کراچی میں بدامنی کے بڑھتے سائے، لمحہ فکریہ

کراچی میں بدامنی کے بڑھتے سائے، لمحہ فکریہ
کراچی میں بدامنی کے بڑھتے سائے، لمحہ فکریہ

  

کیا کراچی کے امن کو پھر تباہ کرنے کی سازش ہو رہی ہے؟۔۔۔ پہلے پی ایس پی کے دفتر پر حملہ اور اب سابق ایم این اے علی رضا عابدی کا بہیمانہ قتل خطرے کی گھنٹی بجا گیا ہے۔ کراچی کو محفوظ قرار دینے کے دعوے اپنی جگہ درست ہوں گے، تاہم یہ سمندر ہے نجانے اس کی تہہ میں ابھی کیا کچھ پڑا ہے؟ چین کے قونصل خانے پر دن دیہاڑے دہشت گردوں کا حملہ بھی اِس بات کی نشاندہی کرنے کے لئے کافی تھا کہ کراچی اب بھی اندرونی و بیرونی دشمنوں کے نشانے پر ہے۔

علی رضا عابدی کی ڈیفنس جیسے محفوظ علاقے میں ٹارگٹ کلنگ اِس بات کی گواہی ہے کہ دہشت گرد یا ٹارگٹ کلرز اب بھی ہر جگہ پہنچنے اور نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اب بھی آئے روز مختلف علاقوں سے اسلحہ کے بھاری ذخائر برآمد ہوتے ہیں اور ایک ہی انداز کا پریس ریلیز جاری کر دیا جاتا ہے کہ یہ اسلحہ ایم کیو ایم لندن کے دہشت گردوں نے چھپا رکھا تھا۔ سیاسی طور پر تو کراچی میں بُری طرح کھچڑی پکی ہوئی ہے۔سندھ حکومت اپنی جگہ مسائل کا شکار ہے تو ایم کیو ایم کئی دھڑوں میں بٹ گئی ہے۔

پاک سرزمین پارٹی اپنی الگ مسجد آباد کئے ہوئے ہے،تو تحریک انصاف کراچی پر غلبہ پانے کے لئے اپنے انداز میں ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ گورنر سندھ کراچی کی حد تک حکومت کے اندر حکومت چلانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے انتظامیہ اور پولیس اُلجھن اور دباؤ میں ہو گی۔

ایسے میں علی رضا عابدی کی ٹارگٹ کلنگ بہت سے شکوک پیدا کر رہی ہے۔ بنیادی طور پر وہ ایک جواں سال سیاسی ورکر تھے۔انہوں نے بہت کم عرصے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ پیپلزپارٹی سے ایم کیو ایم میں گئے اور کچھ عرصہ پہلے اُسے بھی خیر باد کہہ دیا۔ ذرائع کے مطابق وہ ایم کیو ایم پاکستان میں پیدا ہونے والے انتشار سے بددل ہو گئے تھے اور انہوں نے سیاست سے ہی لاتعلقی کا اعلان کر دیا تھا۔بعض ذرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ ایم کیو ایم لندن سے رابطے میں تھے، اِس لئے انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

ویسے تو کراچی میں ایسی کوئی ٹارگٹ کلنگ ہو تو اُس کا سراغ کم ہی ملتا ہے۔ کئی برس بعد جا کر پتہ چلتا ہے کہ اِس واردات میں تو فلاں گروپ کا ہاتھ تھا۔ اِس بار اگر ایسا نہیں ہوتا اور رینجرز یا سندھ پولیس قاتلوں تک جلد پہنچ جاتی ہیں، تو یہ بڑی کامیابی ہو گی۔

میرا خیال ہے کہ کراچی کے سیاسی گروپ اِس قتل کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے استعمال نہیں کریں گے،کیونکہ بنیادی طور پر علی رضا عابدی جیسے بے ضرر انسان کو قتل کرنا کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔ یہ سرا سر کراچی کے امن کو تباہ کرنے اور دوبارہ وہاں خوف کی فضا پیدا کرنے کی منصوبہ بندی نظر آتی ہے۔

کراچی کو سیف سٹی منصوبہ بنانے کی باتیں ابھی تک کاغذوں کی حد میں کھڑی ہیں، انہیں عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا۔ کراچی کے گنجان آباد علاقے اور نئی آبادیاں تو رہیں ایک طرف ڈیفنس کے پوش علاقے میں قاتلوں کا اس طرح اسلحہ سمیت دندناتے پھرنا اور واردات کر کے غائب ہو جانا شہر میں امن کے دعویداروں کے لئے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے

یہ سوال بھی جواب طلب ہے کہ جب یہ بات سب کو معلوم تھی کہ علی رضا عابدی کو دھمکیاں مل رہی ہیں تو پھر انہیں سیکیورٹی فراہم کیوں نہیں کی گئی؟انہیں گھر کے سامنے قتل کیا گیا،اس وقت سیکیورٹی گارڈ موجود نہیں تھے۔اہم ترین بات یہ ہے کہ قاتلوں کو اُن کی پوزیشن کا کیسے پتہ تھا؟ گھر کے سامنے آکر مارنا تو صرف اسی صورت میں ممکن ہے، جب معلوم ہو کہ ان کے ہدف نے کس وقت گھر سے باہر نکلنا ہے۔ ظاہر ہے قاتل کئی گھنٹوں تک گھر کے سامنے کھڑے ہو کر تو اپنے ہدف کے باہر آنے کا انتظار نہیں کر سکتے تھے۔

تو کیا روزانہ ان کے معمولات کی ریکی کی جا رہی تھی یا پھر ان کے گھر میں کوئی ایسا فرد تھا، جس نے ان کے گھر سے نکلنے کی مخبری کی۔ پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آور چار تھے۔

ظاہر ہے وہ ایک موٹر سائیکل پر نہیں ہوں گے۔ وہ رینجرز اور پولیس کے مختلف ناکوں سے گزرتے ہوئے ڈیفنس تک کیسے پہنچے یا پھر وہ ایسے قاتل تھے، جنہیں خفیہ راستوں کا بھی پتہ ہے اور یہ بھی علم ہے کہ واردات کے بعد انہوں نے بچتے بجاتے اپنی پناہ گاہ تک کیسے پہنچنا ہے؟

اِس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی کے حالات ماضی کی نسبت بہت بہتر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بڑا واقعہ بھی چونکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یہی کراچی جب بدامنی، ٹارگٹ کلنگ اور مافیاز کی لپیٹ میں تھا تو آئے روز کی ٹارگٹ کلنگ پر کسی کو حیرت نہیں ہوتی تھی، روزانہ بیسیوں لاشے گرتے تھے اور لوگ شہر میں مسلط آفت کا نتیجہ سمجھ کر قبول کر لیتے تھے، مگر وہ دن تو اب قصۂ پارینہ بن گئے۔ اب تو لوگ انہیں یاد بھی نہیں کرنا چاہتے، لیکن اس کا کیا کِیا جائے کہ کوئی ایک واقعہ ایسا ہوتا ہے کہ ساری خوش فہمیاں دور ہو جاتی ہیں۔

اِس واقعہ سے چند روز پہلے پی ایس پی کے دفتر پر حملے میں جو دو نوجوان جاں بحق ہوئے، مَیں نے ٹی وی پر ان کی ماں کو یہ کہتے سنا کہ کراچی کو پھر قاتلوں کے حوالے نہ کریں۔ میرے بچے تو چلے گئے، باقی ماؤں کے بچے تو بچا لیں۔ سوال یہ ہے کہ کراچی کے لوگ پھر کیوں یہ سوچنے لگے ہیں کہ قاتلوں اور دہشت گردوں کا دور واپس آ سکتا ہے۔ سیاست کے لئے اور بڑے شعبے پڑے ہیں، امن و امان پر تو سیاست نہ کی جائے۔ گزشتہ دِنوں ایپکس کمیٹی کا جو اجلاس ہوا اِس میں سندھ حکومت نے حیران کن طور پر گورنر عمران اسماعیل کو نہیں بلایا۔

گورنر وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے اور کئی معاملات ایسے ہوتے ہیں، جو وفاقی حکومت کی معاونت کے بغیر حل ہونا ناممکن ہوتے ہیں، لیکن اتنے اہم فورم اور اجلاس سے گورنر سندھ کو دور رکھ کہ سندھ حکومت نے کیا ثابت کیا اور کیا حاصل ہوا؟ اِس سے تو صاف لگ رہا ہے کہ کراچی کے امن پر بھی سیاست کی جا رہی ہے۔

اِس طرح کی غیر سنجیدگی تو اس سارے کئے کرائے پر پانی پھیر سکتی ہے، جو اب تک کراچی میں پولیس رینجرز اور عوام کی بے شمار قربانیوں کے بعد کراچی کے امن کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ روزانہ ہی یہ خبریں آتی ہیں کہ کراچی میں پھر بھتہ مافیا سرگرم ہو گیا ہے۔ تاجروں کو بھتے کی پرچیاں مل رہی ہیں، اغوا برائے تاوان کے واقعات بھی ہونے لگے ہیں، رہی سہی کسر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات نے پوری کر دی ہے۔

تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ دہشت گرد اور امن دشمن متحد ہو رہے ہیں،جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیاسی قوتوں کی گرفت کمزور پڑ رہی ہے، اگر ایسا ہے تو اس پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔

اچھی بات تو یہ ہو گی کہ سیاسی قوتیں ایسے واقعات پر ایک دوسرے کے خلاف انگلی نہ اٹھائیں، نہ ہی الزام حکومت کو دیا جائے، سب کا دشمن مشترکہ ہے، اُس کا مقصد کراچی کے امن کو تباہ کرنا ہے، یہ وارداتیں اِس امر کا اشارہ ہیں کہ وہ پھر سے شست باندھ چکا ہے۔ اتنی مضبوط انٹیلی جنس اور سخت نگرانی کے باوجود اپنے ہدف تک پہنچنا اور کام کر کے نکل جانا ماضی کے کراچی کی یاد دِلا رہا ہے۔

یہ ڈراؤنا خواب واپس نہیں آنا چاہئے۔اگر علی رضا عابدی کے قتل کو ٹیسٹ کیس نہ بنایا گیا تو مستقبل قریب میں ایسے مزید واقعات بھی ہو سکتے ہیں،کیونکہ خفیہ ہاتھوں کا مقصد ایک بار پھر کراچی میں خوف و دہشت کا دور واپس لانا ہے، خدا نہ کرے اگر ایسے دو چار بھی بڑے واقعات ہو گئے تو کراچی کی محفوظ فضا بے اماں ہو جائے گی۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سمیت پوری حکومت آج کل دن رات آصف علی زرداری کی منی لانڈرنگ کیس میں دفاع کرنے پر لگی ہوئی ہے۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ علی رضا عابدی کے قتل پر ایک روایتی سا بیان دے کر سرخرو ہو گئے کہ آئی جی سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے قاتلوں کا سراغ لگائیں۔ یہ صرف ایک قتل کا سراغ لگانے کی بات نہیں،بلکہ اس سازش پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے،جو ایک بار پھر کراچی کے امن کو تباہ کرنے کے لئے کی جا رہی ہے۔

سب کو معلوم ہے کہ کراچی آپریشن شروع ہوا تو دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کی اکثریت زیر زمین چلی گئی تھی۔ اُن میں سے کچھ قابو آئے اور باقی پورے ملک میں روپوش ہو گئے۔ اب موقع ملنے پر وہ واپس کراچی آ گئے ہوں گے۔

سندھ حکومت کا آج بھی ایجنڈا نمبر ون کراچی کا امن ہی ہونا چاہئے،مگر بدقسمتی سے لگتا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ جب کراچی میں امن بحالی کا کریڈٹ لینے کی باری آتی ہے، تو سب آگے آ جاتے ہیں، لیکن جب دہشت گردی کے واقعات ہوتے ہیں تو اُن کی ذمہ داری کوئی اٹھانے کو تیار نہیں ہوتا۔خود وزیراعظم عمران خان کو بھی ازسر نو کراچی میں امن کی صورتِ حال کا جائزہ لینا چاہئے۔

بہتر ہے کہ وہ ایک بار چیف آف آرمی سٹاف کو ساتھ لے کر وہاں ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلائیں اور ہر پہلو سے اِس بات کا جائزہ لیں کہ کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت کیوں کمزور ہو رہی ہے اور کن اقدامات کے ساتھ اس صورتِ حال پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -