دنیا کے سب سے خطرناک ایٹمی پلانٹ میں سائنسدانوں نے نقلی سانپ داخل کرنے کا فیصلہ کرلیا کیونکہ ان کے ذریعے۔۔۔

دنیا کے سب سے خطرناک ایٹمی پلانٹ میں سائنسدانوں نے نقلی سانپ داخل کرنے کا ...
دنیا کے سب سے خطرناک ایٹمی پلانٹ میں سائنسدانوں نے نقلی سانپ داخل کرنے کا فیصلہ کرلیا کیونکہ ان کے ذریعے۔۔۔

  

ٹوکیو (نیوز ڈیسک) جاپان میں سونامی سے بری طرح متاثر ہونے والے فوکوشیما نیوکلیئر پاور پلانٹ کو پہنچنے والے نقصان کا درست اندازہ کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہونے کے بعد بالآخر اب سائنسدانوں نے سانپ نما روبوٹ پاور پلانٹ کے اندر بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ روبوٹ 12.8 میٹر لمبے ہیں اور ان کے دونوں سروں پر پینورامک کیمرے لگے ہیں جو چاروں طرف کی تصاویر اور ویڈیوز بناسکتے ہیں۔

ڈیلی سٹار کے مطابق سانپ نما روبوٹ کیمرے فوکوشیما نیوکلیئر پاور پلانٹ کے متاثر ہونے والے تین ری ایکٹروں میں سے دوسرے ری ایکٹر کے اندر جاکر تحقیقاتی کام کریں گے۔ یہ تینوں ری ایکٹر 2011ءکے تباہ کن سونامی میں متاثر ہوئے تھے۔ اس سونامی میں 18000 ہزار سے زائد لوگ لقمہ اجمل بن گئے تھے جبکہ 10لاکھ سے زائد عمارتیں متاثر ہوئی تھیں۔

’داعش کے 10 ہزار کارکن افغانستان پہنچ چکے ہیں اور اب وہ۔۔۔‘ روس نے اعلان کردیا، پاکستان کے لئے سب سے خطرناک خبر آگئی

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ فوکوشیما پاور پلانٹ کو پہنچنے والے نقصان کا ابھی تک درست طور پر اندازہ نہیں کیا جاسکا۔ تابکار مادے کی بھاری مقدار ابھی بھی ان ری ایکٹروں کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ اس سے پہلے بھی متعدد بار روبوٹ آلات کو ری ایکٹروں کے اندر بھیجنے کی کوشش کی گئی لیکن بے پناہ درجہ حرارت کے باعث یہ پگھل کر ناکارہ ہوگئے۔ اب جاپانی کمپنی توشیبہ نے سانپ نما روبوٹ تیار کئے ہیں جو انتہائی بلند درجہ حرارت میں بھی کام کرسکتے ہیں۔ ان روبوٹس کو جنوری 2018ءکے اختتام پر دوسرے ری ایکٹر کے نیچے داخل کیا جائے گا تاکہ ری ایکٹر کو پہنچنے والے نقصان کا درست اندازہ کیا جاسکے۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مزید : بین الاقوامی