کہاں ہے آیان علی؟۔۔۔

کہاں ہے آیان علی؟۔۔۔
کہاں ہے آیان علی؟۔۔۔

  

آپ نے خبروں میں دیکھا اور پڑھا ہو گا کہ ایک شخص کو ہتھ کڑی لگی ہوئی ہے وہ مردہ حالت میں ہے اور اس کے ہاتھ پیٹ پر بندھے ہوئے ہیں۔ خبر میں بتایا جاتا ہے کہ یہ محکمہ تعلیم کے ایک سینئر آفیسر میاں جاوید احمد کی لاش ہے۔ سب سے پہلا تاثر جو آپ کے دل و دماغ میں پیدا ہوتا ہے وہ شدید تنافر اور کراہت کا ہے۔

آپ حیران ہوتے ہیں کہ ایک مردہ شخص اور وہ بھی معلمی کے مقدس پیشے سے منسلک، دست بجولاں کیوں ہے اور وہ کون سنگدل لوگ ہیں جو اس جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔

مانا کہ مرحوم کرپشن کے جرم میں زیر تفتیش تھا، اس پر الزام تھا کہ اس نے سرگودھا یونیورسٹی کے لاہور کیمپس کا چیف ایگزیکٹو آفیسر ہوتے ہوئے اس کیمپس کی تعمیر و تشکیل کے دوران اپنے اختیارات کا ناجائز اور غلط استعمال کیا تھا۔ اس برس اکتوبر میں اس کو گرفتار کرکے تفتیش کی جا رہی تھی۔

وہ پولیس کی تحویل میں تھا کہ گزشتہ ہفتے اس نے سینے میں درد کی شکائت کی اور اسے سروسز ہسپتال لاہور میں بغرضِ علاج شفٹ کیا گیا تھا۔ لیکن ابھی اس کا علاج جاری تھا کہ اس پر دل کا شدید دورہ پڑا جس سے اس کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ جب اسے مردہ خانے کی طرف لے جایا جا رہا تھا کہ کسی نے اس کی وڈیو بنائی۔اس وڈیو میں اس کی روح قفسِ عنصری سے تو آزاد تھی لیکن دونوں ہاتھ ہتھکڑی میں جکڑے ہوتے ہیں۔

اگلے ہی لمحے یہ وڈیو وائرل ہو گئی۔ مرحوم کی دست بجولاں تصویر بار بار تمام نیوز چینلز پر آکر ان بے درد لوگوں کا ماتم کرتی رہی جنہوں نے زیرِ تفتیش ملزم کی لاش کے ساتھ بھی یہ سلوک کیا۔۔۔ پنجاب کے محکمہ داخلہ کے حکام نے جیل کے ایک سینئر ڈاکٹر، ایک ASI، ایک ہیڈ کانسٹیبل اور ایک کانسٹیبل کو فوری طور پر معطل کر دیا۔

یہ عملہ اس سانحے کے وقت جیل میں تعینات تھا۔۔۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات نے اس سانحے کی ابتدائی رپورٹ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جب جیل کے حکام نے میاں جاوید احمد کو ہسپتال منتقل کیا تو اس کے ہاتھوں میں کوئی ہتھکڑی نہیں تھی۔ ہسپتال میں محکمہء پولیس کے عملے نے جاوید کو ہتھکڑی لگائی۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ جیل حکام کے پاس اس طرح کی ہتھکڑیاں نہیں ہوتیں۔ یہ پولیس والوں کے پاس ہوتی ہیں۔

تاہم پولیس کے جو اہلکار معطل کئے گئے ان کا استدلال تھا کہ جب کوئی ملزم جیل سے ہسپتال شفٹ کیا جاتا ہے تو معیاری طریقہ ء کار (SOP) یہ ہوتا ہے کہ اس کو فوراً ہتھکڑی لگا دی جاتی ہے۔ اور یہ ہتھکڑی، کسی متعلقہ مجسٹریٹ کے حکم کے بغیر نہیں کھولی جاتی۔

یہ خبر بھی اگلے روز میڈیا پر عام ہوئی کہ بنیادی حقوق کے قومی کمیشن (NCHR) کے چیئرمین ریٹائرڈ جسٹس علی نواز چوہان نے مرحوم جاوید احمد کی موت پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے نیب (NAB) کے اعلیٰ افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کمیشن کی ایک ٹیم کو نیب کی حوالاتوں کی انسپکشن کی اجازت دے۔ ریٹائرڈ جسٹس صاحب نے نیب حکام سے یہ مطالبہ بھی کیاہے کہ وہ اس کیس کی مکمل تفتیش کرکے 31دسمبر 2018ء تک انہیں مطلع کریں کہ معاملہ کیاہے۔ راقم الحروف کو معلوم نہیں کہ اس کمیشن کے چیئرمین کے دائرہ اختیار میں یہ بات آتی ہے کہ نہیں کہ وہ نیب کو اس قسم کے احکامات نما سوالات کر سکتے بھی ہیں یا نہیں۔۔۔ کچھ روز پہلے نیب کی حوالات کی وڈیو تمام ٹی وی چینلوں پر دکھائی گئی تھی۔

اس وڈیو کو دیکھ کر یہ اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ حوالات کے کمرے تنگ و تاریک ہیں یا ان پر نگرانی کے بے جا اقدامات کئے گئے ہیں۔قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف میاں شہبازشریف نے شکائت کی تھی کہ ان کو جس کمرے میں رکھا گیا تھا وہاں یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تھا کہ دن ہے یا رات ہے۔۔۔۔ شہبازشریف ٹھیک ہی کہتے ہوں گے کیونکہ نیب کی حوالاتوں میں ایسے روشندان تو نہیں رکھے گئے ہوں گے جن سے دن کی اور رات کی روشنی میں تمیز کی جا سکے۔

اس قسم کی ہائی سیکیورٹی حوالاتوں اور جیلوں میں دن کی روشنی کا اہتمام نہیں کیا جاتا، بجلی کے بلب روشنی دیتے ہیں۔ کسی ملزم کو اس لئے یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ دن نکل آیا ہے یا ہنوز رات ہے۔ ہاں گرمی سردی کا خیال رکھا جاتا ہے۔ گرمیوں میں اے سی (AC) اور سردیوں میں ہیٹرز (Heaters) کا معقول انتظام ہوتا ہے۔ کمرے کھلے اور ہوادار رہتے ہیں۔ یہ ہوا روشندانوں اور کھڑکیوں سے نہیں بلکہ جیل کی راہداریوں سے آتی ہے۔۔۔۔

اگر آپ کو یاد ہوتو، اسی قسم کی شکایت، کچھ عرصہ پہلے ایک سابق وائس چانسلر، پنجاب یونیورسٹی نے بھی کی تھی۔ انہوں نے جیل سے رہائی کے بعد ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ نیب کے واش روموں (غسل خانوں) میں بھی CCTV(کلوز سرکٹ ٹی وی ) کیمرے نصب ہیں۔۔۔ بجائے اس کے کہ وہ یہ پوچھتے کہ یہ کیمرے کیوں لگائے گئے ہیں، ان کی اِن کیمروں کی تنصیب پر حیرانی، حیران کن تھی۔

اگر ان کو انسانی حقوق کا اتنا ہی پاس تھا تو ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ آپ ساری عمر محکمہ ء تدریس سے وابستہ رہے۔ کئی VIPs آپ کے حلقہء درس سے مستفید ہوئے۔ آپ کو ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کرنے کا نوٹس سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی لیا اور کہا کہ معلمی جیسے مقدس پیشے سے وابستہ ایک سینئر استاد کے ساتھ یہ سلوک قابلِ نفرت تھا۔۔۔ فاضل چیف جسٹس سچ کہتے ہیں لیکن اس سکے کا دوسرا رخ بھی تو دیکھیں۔۔۔ کیا کسی سکول، کالج یا یونیورسٹی کے معزز استاد کو یہ حق دیا جا سکتا ہے کہ وہ کرپشن کے الزام میں گرفتار ہو کر جب عدالت میں پیش کیا جائے تواس کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو کسی ایسے استاد محترم کے ساتھ کیا جاتا ہے جس کا کردار بے داغ ہو، جس کے دامن پر کسی قسم کی کرپشن کا کوئی دھبہ نہ ہو۔ ’’کسی قسم کی کرپشن‘‘ کی بہت سی تشریحات و توضیحات کی جا سکتی ہیں۔ مجھے سابق وائس چانسلر صاحب کا بڑا احترام ہے لیکن کیا ان کو خود اپنا احترام کروانا بھی آتا ہے؟ کہا جاتاہے کہ جب تک کسی پر جرم کا ثبوت نہ ملے وہ ’معصوم‘ رہتا ہے۔

لیکن فارسی میں ایک ضرب المثل ہے کہ : ’’تانباشد چیز کے‘ مردم بگوئیند چیز ہا؟‘‘۔۔۔ یعنی جس جگہ سے دھواں اٹھتا نظر آئے وہاں آگ ضرور لگی ہوتی ہے۔ اس آگ کی شدت البتہ کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔

شعلے بھی اٹھ سکتے ہیں اور سلگاؤ بھی ہو سکتا ہے۔لیکن آگ کی کوئی نہ کوئی شکل ضرور موجود ہوتی ہے۔ جناب مجاہد کامران اور مرحوم میاں جاوید احمد پر اگرچہ کرپشن کا الزام تھا لیکن سوال یہ ہے کہ اس کرپشن کی پشت پر ان کے بدخواہوں کا کیس کتنا کمزور یا مضبوط تھا، اس طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔

ہماری مساجد میں قاری اور حافظ صاحبان کی اخلاقیات پر جو الزام ایک مدت سے لگتے آئے ہیں، کیا وہ سب کے سب لغو، غلط اور جھوٹ ہوتے ہیں؟ سکولوں کے بعض اساتذہ کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ایسے مقدمات بے شمار ہیں جہاں اس مقدس پیشہ ء تدریس کو داغدار کرنے کے شواہد آئے روز ملتے ہیں۔۔۔ اب تو وڈیوز کے وائرل ہونے کا دور دورہ ہے۔

خود مجھے کئی وڈیوز ایسے موصول ہوتے ہیں جن کو دیکھا نہیں جا سکتا اور نہ سنا جا سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اس وبا کے پیچھے پورا ایک طبقہ کمربستہ ہے لیکن جن کرداروں کو استعمال کیا جاتا ہے، وہ بھی آخر پڑھے لکھے کردار ہیں، بالخصوص میں جب نوجوان اور تعلیم یافتہ لڑکیوں کو کسی مخربِ اخلاق وڈیو میں دیکھتا ہوں تو اس کو Deleteکرنے سے پہلے سننا اور دیکھنا پڑتا ہے کہ سنے اور دیکھے بغیر کیسے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ اس 4،5منٹ کی وڈیو میں کیا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ اس دور میں نہ صرف ماڈل بلکہ ’’سپرماڈل‘‘ کی اصطلاحیں بھی عام ہو چکی ہیں۔ یہ ماڈل اور سپر ماڈل لڑکیاں آخر کسی نہ کسی سکول اور کالج میں تو پڑھی ہوں گی، کسی غیرت مند والدہ اور والد کی آغوش تو ان کو میسر ہوئی ہو گی۔۔۔ مطلب یہ ہے کہ ’ماڈلوں‘ اور ’سپر ماڈلوں‘ کی یہ برسات ایک دم تو آسمان سے نازل نہیں ہو گئی۔

اگلے روز جب سپریم کورٹ کے فاضل چیف جسٹس نے کسی وکیل سے یہ سوال کیا کہ ’’کہاں ہے وہ آیان علی؟‘‘ تو جواب دیا گیا کہ ’’وہ بیمار ہے‘‘۔۔۔ اس پر جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ : ’’بیمار ہو کر یہ سپر ماڈلز ملک سے باہر چلی جاتی ہیں۔ ان کو واپس لانے کا طریقہ کیا ہے؟‘‘۔۔۔ مجھے اس سوال کی معنویت اور اس کے اندر پوشیدہ ’’حقیقت‘‘ پر بے اختیار ہنسی آئی۔۔۔ اور ساتھ ہی حضرت اقبال کا یہ مصرعہ بھی یاد آیا:

حرم رسوا ہوا پیرِ حرم کی کم نگاہی سے

اس مصرعے میں اقبال کی مراد ’پیرِ حرم‘ سے کیا تھی اور حرم کا کیا مفہوم تھا، میرا خیال ہے، اس کی وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں!

مزید :

رائے -کالم -