بینظیر بھٹو کے قتل کے عالمی محرکات

بینظیر بھٹو کے قتل کے عالمی محرکات
بینظیر بھٹو کے قتل کے عالمی محرکات

  

محترمہ بینظیر بھٹو کا قتل اصل میں پاکستان کے اندر اس سوشل ڈیمو کرٹیک امیج کا قتل تھا،جو پاکستان کو اکیسویں صدی کی دُنیا میں ایک مہذب مقام دے سکتا تھا۔ محترمہ بینظیر بھٹو ایک جمہوری 249 ترقی پسند اور روشن خیال پاکستان کی وارث سیاسی نسل کی آخری نمائندہ تھیں، جن کے قتل سے پاکستان گہری تاریکی کے گڑھوں میں لڑھک گیا۔

محترمہ بینظیر بھٹو اکیسویں صدی کے ایک انتہائی پسماندہ ،مذہبی شدت پسندی اور فرقہ واریت کے شکار ملک کی انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور جدید نظریات کی حامل لیڈر تھیں، جو اپنے کیرئیر کے آخری ایام میں عالمی سیاسی معاملات میں اپنے لئے ایک اہم مقام پیدا کرچکی تھیں۔ ان کا شمار عالمی مدبروں میں ہوتا تھا۔ وہ اپنی جلاوطنی کے دور میں عالمی فورمز میں کثرت سے شریک ہوتی تھیں اور اپنی سیاسی، سفارتی اور نظریاتی اہلیت کی وجہ سے دنیا بھر کے سفارتی اور سیاسی حلقوں میں بڑے احترام سے دیکھی جاتی تھیں۔

محترمہ بینظیر بھٹوکا جرم ان کی اہلیت اور روشن خیالی تھی، وہ پاکستان میں قدامت پسندی اور مذہبی دقیانوسیت کے خلاف آخری دفاعی لائن تھیں اور بدقسمتی سے جب پاکستان عالمی سامراجی طاقتوں کی باہمی کشمکش کا میدان جنگ بنا تو اس وقت صرف محترمہ بینظیر بھٹو ہی وہ واحد لیڈر تھیں، جو اس خطے کے امن اور سلامتی کی ضمانت دے سکتی تھیں،لیکن یہی وہ تاریخی المیہ تھا جب سپرپاور کی باہمی کشمکش میں اندورنی اور بیرونی رجعت پسند طاقتوں کے مفادات محترمہ بینظیر بھٹو کو منظر سے ہٹانے پر یکجا ہوگئے، کیونکہ محترمہ بینظیر بھٹو کی موجودگی میں پاکستان اس عالمی تنہائی اور سیاسی انتشار کا شکار نہ ہوتا،جس سے وہ آج گذر رہا ہے۔

محترمہ بینظیر بھٹوکے قتل سے پاکستان ایک مہذب اور منظم جمہوری کلچر سے یکسر محروم ہوگیا۔ محترمہ کے ساتھ ساتھ وہ عہد بھی دفن ہوگیا،جو سیاسی رواداری، تہذیب اور برداشت کی نمائندگی کرتا تھا۔ محترمہ بینظیر بھٹو ایک انتہائی اعلیٰ تہذیبی اور سیاسی ماضی کی پیداوار تھیں۔

وہ 1960ء کی انقلابی شورش کی نوجوان شاہد تھیں۔ انہوں نے اپنے والد کی عملی سیاسی جدوجہد کے حوالے سے 1960ء کی عالمی جمہوری بیداری کی لہر کو اپنے عہد طفلی میں بڑے قریب سے دیکھا تھا، کیونکہ وہ 1970ء کی دہائی میں یورپ کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم رہ چکی تھیں۔ اس وقت پورا یورپ ایک انقلابی ہیجان سے دوچار تھا۔ ملکوں ملکوں ہڑتالیں ہورہی تھیں، احتجا جی مظاہرے ہورہے تھے، یورپ کے دارالخلافے ،طلبا، مزدورں اور محنت کشوں کے ہنگاموں کی زد میں تھے۔

نوجوان نسل انقلاب کے گیت گارہی تھی،ایک عہد کروٹ لے رہا تھا۔ ایک مضطرب ہلچل تھی جو امریکہ سے لے کر جاپان کی یونیورسٹیوں تک پھیل چکی تھی۔محترمہ بے نظیربھٹو نے یہ عظیم رزمیہ اپنے بچپن میں برپاہوتے دیکھااور ان کی نظریاتی تربیت میں اس عہد نے بڑے توانا اثرات مرتب کئے، مگر جب وہ خود اس ملک میں برسراقتدار آئیں تو وہ عالمی انقلابی لہر اتر چکی تھی اور محترمہ کو اپنا راستہ ایک انتہائی رجعتی اور ردا نقلابی ماحول میں ڈھونڈھنا پڑا۔محترمہ کا دور فری مارکیٹ اکانومی ، پرائیویٹائزیشن ، ریگن اور مارگریٹ تھیچر کی دائیں بازو کی پالیسیو ں اور دیوار برلن کے گرنے کا دور تھا۔

محترمہ بینظیر بھٹوکے قتل نے بھٹوز کی کرشماتی سیاست اور قیادت کا یک لخت خاتمہ کردیا۔ اس سے پاکستان کی سیاست کے اندر جو خلا پیدا ہوا وہ بدقسمتی سے پاکستان پیپلز پارٹی کی ڈسٹرکٹ کونسل سطح کی قیادت اور پارٹی کے اندر جمہوری کلچر کی عدم موجودگی کی وجہ سے پورا نہ ہوسکا۔

پاکستان پیپلز پارٹی اپنے سیاسی ارتقاء کی تاریخ میں مارشل لاؤں سے مسلسل تصادم اور ٹکراؤ کے باعث اپنے اندر ایک مضبوط اور مربوط جمہوری ڈھانچہ پیدا نہ کرسکی جو محترمہ کی ناگہانی دوری کی صورت میں ایک متبادل جمہوری قیادت سامنے لاسکتی۔

ایسے میں پارٹی کی سطحی لیو ل کی قیادت نے انتخابات میں کامیابی تو حاصل کرلی، مگر نااہلی اور ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے ایک عظیم جمہوری پارٹی کا تیاپانچہ کرکے رکھ دیا۔پاکستان کی تاریخ کی سب بڑی جماعت سمٹ کر ایک صوبے کی حد تک محدود ہو کر رہ گئی اور آج اس کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

آج محترمہ بھٹو کی گیارہیویں برسی ہے،جہاں دنیا بھر میں محترمہ کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا جارہا ہے، وہاں یہ سوال بھی بڑی سنجیدگی سے اٹھایا جارہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سب سے معتبر خاندان’’ بھٹوز‘‘کے سیاسی ورثے کا مقدر کیا ہوگا؟ آیا پاکستان پیپلز پارٹی کا وہ شاندار ماضی، جو تیسری دنیا کے کسی بھی ملک میں جمہوری جدوجہد میں سب سے نمایاں رہا ہے۔

جس نے اپنے اپنے عہدکے تین فوجی آمروں کا سامنا کیا ہے، جس کا لیڈر آج کی مصلحت پسند دنیا میں پھانسی پر جھول گیا، جس کی بیٹی اپنی موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مردانہ وار لڑتی ہوئی شہید ہوگئی۔ اس کا ورثہ ماضی کی گرد کا حصہ بن جائے گا، یا پھر بلاول بھٹو کی شکل میں ایک نئے ذوالفقار علی بھٹو کو جنم دے گا۔

مزید :

رائے -کالم -