حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی آخر اب کہاں ہے؟ بالآخر سائنسدانوں کو جواب مل گیا، کس جگہ ہے؟ جان کر آپ کو بھی بے حد حیرت ہوگی

حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی آخر اب کہاں ہے؟ بالآخر سائنسدانوں کو جواب مل ...
حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی آخر اب کہاں ہے؟ بالآخر سائنسدانوں کو جواب مل گیا، کس جگہ ہے؟ جان کر آپ کو بھی بے حد حیرت ہوگی

  

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) حضرت نوح علیہ السلام کو آدم ثانی بھی کہا جاتا ہے کیونکہ جب قوم نوح پر پانی کا عذاب نازل ہوا تو اس دنیا میں چند لوگ ہی بچے تھے جو نوح علیہ السلام کی کشتی میں سوار تھے۔ یہ کشتی ایک پہاڑ پر اتری تھی۔ اب سائنسدانوں نے اس کشتی کا ایسی جگہ سراغ لگا لیا ہے کہ سن کر آپ حیران رہ جائیں گے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق قرآن مجید کی طرح بائبل میں بھی یہ واقعہ درج ہے اور ماہرین کے ایک گروپ نے بائبل میں بیان کیے گئے واقعے کے مطابق اس تحقیق کا آغاز کیا اوراب بالآخر ترکی میں واقع ’ارارت‘ (Ararat)نامی پہاڑ پر کشتی  نوح کی باقیات تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

رپورٹ کے مطابق ترکی اور چین کے سائنسدانوں نے 2010ءمیں ترکی کے صوبے اگری (Agri)میں واقع ارارت پہاڑ پرتلاش کی اور نوح علیہ السلام کی کشتی کی باقیات تلاش کرنے میں کامیاب رہے۔ اب دنیا بھر سے 100سے زائد ماہرین ایک بار پھر اس پہاڑ پر جمع ہوئے ہیں اور ان شواہد کا معائنہ کرکے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ ان سائنسدانوں کی تحقیق درست ہے اور یہی وہ پہاڑ ہے جس پر نوح علیہ السلام کی کشتی اتری تھی۔ ماہرین کی اس ٹیم میں شامل جیوسائنس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر راﺅل ایسپرنیٹ کا کہنا تھا کہ ”اس پہاڑ پر ہمارے جمع ہونے کا مقصد ماضی میں برپا ہونے والے اس تباہ کن واقعے کے شواہد کو جانچنا تھا۔ انہیں پوری طرح جانچنے کے بعد میں اس بات پر متفق ہوں کہ نوح علیہ السلام کی کشتی واقعی اس پہاڑ پر ہی اتری تھی۔اس وقت دنیا میں اس قدر سیلاب آیا تھا کہ نوح علیہ السلام کی کشتی زمین سے 13ہزار فٹ بلند ہو گئی اورپانی اترنے پر بالآخر اس پہاڑ کی چوٹی پر آ ٹھہری۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس