یہ آدمی گزشتہ 64سال سے مسلسل یہ مشین استعمال کرنے پر کیوں مجبور ہے؟ وہ غلطی جو اکثر پاکستانی کرتے ہیں

یہ آدمی گزشتہ 64سال سے مسلسل یہ مشین استعمال کرنے پر کیوں مجبور ہے؟ وہ غلطی جو ...
یہ آدمی گزشتہ 64سال سے مسلسل یہ مشین استعمال کرنے پر کیوں مجبور ہے؟ وہ غلطی جو اکثر پاکستانی کرتے ہیں

  

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) پاکستان وہ بدقسمت ملک ہے کہ جہاں پولیو کے خطرات کے بارے میں بار بار کی آگاہی مہموں کے باوجود آج بھی کچھ لوگ اپنے بچوں کو پولیو ویکسین پلوانے پر تیار نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کو ان امریکی شہریوں کی دردناک داستان ضرور پڑھنی چاہئیے جن کے پھیپھڑے پولیو کے باعث ناکارہ ہو گئے اور وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنی زندگی لوہے کی مشینوں میں گزارنے پر مجبور ہیں۔

دی انڈیپینڈنٹ کے مطابق 1950ءکی دہائی میں امریکہ میں ہر سال تقریباً 15 ہزار افراد پولیو کی وجہ سے فالج کے شکار ہوجاتے تھے۔ ان افراد کی سانس کو بحال رکھنے کے لئے ’آئرن لنگ‘ نامی مشینیں بنائی گئیں جو پریشر میں شدید کمی پیدا کرکے آکسیجن کو متاثرہ افراد کے پھیپھڑوں کے اندر کھینچنے کے کام آتی تھیں۔ پولیو کے باعث فالج سے متاثر ہونے والے افراد ایک سے دو ہفتے کے لئے ان مشینوں کو استعمال کرتے تھے جس کے بعد وہ نارمل طریقے سے سانس لینے کے قابل ہوجاتے تھے، لیکن جن افراد کے پھیپھڑے مستقل طور پر متاثر ہوجاتے تھے انہیں تمام عمر یہ مشین استعمال کرنا پڑتی تھی۔

’میرے شوہر کا کہنا ہے میں بہت غلیظ ہوں کیونکہ میں نہاتے ہوئے اپنے جسم کا یہ حصہ کبھی نہیں دھوتی‘ خاتون نے انٹرنیٹ پر ایسی بات کہہ دی کہ طوفان آگیا

آنے والی دہائیوں کے دوران پولیو ویکسین کی ایجاد کے بعد امریکہ میں اس بیماری کا خاتمہ ہوگیا اور یوں آئرن لنگ مشینیں بنانے والی کمپنیوں نے ان کی مزید پیداوار بھی بند کردی۔ فلپس ریکس پرونکس نامی کمپنی نے اس نوعیت کی آخری مشینیں تیار کیں اور 2014ءمیںا نہیں استعمال کرنے والوں کو واضح طور پر بتادیا کہ آئندہ ان مشینوں کی مرمت کی گارنٹی کمپنی نہیں دے گی۔

سال 2013ءمیں کئے گئے ایک سروے سے پتہ چلا کہ اب بھی امریکہ میں 6 سے 8 افراد ان مشینوں کو استعمال کررہے ہیں۔ ستر سالہ پال الیگزینڈر بھی ان افراد میں سے ایک ہیں۔ الیگزینڈر 1952ءمیں پولیو سے متاثر ہو جب اس کی عمر چھ سال تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی تقریباً تمام زندگی آئرن لنگ مشین کے اندر گزاری ہے جو اس کے کمرے میں نصب کی گئی تھی۔ الیگزینڈر نے اس مشین کے اندر رہتے ہوئے ہی قانون کی تعلیم بھی حاصل کی اور اپنی زندگی کے دیگر معمولات بھی انجام دئیے۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس میں جب وہ قانون کی تعلیم حاصل کرنے گئے تو ان کی آئرن لنگ مشین بھی ساتھ ہی یونیورسٹی لیجانا پڑی۔ وہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ چکے ہیں لیکن آج بھی اس مشین کے بغیر ان کے لئے سانس لینا ممکن نہیں ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس