’قید میں ہمیں دن رات یہ چیز کھانے کو دی جاتی تھی‘ سعودی حکومت کی قید سے رہائی پانے والے شہزادے نے کیا بات بتادی؟ جان کر سعودی شہریوں کو یقین نہیں آئے گا

’قید میں ہمیں دن رات یہ چیز کھانے کو دی جاتی تھی‘ سعودی حکومت کی قید سے رہائی ...
’قید میں ہمیں دن رات یہ چیز کھانے کو دی جاتی تھی‘ سعودی حکومت کی قید سے رہائی پانے والے شہزادے نے کیا بات بتادی؟ جان کر سعودی شہریوں کو یقین نہیں آئے گا

  

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) مالی بدعنوانی کے الزمات میں سعودی حکومت نے گزشتہ ماہ درجنوں شہزادوں اور کاروباری شخصیات کو گرفتار کر لیا تھا۔ دارلحکومت کے ایک ہوٹل کو حراستی مرکز قرار دے کر ان تمام اہم شخصیات کو تحقیق و تفتیش کے لئے وہاں رکھا گیا تھا۔ عام تاثر تو یہ تھا کہ ان افراد پر بہت سخت وقت آن پڑا ہے، اور بعض میڈیا رپورٹس میں تو یہ دعوٰی بھی کیا گیا کہ گرفتار شدگان پر غیر ملکی تفتیش کار سخت تشدد کر رہے ہیں، لیکن ان تمام اطلاعات کے برعکس قید سے رہائی پانے والے ایک شہزادے نے کچھ اور کہانی سنا دی ہے۔

ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی کے مطابق رہانی پانے والوں میں شہزادہ سعود الدویش بھی شامل ہیں، جنہوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں مسکراتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا گیا۔ سعودی ٹیلیکام کے سابق چیف ایگزیکٹو سعود الدویش نے فائیو سٹار رٹز کارلٹن ہوٹل میںگزرے شب و روز کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ”پرائیویٹ افئیرز (شاہی دربار کا ایک یونٹ) والے ہمارے لئے دن رات کم عمر بھیڑ کے گوشت سے تیار کی گئی ڈ ش لاتے تھے۔ انہوں نے ہمارے ساتھ بہت اچھال سلوک کیا اور اپنا کام خوش اسلوبی سے سرانجام دیا۔“

مقامی اخبار اوکاز کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گرفتار کئے گئے تقریباً 200 افراد، جن میں شہزادے، کاروباری شخصیات اور حکومتی عہدیداران شامل تھے، میں سے 23افراد کی رہائی ہو چکی ہے۔ ان تمام افراد کو دارالحکومت کے لگژری رٹز کارلٹن ہوٹل میں رکھاگیا تھا اور ان کے خلاف تحقیقات اور تفتیش کا سلسلہ جاری تھا۔

مزید : عرب دنیا