قائد اعظم نے کیاتھا۔ بھٹو نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہالینڈ سے پاکستان بلا کر ایٹمی پلانٹ کی بنیاد رکھی تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس منزل تک پہنچنے کا راستہ قائد اعظم نے دکھایا اور پاکستان میں فزکس کی تعلیم کے لئے ایک شہرہ آفاق نابغہ روزگار مسلمان ڈاکٹر رفیع محمدچودھری کا انتخاب کیا تھا لیکن بھارتی وزیر اعظم نہرو نے ڈاکٹر رفیع محمد چودھری کو پاکستان سے بدگماں کرنے اور انہیں ہندوستان میں قیام کے لئے پرکشش ترغیبات دیں ۔

ڈاکٹر رفیع محمد چودھری پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ۱۹۳۳ء کے آغاز میں واپس ہندوستان چلے آئے۔ ۱۹۳۳ء ہی میں ان کی پہلی تقرری غیر منقسم ہندوستان میں اسلامیہ کالج لاہور میں بطور فزکس پروفیسر کے طور پر عمل میں آئی۔ وہ ۱۹۳۸ء تک اس ادارے میں تدریسی فرائض سرانجام دیتے رہے اور اس دوران شعبہ فزکس کے چیئرمین بھی رہے۔

۱۹۴۶ء میں پروفیسر سرمارک اولیفانٹ کی دعوت پر برمنگھم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس میں بطور نوفیلڈ فیلو کام کرنے کے لیے دوبارہ انگلینڈ گئے۔ برمنگھم میں دو سالہ قیام کے اختتام پر ۱۹۴۸ء میں ڈاکٹر رفیع محمد چودھری جب واپس علی گڑھ پہنچے تو ہندوستان کی تقسیم عمل میں آچکی تھی اور ۱۴اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان معرض وجود میں آچکا تھا۔

قیام پاکستان کے فوراً بعد سرمارک اولیفانٹ نے ایک خصوصی مراسلے میں قائداعظم کو پاکستان جیسے نوزائیدہ ملک میں سائنسی میدان میں خصوصاً ایٹمی اور نیوکلیئر فزکس میں تدریس و تحقیق کے فروغ کی ضرورت پر زور دیاتاکہ پاکستان جلد از جلد ایٹمی قوت حاصل کرکے اپنا دفاع مضبوط بنا لے ۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ اس پروگرام کے کامیاب اطلاق کے لیے برصغیر میں پروفیسر رفیع چودھری سے بہتر کوئی مسلمان سائنس دان نہیں ہے۔ انہوں نے پروفیسر رفیع محمد چودھری کو فوری طور پر پاکستان بلانے پر بھی زور دیا۔

قائداعظم نے سرمارک اولیفانٹ کے دلائل کے پیش نظر ڈاکٹر رفیع محمد چودھری کو خط لکھا اور انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی۔ اس کے ساتھ ہی قائداعظم نے وزارت تعلیم کو حکم نامہ جاری کیا جس کے تحت ڈاکٹر رفیع محمد چودھری کو گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی لاہور میں شعبہ فزکس میں پروفیسر شپ اور چیئرمین شپ کی پیش کش کی گئی۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جب بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو کو اس پیش رفت کا علم ہوا تو اس نے پروفیسر رفیع محمد چودھری کو فوراً نیشنل فزکس لیبارٹری میں ڈپٹی ڈائریکٹر شپ کی پیش کش کی۔ یہ لیبارٹری میں ڈپٹی ڈائریکٹر شپ کی پیش کش کی۔ یہ لیبارٹری دنیا کی فزکس کی سب سے بڑی لیبارٹریوں میں سے ایک ہے۔ انہیں دوسری ترغیبات بھی دی گئیں مگر پروفیسر ڈاکٹر رفیع محمد چودھری نے نہرو کی پیشکش ٹھکرا دی اور اسے لکھا کہ ’’غیر منقسم ہندوستان میں سائنس کے میدان میں ہندو اساتذہ چھائے ہوئے تھے۔ وہ یونیورسٹی کی سطح پر مسلمان طلبہ کو سائنس اور یاضی کی تعلیم حاصل کرنے پر ان کی حوصلہ شکنی کرتے تھے۔ علاوہ ازیں تقسیم ہند کے بعد سائنس کے ہندو اساتذہ کے ہجرت کر جانے کی وجہ سے پاکستان میں ایک خلاسا پیدا ہو گیا ہے ۔ اب ان لوگوں کو ان کی ضرورت ہے۔ ‘‘

نوزائیدہ پاکستان اور اس کے باشندوں کی ضروریات کا احساس کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر رفیع محمد چودھری نے قائداعظم کی پیش کش قبول کر لی اور ۱۹۴۸ء ہی میں پاکستان چلے آئے۔ پاکستان آتے ہی انہوں نے فوری طور پر گورنمنٹ کالج لاہور میں فزکس میں ایم ایس سی کے کورس کا آغاز کر دیا تھا ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس