ملنے کے نہیں، نایاب ہیں ہم

ملنے کے نہیں، نایاب ہیں ہم
ملنے کے نہیں، نایاب ہیں ہم

  



بی بی شہید بے شمار خوبیوں کا مرقع تھیں۔ ہمدرد دل تھیں دوسروں کی تکلیف پر بے اختیار آنسو رواں ہوجاتے تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ روحانیت اور تصوف کی طرف مائل تھیں۔انہیں صوفیائے کرام سے بے حد محبت اور عقیدت تھی اولیائے کرام کے مزارات پر حاضری سے انہیں قلبی راحت ملتی تھی۔وہ حقیقی معنوں میں درویش صفت خاتون تھیں۔

غریب کی حالت زار دیکھ کر ان کا دل بھرآتا دوسروں کی ہر ممکن مددکیاکرتی تھیں۔1985ء میں بی بی شہید اور میں لندن سے بغداد گئے، حضرت غوث پاک شیخ عبدالقادر جیلانی کے مزار اقدس پر حاضری دی۔ حضرت غوث پاک کا مزار بقعہ نور تھا ، فاتحہ خوانی کی اور نوافل ادا کئے وہاں جو پاکستانی خدمت گاروں کو دیکھا انہیں بے حد مسرت ہوئی اور انہیں سو سوڈالر دے کر ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا اس کے بعد امام ابوحنیفہ کے مزار پر دُعا مانگی اور اپنے تاثرات قلمبند کئے۔اس روحانی سفر کی یہ ابتدا تھی۔

اگلے دن کربلا معلی اور نجف شریف کا سفر کیا۔ حضرت علیؓ کے مزار پر فاتحہ خوانی اور نماز ادا کی۔ اس کے بعد کربلا معلی سے حضرت امام حسینؓ کے مزار پر فاتحہ خوانی کا ثواب حاصل کیا۔حضرت امام حسینؓ کی عظیم قربانی کو یاد کرکے بی بی اشکبار ہوگئیں۔اور عظیم معرکہ شہادت نے حق کی راہ پر چلنے کے عزم کو جلا بخشی۔

2001ء اور 2003ء میں بھی کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری اور ہندوستان ٹائمز کی دعوت پر بی بی شہید نے دہلی کا دورہ کیا۔ دونوں مرتبہ بی بی نے حضرت نظام الدین اولیاء اور اجمیرشریف سے خواجہ معین الدین چشتی کے مزارت پر حاضری دی۔ فاتحہ خوانی نفل ادا کئے۔

چادر اور پھول چڑھائے نفل ادا کئے اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لئے دعائیں مانگیں اس روح پرور تجربہ کے دوران بی بی نے اپنے تاثرات بھی تحریر کئے۔بی بی شہید کو پاک پتن میں بابا فرید شکرگنج سے بڑی عقیدت اور دلی لگاؤ تھا وہ گاہے بگاہے وہاں جا کر اپنی عقیدت کا اظہار کرتی تھیں اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کی دعا مانگتی تھیں۔ عقیدت کے اس سفر میں میں ان کے ہمراہ ہوتا تھا۔

یکم جنوری 2008ء کو اپنی انتخابی مہم کے دوران پاک پتن بابا فرید شکرگنج کے مزار پر حاضری ان کے پروگرام میں شامل تھی۔ -27 دسمبر 2007ء کو انہیں راولپنڈی میں شہید کردیا گیا اور ان کی یہ آرزو بھی شہید ہوگئی۔

-10 اپریل 1986ء کو لاکھوں لوگ بی بی کے استقبال اور ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے لاہور اُمڈ آئے تھے اس بے پناہ ہجوم میں کسی خاتون کے ساتھ نازیبا حرکت کا واقعہ رونما نہیں ہوا ان کی یہ ہدایت تھی کہ فضول اور بے ہودہ نعرے بازی اور خواتین کے ساتھ کسی قسم کا نازیبا برتاؤ نہ ہو پھر لوگوں نے دیکھا پنجاب بھر میں ان کے عظیم جلسوں میں ان کی ہدایات کے مطابق کسی قسم کا ناخوشگوار واقع پیش نہیں آیا خواتین کی عظمت احترام کا یہ شاندار مظاہرہ تھا۔

بی بی شہید کی اپنی زندگی بے شمار مصائب و آلام سے پُر تھی اور انہوں نے حوصلہ اور ہمت سے ناموافق حالات اور جبر کا مقابلہ کرکے اسے شکست دی۔ دوبار پاکستان کی وزیراعظم منتخب ہوئیں لیکن عوام سے ان کا رشتہ کبھی نہ ٹوٹا۔

یہی وجہ ہے کہ اس رشتہ کی رسی کو اسی مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں۔ دل ان کی محبت سے سرشار ہیں اور اہل وطن آئندہ بھی ان کی محبت اور پیار سے بدستور معمور رہیں گے۔محترمہ بے نظیر بھٹو جنوری 1984ء میں لندن آئیں تو اس وقت سے لے کر آخر دم تک میں ان کا رفیق سفر رہا ہوں۔ لندن میرے گھر میں بی بی کی تاریخ ساز تصاویر آویزاں ہیں۔ انہیں دیکھ کر خیال آتا ہے کہ بی بی مجھ سے ہمکلام ہیں ۔ ہر تصویر پر انہوں نے آٹو گراف دئیے ۔جون 1990ء میں لند ن چلا آیا۔ بی بی نے نومولود بختاور کے ساتھ تصویر پر لکھا ۔

’’ڈیئر بیش! بختاور اور میں جمہوریت کی جدوجہد میں آپ کی خدمات کو فراموش نہیں کرسکتیں ۔لہٰذا وطن واپس لوٹ آئیں۔ بے نظیر بھٹونے جون 1990ء میں آفیشل پورٹریٹ کا تحفہ اس آٹو گراف کے ساتھ دیا ’’ڈیئر بشیر ریاض آپ کی برس ہا برس کی حمایت، حوصلہ افزائی نیک خواہشات کے ساتھ بے نظیر بھٹو کی قوت کا موجب بنیں‘‘۔میں گزشتہ اکتوبر لندن میں تھا مجھے اپنے فون سے وابستہ یادیں دامن گیر رہیں۔

میں سوچتا تھا فون کی گھنٹی بجے گی، اور دوسری طرف سے بی بی کی مانوس آوازسنوں گا۔ لیکن افسوس یہ آواز ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئی ہے۔فون کی گھنٹی کبھی نہیں بجے گی اور بی بی کی یادگار تصویریں ہمکلام رہیں گی۔

-18 اکتوبر 2007ء کو پاکستان واپسی سے دو دن قبل دوبئی سے -16اکتوبر کو بی بی نے مجھے یہ ای میل بھیجی۔’’شیڈو! میں آپ کو مس کروں گی 1977ء میں جب آپ سے ملی تھی اس وقت سے اب تک آپ نے پارٹی اور میرے لئے بہت کچھ کیا ۔ اس کے لئے میں آپ کی شکرگذار ہوں۔‘‘

’’ مجھے معاف کیجئے گا اگر میں نے آپ کو ٹھیس پہنچائی ہو، میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ میں نے ہمیشہ آپ کی حمایت اور مدد کی قدر ومنزلت کی ہے اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو! بی بی ‘‘۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کا یہ مختصر پیغام پڑھ کر دل بھر آیا۔ اور پریشان خیالات میں کھو گیا تھا۔پھر وہی ہوا جس کا خوف اور ڈر تھا۔

( مضمون نگار محترمہ بینظر بھٹو کے ترجمان کے فرائض سر انجام دیتے رہے ہیں۔ ان دنوں چیئر مین بھٹو لیگیسی فاؤنڈیشن اور چیئرمین بلاول بھٹوزرداری کے سینئر ایڈوائزر کے طور پر کام کر رہے ہیں)

مزید : رائے /کالم