محترمہ شہید کی برسی اور چند یادیں

محترمہ شہید کی برسی اور چند یادیں
محترمہ شہید کی برسی اور چند یادیں

  

گڑھی خدا بخش(لاڑکانہ) کے قبرستان والے میدان میں آج معمول سے بھی زیادہ اجتماع متوقع ہے،پیپلزپارٹی کی تاحیات چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید) کی گیارھویں برسی ہے۔ بتایا گیا کہ گزشتہ شب نوڈیرو میں بی بی شہید کی رہائش گاہ پر پارٹی کی مجلس عاملہ کے روایتی اجلاس میں کچھ بڑے فیصلے کئے گئے ہیں، جن کا اعلان بھی اسی اجتماع میں متوقع ہے، پیپلزپارٹی کی ساری قیادت لاڑکانہ میں جمع ہے،جو یہاں موجود ہو گی اور جیالے بھی شہر شہر سے آئے ہیں۔

محترمہ کی یہ برسی ایسے وقت میں آئی،جب بقول شخصے ان کی جماعت اور ان کے اہل خانہ کے اردگرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے اور وہ پریشانی سے دو چار ہیں کہ محترمہ کے شوہر اور ان کی ہمشیرہ کے ساتھ ان کے پیارے بیٹے کو بھی ملوث کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری کو بھی مریم نواز بنانے کی تدبیر ہے۔ پیپلزپارٹی کے اندرونی حلقوں کے مطابق تمام تر احتجاج اور تحفظات کے باوجود ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو موقع دیا گیا کہ وہ جو چاہیں کریں۔

اب تو جے آئی ٹی کی رپورٹ زیر بحث ہے،جس کے مطابق ہوشربا انکشاف سامنے آئے ہیں اور آصف علی زرداری کے حوالے سے اربوں ڈالر کی ٹرانزیکشن کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے۔ خیر یہ معاملہ عدالت میں ہے،عدالت جانے اور زرداری، ہمیں تو حیرت یہ ہے کہ زیر سماعت (عدالتِ عظمیٰ میں) معاملے پر بحث بھی ہو رہی ہے اور دلائل، رد دلائل بھی چل رہے ہیں، الزام دہرائے اور رد کئے جا رہے ہیں، کوئی نہیں کہتا کہ یہ معاملہ زیر سماعت (سب جوڈیس) ہے، اس پر عدالت کے باہر بات نہیں ہو سکتی،لیکن کیا کریں یہ روایت بھی باقی نہیں رہی، سابق وزیراعظم محمد نواز شریف والے امور بھی تو ’’سب جو ڈیس‘‘ تھے، لیکن ان پر بھی بحث ہوتی رہی تھی۔

ایک اور عرض کر دیں کہ یہ کیسا دور آ گیا ہے کہ رپورٹ عدالت عظمیٰ کے لئے راستے میں تھی اور اس کے اہم حصے شائع اور نشر بھی ہو گئے تھے یہ نہیں کہ یہ صرف ایک رپورٹر کا سکوپ ہو، یہ توعام ہو چکی تھی۔

حالات ایسے ہیں کہ یہ گزارش کرنا پڑی ورنہ آج تو دن ہی بی بی(شہید) کا ہے، بی بی پہلےBB سے موسوم تھی، جس کا مطلب بے نظیر بھٹو تھا،لیکن بعد میں یہ مستعمل ہو گیا اور یوں بے نظیر بھٹو کو بی بی کہا جانے لگا، بی بی ہمارے پاکستان کے زیادہ حصے میں احترام کا استعارہ ہے، جو والدہ، دادی، بڑی بہن یا بزرگ خواتین کے لئے استعمال ہوتا ہے اِس لئے بے نظیر بھٹو کا BB یہاں بی بی بن گیا اور محترمہ کو اِسی طرح پکارا جانے لگا جو انہوں نے قبول کر لیا اور یوں خود محترمہ نے بھی بُرا منائے بغیر اِس حوالے سے بلانے پر اعتراض نہ کیا۔آج کے دن 2007ء میں سرعام شہید کیا گیا اور بالکل جان ایف کینیڈی کے شوٹنگ والے سانحہ کا ایکشن ری پلے نظر آیا، ہم تو آج بھی یہی سمجھتے ہیں کہ بی بی کسی ہینڈل لگنے سے شہید نہیں ہوئی تھیں اور ان کو سنائپر نے دور سے نشانہ لے کر مارا، اس سلسلے میں افسوسناک امر یہ بھی ہے کہ ان کا پوسٹ مارٹم ہی نہیں ہوا اور محترمہ کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر بھی خاموش ہیں۔اب کہا جاتا ہے کہ آصف علی زرداری نے ایسا نہ ہونے دیا، اس میں ہمیں نہ پہلے کبھی وزن نظر آیا اور نہ اب نظر آتا ہے کہ ایسے سانحات میں پوسٹ مارٹم قانونی ضرورت ہے تاکہ وجہ موت کا پوری طرح علم ہو سکے،لیکن ایسا نہ ہونے دیا گیا۔

فرض کیجئے کہ جو بتایا جاتا ہے ویسا ہی تھا تو اس وقت کی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو کس نے روکا تھا کہ پوسٹ مارٹم سے پرہیز کر کے غیر قانونی حرکت کرے۔ اس کے لئے بھی تو کسی کو جواب دہ ہونا چاہئے، ہماری استدعا ہے کہ اس روز بی بی کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر حضرات اب تو بولیں کہ پلوں کے نیچے سے پانی گذر چکا، بتا دیں کہ بی بی کی موت کا سبب بننے والا زخم کسی ہینڈل کا نہیں، گولی کا تھا۔

بے نظیر بھٹو والد کی جاں نشین تھیں اور انہوں نے اپنی اس صاحبزادی کے بارے میں بہت کچھ کہا اور لکھا ہے، ان کی تحریر، تقریر اور عمل سے قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ وہ سیاست میں اپنا جاں نشین محترمہ بے نظیر بھٹو ہی کو بنانا چاہتے تھے، باقی سب باتیں ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اِس سلسلے میں خود کہتی ہیں کہ ان کی راہ میں روڑے اٹکا کر پارٹی پر قبضہ کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔

محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے وفادار ڈاکٹر جہانگیر بدر کو ای میل کے ذریعے آگاہ کیا تھا کہ ان کو پارٹی کی قیادت سے روکنے کے لئے انکلز سرگرم ہیں، ان میں نمایاں غلام مصطفی جتوئی تھے، مصطفی کھر اور ملک معراج خالد کے ساتھ ساتھ میاں احسان بھی تھے،بے نظیر بھٹو کے لئے سیاست پھولوں کی سیج نہیں، کانٹوں کا بستر ثابت ہوئی، ان کی پوری زندگی ہی مصائب میں گذری۔

یہ درست کہ پیپلزپارٹی ذوالفقار علی بھٹو دور سے آصف علی زرداری تک چار بار اقتدار میں رہی،لیکن یہ اقتدار کسی بھی دور میں سکون والا نہیں تھا، خود ذوالفقار علی بھٹو نے بڑی تگ و دو کی اور مُلک کے دو لخت ہونے کے بعد ہی ان کو اقتدار مل سکا اور انہوں نے آج کے پاکستان کو بحران سے نکالا اور واقعی نیا پاکستان بنا دیا، مُلک کو پوری دُنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا، افسوس اسی حوالے سے بعد میں ان کو تختۂ دار پر جانا پڑا، ان کے بعد ان کی بیگم نصرت بھٹو اور صاحبزادی بے نظیر بھٹو نے پارٹی کو سنبھالا اور گرداب سے نکالا، بی بی خود اپنی کتاب ’’دختر مشرق‘‘ میں لکھتی ہیں، کہ ان کو اور ان کی والدہ کو قیدِ تنہائی میں نظر بند رکھا گیا، والد کا چہرہ تک نہ دیکھنے دیا گیا اور نہ ہی جنازہ میں شرکت کرنے اور سوگ منانے دیا گیا۔

محترمہ نے لکھا ہے کہ وہ المرتضیٰ لاڑکانہ میں والدہ کے ساتھ نظر بند تھیں،جب ان کے کان میں شدید درد ہوا،لیکن ان کو کسی ڈاکٹر کو دکھا لینے کی اجازت نہ دی گئی،کان کے زخم کی اتنی شدت تھی کہ ایک روز وہ بے ہوش بھی ہو گئی تھیں دوا دارو اور علاج کی سہولت تو الگ باہر کی دُنیا سے مکمل رابطہ منقطع تھا اور ضرورت کی کوئی بھی شے بغیر پڑتال کے اندر نہیں آ سکتی تھی اور ان کو یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ ان کو مر جانے دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

محترمہ کا تعلق جہاں اور بہت سے معتبر صحافی حضرات سے تھا وہاں ہم نے بھی سرد گرم دیکھے اور ان کے ساتھ ’’آن دی ریکارڈ‘‘ اور ’’آف دی ریکارڈ‘‘ گفتگو کا اعزاز بھی حاصل رہا، محترمہ کسی تلخ سوال کا بھی بُرا نہیں مناتی تھیں، خود سادہ کھاتیں اور مہمان کو بھی وہی کھلاتی تھیں۔ ہمیں یاد ہے کہ وہ ’’گلزار ہاؤس گلبرگ‘‘ میں مقیم تھیں، ان دِنوں وہ اقتدار میں نہیں تھیں اور پیپلزپارٹی کے ترجمان روز نامہ ’’مساوات‘‘ کے ملازمین کے تحفظ کا مسئلہ آن بنا، ہم اپنے رہنما نثار عثمانی مرحوم کے ساتھ محترمہ سے بات چیت کے لئے گئے تو مغرب ہو چکی تھی۔

گلزار ہاؤس پہنچنے پر معلوم ہوا کہ وہ کھانا کھا رہی ہیں، اطلاع دی گئی تو انہوں نے ٹی وی لاؤنج میں ہی بُلا لیا۔ سبزی، دال کھا رہی تھیں، چھوٹے چھوٹے نوالے،لقمے چبا کر معدے میں اُتارے جا رہے تھے۔

ہمیں بھی دعوت دی ہم نے معذرت کر لی۔ بعدازاں محترمہ سے بات ہوئی ہم نے گذارشات پیش کیں، جو معنوی طور پر ناکام رہیں۔ یادیں اور باتیں بہت ہیں،لیکن وقت نہیں، پھر کبھی سہی، اتنا کہوں گا کہ وقت تھمتا نہیں گذر ہی جاتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -