پیسے سے تعلیم کا موازنہ نہیں کرنے دیں گے ،نجی میڈیکل کالجوں میں فیسوں کا تعین سپریم کورٹ کرے گی :چیف جسٹس پاکستان

پیسے سے تعلیم کا موازنہ نہیں کرنے دیں گے ،نجی میڈیکل کالجوں میں فیسوں کا تعین ...
پیسے سے تعلیم کا موازنہ نہیں کرنے دیں گے ،نجی میڈیکل کالجوں میں فیسوں کا تعین سپریم کورٹ کرے گی :چیف جسٹس پاکستان

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)سپریم کورٹ نے نجی میڈیکل کالجوں کو کوئی بھی نیا داخلہ کرنے سے روک دیا ہے ۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار اور مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بنچ نے نجی میڈیکل کالجوں کی بھاری فیسوں کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران قراردیا کہ آئندہ سے سپریم کورٹ فیس کی وصولی کا طریقہ کار طے کرے گی اور وہی فیس وصول کی جائے گی جس کا تعین سپریم کورٹ کرے گی ۔پیسے سے تعلیم کا موازنہ نہ کیا جائے، علم میں آیا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ڈاکٹرز کی ڈگری تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے ، جب چوکیدار، رکھوالا اور ایک اور جانور مل جائیں تو کام خراب ہو جاتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ قوم کو کچھ واپس کریں، عدالت نے پاکستان بھر میں پی ایم ڈی سی اور میڈیکل کالجوںسے متعلق ملک بھر کی عدالتوں میں زیرسماعت تمام مقدمات سپریم کورٹ میں منتقل کرنے کاحکم بھی دے دیا ہے۔فاضل بنچ نے تمام نجی میڈیکل کالجوں کے مالکان سے میرٹ ،فیسوں ،بینک اکاﺅنٹس ،طلباءکو دی جانے والی سہولیات اور لیبارٹریوں کے معیار کے بارے میں بیان حلفی طلب کرلئے ہیں ۔عدالت نے قرار دیا کہ 7دن کے اندر یہ بیان حلفی داخل نہ کئے گئے تو کالج مالکان کو ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا ۔

چیف جسٹس نے قراردیا کہ اپنے بچوں اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے اگر مجھے دو چار میڈیکل کالجز بند کرنے پڑے تو بند کروں گا اور جرمانہ بھی ایسا کروں گا کہ مالکان کو اپنے گھر بیچنے پڑیں گے۔ عدالت نے کیس کی پیروی کرنے والی خاتون وکیل کو ایک میڈیکل یونیورسٹی کی حمایت میں فون کرنے پر گورنر پنجاب کے بیٹے آصف رجوانہ کو بھی طلب کرلیا ہے ۔عدالتی حکم پر آمنہ عنایت میڈیکل کالج اور شریف میڈیکل کالج کے مالکان پیش نہ ہوئے جس پر عدالت نے حکم دیا کہ دونوں میڈیکل کالجوںکے مالکان کا پتہ کریں ،عدالت نے انہیں آج 28دسمبرکو پیش ہونے کا حکم دیاہے، عدالت کے روبرو فاطمہ میموریل میڈیکل کالج کی طرف سے ڈاکٹر رخشندہ پیش ہوئیں اور بتایا کہ فاطمہ میموریل کالج پی ایم ڈی سی کے رولز کے مطابق داخلے کر رہا ہے اور ایم بی بی ایس کے طلباءکے لئے شہرمیں تین مختلف ہسپتالوں سے ان کا الحاق ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا پہلے تو میڈیکل کے طالب علم ایک ہی جگہ ہسپتال میں مریضوں کو دیکھتے تھے ،کیا آپ اب بسوں میں طالب علموںکو لے جاکر مریض دکھاتے ہیں؟ چیف جسٹس کے استفسار پر صدر پی ایم ڈی سی نے بتایا کہ ہر نجی کالج کا اپنا میرٹ مقرر ہوتا ہے اور پرائیویٹ میڈیکل کالجز یو ایچ ایس کی میرٹ لسٹ پر عمل نہیں کرتے ، جسٹس میاں ثاقب نثار نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ مجھے آج علم ہوا کہ ہر نجی کالج اپنا میرٹ بنا رہا ہے ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ بد دیانتی ہو گی کہ اب ہم قوم کو کچھ ادا نہیں کریں گے، اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس قوم کو کچھ واپس کریں، فاطمہ میموریل ہسپتال کی نمائندہ ڈاکٹر نے بتایا کہ ایم بی بی ایس کے لئے 9 لاکھ روپے فیس وصول کی جا رہی ہے جس پر چیف جسٹس نے صدر پی ایم ڈی سی ڈاکٹر شبیر لہری کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ مجھے تو کل بتایا گیا تھا کہ 6لاکھ 42ہزار فیس وصول کی جارہی ہے اور آج معلوم ہو رہا ہے کہ 9لاکھ سے زائد وصول کی جا رہی ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آئندہ سے سپریم کورٹ فیس کی وصولی کا طریقہ کار طے کرے گی اور وہی فیس وصول کی جائے گی، چیف جسٹس نے کمرہ عدالت میں موجود خاتون وکیل انجم حمید سے استفسار کیا کہ کل آپ نے عدالت میں پرائیویٹ میڈیکل کالج میں داخلے کے لئے مسئلہ کی نشاندہی کی تھی ، جس پر خاتون وکیل نے چیف جسٹس پاکستان کو آگاہ کیا کہ عدالتی نوٹس کے بعد انہیں متعدد فون کالز موصول ہو چکی ہیں اور گورنر پنجاب کے بیٹے آصف رجوانہ نے بھی فون کیا ہے ، انہو ںنے عدالت کو آگاہ کیا کہ عدالت کے نوٹس لینے کے بعد فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے میسج کرتے ہوئے آفر کی ہے کہ میڈیکل کے طالب علم یحییٰ ملک کا میڈیکل میں داخلہ ہو جائے گا، جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کسی کی کیسے جرات ہو سکتی ہے کہ گورنر کا بیٹا آپ کو فون کرے، چیف جسٹس نے گورنر پنجاب کے بیٹے آصف رجوانہ کو فوری پیش ہونے کا حکم دیا، عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ قانون میں دیکھا جائے کہ گورنر پنجاب کو طلب کرنے کی کیا گنجائش ہے، مگر عدالتی وقت ختم ہونے تک گورنر پنجاب کے بیٹے عدالت میں پیش نہیں ہوئے، چیف جسٹس پاکستان نے عدالتی وقفہ کے بعد دوبارہ سماعت کے دوران ریمارکس دیئے علم میں آیا ہے کہ کچھ ایسی یونیورسٹیاں بھی موجود ہیں جو میڈیکل کے داخلوں سے لے کرامتحانات تک سب کچھ خود کرتی ہیں اور ان کے تمام بچے پاس بھی ہو جاتے ہیں، سیکرٹری پی ایم ڈی سی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے میڈیکل کے تمام داخلے سنٹرلائزڈ کرنے کی ہدایت کی تھی مگر اس پر حکم امتناعی جاری ہونے کے بعد تمام یونیورسٹیوں نے اپنے داخلے مکمل کر لئے ہیں، یو ایس ایچ کے نمائندہ نے عدالت میں پیش ہو کر پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے گزشتہ تین سالوں میرٹ لسٹ بھی پیش کی اور پرائیویٹ میڈیکل کالجز اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کا موازنہ کرتے بتایا پبلک سیکٹریونیورسٹی میں مارکنگ سخت ہونے کی وجہ سے طلباءپوسٹ گریجویشن میں داخلے نہیں لے سکتے جبکہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے طلباءکے نمبرز زیادہ ہوتے ہیں، لاہور میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر جاوید نے پیش ہو کر بتایا کہ ان کے کالج کے لئے 150طلباءکی منظوری دی گئی ہے اور 680 بیڈز پر مشتمل گھرکی ٹرسٹ ہسپتال سے میڈیکل کالج کو منسلک کیا گیا ہے ، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ لاہور میڈیکل کالج میں کتنے غیرملکی طلباءکو داخلے دیئے گئے ہیں اور ان سے کتنی فیسیں وصول کی گئی ہیں جبکہ ان طلباءکے داخلوں کے لئے میرٹ کس نے ترتیب دیا ، جس پر انہو ںنے بتایا کہ فارن طلباءسے 18لاکھ روپے فیس وصول کی جا رہی ہے اور 5سے 6غیرملکی طلباءعلم حاصل کر رہے ہیں جبکہ طلباءکے داخلوں کے لئے میرٹ بھی کالج انتظامیہ نے خود ہی ترتیب دیا ہے جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کس نے آپ کو اجازت دی ہے فارن سٹوڈنٹ کو داخل کرنے کے لئے اپنا میرٹ مقرر کریں، چیف جسٹس نے حکم دیا کہ لاہور میڈیکل کالج کے مالک کوہدایت کی کہ کالج کے اکاﺅنٹس ، لیب سہولیات اور تمام تفصیلات عدالت میں پیش کریں، فاضل بنچ نے یہ بھی کہا کہ آج کے بعد تاحکم ثانی کوئی نیا داخلہ نہ کیا جائے ۔اس موقع پر پرائیویٹ کالجوں کی ایسوسی ایشن کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے مداخلت کرنا چاہی تو چیف جسٹس نے سابق صدر سپریم کورٹ بار کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ بیرسٹر علی ظفر آپ بیٹھ جائیں، مجھے مالکان سے براہ راست بات کرنے دیں،اپنے بچوں اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے اگر مجھے دو چار میڈیکل کالج بند کرنے پڑے تو بند کروں گا اور جرمانہ بھی ایسا کروں گا کہ مالکان کو اپنے گھر بیچنے پڑیں گے، مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار نے مزید ریمارکس دیئے کہ ہمیں وکلائ، پی ایم ڈی سی سمیت تمام متعلقہ اداروں کی معاونت کی ضرورت ہے ، چیف جسٹس نے صدر پی ایم ڈی سی سے استفسار کیا کہ کیا آپ عدالت کے ساتھ کھڑے ہیں ؟ کیونکہ کہ جب چوکیدار، رکھوالا اور ایک جانور مل جائیں تو پھر کام خراب ہو جاتا ہے،صدر پی ایم ڈی سی نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ کا اقدام قابل تحسین ہے ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پیسے سے تعلیم کا موازنہ نہ کیا جائے اور علم میں آیا ہے کہ امریکہ پاکستان کی ڈاکٹرز کی ڈگری تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے، عدالتی طلبی پر یونیورسٹی آف لاہور کے چیف پیٹرن ایم اے روف بھی پیش ہوئے جبکہ شریف میڈیکل کالج اور آمنہ عنایت میڈیکل کالج کے مالکان اور انتظامیہ کی جانب سے کوئی بھی پیش نہیں ہوا جس پر عدالت نے حکم دیا کہ دونوں کالجز کے مالکان کا پتہ چلائیں کون ہیں اور انہیں آج 28دسمبر کودوبارہ عدالت میں طلب کیا جائے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کمرہ عدالت میں موجود تمام میڈیکل کالجز مالکان تین بجے پی ایم ڈی سی کا تیار شدہ پرفارما حاصل کریں اور انہیں پر کر کے بیان حلفی کے ساتھ عدالت میں جمع کروائیں، چیف جسٹس نے میڈیکل کالجز کے مالکان کو تنبیہ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ جو میڈیکل کالج بیان حلفی جمع نہیں کروائے گا اسکو 1 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا، چیف جسٹس نے کانٹینینٹل میڈیکل کالج کے نمائندہ کی پیشی کے دوران ریمارکس دیئے کہ خواہش ہے کہ میرے ملک کا ڈاکٹر کردار اور پروفیشلزم میں ایسا ہو کہ میرے ملک میں صحت کے معاملے میں کمی نہ ہو، چیف جسٹس پاکستان نے ایڈووکیٹ جنرل شکیل الرحمن خان کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ پتہ کر کے بتائیں کہ سرکار کو ایک ایم بی بی ایس کا ایک طالب علم کتنے میں پڑتا ہے اور آپ نوٹ کر رہے ہیں نا؟ یہ سب اپنے خادم اعلیٰ کوبھی بتائیں ، عدالت کے روبرو اختر سعید میڈیکل کالج ، سنٹرل پارک میڈیکل کالج اور شالیمار میڈیکل کالج کے سی ای اوز بھی پیش ہوئے، چیف جسٹس نے میڈیکل کالجوںمیں فراہم کی گئی سہولیات کے سوالات کرنے کے بعد ریمارکس دیئے کہ جب کسی ہسپتال کا دورہ کیا تو یہ نہیں کرنے دوں گا کہ آپ جعلی فیکلیٹی بٹھا دیں، یو ایچ ایس کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے سسٹم کی کمزوری ہے مگر اس کے باوجود بہت کوشش کی گئی کہ بھارت کی طرز پر سنٹرل انڈکشن پالیسی نافذ کی جائے، انہو ںنے انکشاف کیا کہ جب یونیورسٹی بن جاتی ہے تو اس پر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کا کوئی کنٹرول نہیں رہتا جبکہ سپریرئیر، لاہور یونیورسٹی یو ایچ ایس اے کے ماتحت بھی نہیں ہیں، چیف جسٹس نے راشد لطیف میڈیکل کالج کے مالک کی عدم پیشی پر برہمی اظہار بھی کیااور ڈی جی ایل ڈی اے کو بھی28دسمبر کوطلب کر لیا ہے ،فاضل جج نے کہا کہ اس کالج کے حمید لطیف ہسپتال نے گارڈن ٹاﺅن کا حسن تباہ کردیا ہے ،نہ اس کا پارکنگ ایریا ہے اور نہ ہی مناسب سہولیات ہیں ،اس کا نقشہ کیسے پاس ہوگیا؟ عدالت نے 28دسمبر کو گورنر پنجاب کے بیٹے ، شریف میڈیکل کالج اور آمنہ اختر میڈیکل کے مالکان کو بھی طلب کر لیا ہے جبکہ تمام میڈیکل کالجز کے مالکان کوبیان حلفی سمیت 6جنوری کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے ۔فاضل بنچ نے فاطمہ میموریل میڈیکل کالج اورلاہور میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے مالکان کوخاص طور پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نجی میڈیکل کالجوں میں آج کے بعد کوئی نیا داخلہ نہیں ہوگا۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور