بد انتظامی ،کرپشن،اقرباپروری پی آئی اے خسارے میں مسلسل ضافہ

بد انتظامی ،کرپشن،اقرباپروری پی آئی اے خسارے میں مسلسل ضافہ

  

ملتان (نیوز رپورٹر) قومی ایئرلائن کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سال 2018 بھی خسارے اور مشکلات کا سال رہا، پی آئی اے میں بد انتظامی۔ کرپشن۔ اقربا پروری اور 37 طیاروں پر مبنی فضائی بیڑے کے لئیے کئی گنا زائد سٹاف کے باعث ائیر لائن کا مجموعی خسارہ (بقیہ نمبر57صفحہ7پر )

450 ارب روپے تک جا پہنچا۔ تفصیلات کے مطابق پی ا?ئی اے کی رواں سال کے رپورٹ بھی خسارے کی رپورٹ ہے ، گزشتہ برس کی نسبت 15 ارب روپے زائد خسارے کا سامنا رہاسال 2018 کے گیارہ ماہ کے دوران خسارہ 56 ارب 22 کروڑ روپے رہا ایئر لائن کوگزشتہ کئی سالوں سے جاری خسارہ کل ملا کر 450 ارب روپے ہوچکا ہے۔پی آئی اے کی مالی رپورٹ کے مطابق 2018 میں روپے کی قدر میں بارہ فیصد گراوٹ اور ایندھن کی قیمتوں میں 24 فیصد اضافہ بھی ادارے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا قانونی تقاضے پورے نہ کرنے پر اسٹاک ایکسچینج نے پی آئی اے کو ڈیفالٹر قراردیا۔ سال دوہزار اٹھارہ میں اے ٹی آر کے دو طیاروں کوحادثے کی وجہ سے بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -