’اُس دن مادھوری ڈکشٹ چیختی رہی کہ میں یہ کام نہیں کروں گی، لیکن فلمی ڈائریکٹر کا کہنا تھا کرنا تو پڑے گا اور آخرکار وہ کامیاب ہوگیا‘

’اُس دن مادھوری ڈکشٹ چیختی رہی کہ میں یہ کام نہیں کروں گی، لیکن فلمی ...
’اُس دن مادھوری ڈکشٹ چیختی رہی کہ میں یہ کام نہیں کروں گی، لیکن فلمی ڈائریکٹر کا کہنا تھا کرنا تو پڑے گا اور آخرکار وہ کامیاب ہوگیا‘

  



ممبئی (نیوز ڈیسک) ہالی ووڈ فلم انڈسٹری کے ڈائریکٹر ہاروی وائن سٹائن کی جانب سے متعدد فلم سٹار خواتین کو ہراساں کرنے کا انکشاف سامنے آیا تو دنیا بھر میں ہنگامہ برپاہوگیا لیکن آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ بالی ووڈ فلم انڈسٹری میں فلمسٹار خواتین کو ہراساں کرنے کی روایت بے حد عام پائی جاتی ہے، مگر اس کے باوجود کوئی اس کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بالی ووڈ انڈسٹری میں یہ لعنت اس قدر عام ہے کہ اس کے لئے باقاعدہ ’ریپ کلچر’ کی اصطلاح عام ہوچکی ہے۔ بھارتی معاشرے میں جنسی جرائم کے عام ہونے کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ فلموں میں ریپ کو ایک نارمل بات کے طور پر دکھایا جاتا ہے، یہاں تک کہ اکثر اوقات فلمی ہیروئنوں کو ریپ کے سین کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے حالانکہ وہ اس کے لئے تیار نہیں ہوتی ہیں۔

’میرے بوائے فرینڈ نے مجھے گدگدی کی تو میں نے اس سے تعلق ختم کرلیا کیونکہ اس سے۔۔۔‘ معروف اداکارہ نے ایسی بات کہہ دی کہ پاکستانی مردوں کے بھی منہ کھلے کے کھلے رہ جائیں گے

حال ہی میں یہ تہلکہ خیز انکشاف سامنے آیا کہ بالی ووڈ کی مشہور ہیروئن مادھوری ڈکشٹ کو بھی ایک بار فلم ڈائریکٹر نے ریپ سین کرنے پر مجبور کردیا، حالانکہ وہ مسلسل ’نہیں، نہیں‘ کہہ رہی تھیں۔ ڈائریکٹر نے بغیر لگی لپٹی رکھے ان سے کہا ”ریپ سین تو ہوگا۔“ یہ مادھوری ڈکشٹ کے فلمی کیریئر کے آغاز کے دنوں کی بات ہے۔ اگرچہ وہ بہت پریشانی اور شرمندگی کے عالم میں نظر آرہی تھیں لیکن ڈائریکٹر نے زبردستی اداکار رنجیت کے ساتھ ان کا ریپ سین کرواڈالا۔ جب ریپ سین مکمل ہوا تو ڈائریکٹر اور عملے نے تالیاں بجانا شروع کردیں لیکن مادھوری ڈکشٹ بے حد شرمندہ نظر آرہی تھیں ،انہوں نے نظریں جھکائی ہوئیں تھیںاور وہ ایک لفظ بھی نہ بول پائیں۔

لائیو ٹی وی پروگرامز، اپنی پسند کے ٹی وی چینل کی نشریات ابھی لائیو دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /تفریح