نیب اور ایف آئی اے حکام پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش ہونگے ، دھمکیوں سے نیب کو خاموش نہیں کرایا جا سکتا : جسٹس (ر) جاوید اقبال

نیب اور ایف آئی اے حکام پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش ہونگے ، دھمکیوں سے نیب کو ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا افتتاحی اجلاس کل(جمعہ) کوہوگا جو یکم جنوری 2019تک جاری رہے گا ۔ نومنتخب چیرمین پی اے سی محمدشہبازشریف کو کوٹ لکھپت جیل لاہور سے اسلام آباد لایا جائے گا، تین روزہ افتتاحی اجلاس میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیرمین کی طرف سے طلب کئے جانے پر نیب اور ا یف آئی اے کے حکام اجلاس میں شریک ہونگے ۔ پارلیمینٹ کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا جب کسی ادارے کے زیرحراست رہنما نے اپنی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں اسی ادارے کے حکام کوطلب کیا ہے ، تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے تین روزہ افتتاحی اجلاس کل سے نیب کے زیرحراست نومنتخب چیرمین پی اے سی محمدشہبازشریف کی صدارت میں شروع ہوگا۔ وزارت توانائی سے بھی بریفنگ طلب کر لی گئی ہے گردشی قرضہ کی تٖفصیلات پیش کی جائیں گی ۔نیب،ایف آئی اے، منصوبہ بندی ترقی، قانون و انصاف،پاکستان انجینئرنگ کونسل، وزارت خزانہ کے نمائندوں کو بھی بلایاگیا ۔اجلاس سے سینٹ سیکرٹری کو بھی آگاہ کر دیا گیا ۔ ا ایجنڈے کے مطابق چیئرمین نیب سے کہا گیا ہے کہ افسر مجاز جوکہ ایڈیشنل ڈائریکٹر کے عہدہ سے کم نہ ہو کو اجلاس میں شرکت کی ہدایت کی جائے۔ اسی طرح ڈی جی ایف آئی اے سے بھی کہا گیا ہے کہ متذکرہ عہدہ کے حامل افسر کو پی اے سی کے اجلاس میں شرکت کی ہدایت کی جائے ۔اجلاس میں 28 دسمبر کو پی اے سی ونگ کی طرف سے سالانہ حسابات کی جانچ پڑتال کے بارے میں بریفنگ دی جائے گی۔یادرہے کہ پی اے سی کو سال 2016-17ء کے سالانہ حسابات کی 80 آڈٹ رپورٹس موصول ہو گئی ہے۔ 31 دسمبر کو آڈیٹر جنرل آف پاکستان بریفنگ دیں گے اور پی اے سی کے لائحہ عمل کے بارے میں اپنی سفارشات سے آگاہ کریں گے۔یکم جنوری کو وزارت توانائی کے سیکرٹری کو بریفنگ کی ہدایت کی گئی ہے۔چیئرمین پی اے سی محمد شہباز شریف نیب کی طرف سے گرفتاری کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔پی اے سی کے اجلاس کی صدارت کے لیے ان کے پروڈکشن آرڈر آج جاری ہو جائیں گے اس بارے میں سپیکر کی باقاعدہ منظوری کے بعد سیکرٹری نیشنل اسمبلی پروڈکشن آرڈر جاری کر دیں گے۔وفاقی وزیر خزانہ بھی پی اے سی کے رکن ہیں۔ ارکان میں پاکستان تحریک انصاف سے سید فخر امام، نصر اﷲ دریشک ریاض فتیانہ ،عامر ڈوگر منزہ حسن، نور عالم خان، خواجہ شیراز محمود، راجہ ریاض احمد ،اعجاز احمد شاہ ۔سینیٹر شبلی فراز پاکستان مسلم لیگ(ن) سے خواجہ محمد آصف، سردار ایاز صادق، رانا تنویر حسین، شیخ روحیل اصغر سینیٹر مشاہد حسین سید ،پاکستان پیپلز پارٹی سے راجہ پرویز اشرف،سیدنوید قمر ،سید طارق حسین،حناء ربانی کھر ،سینیٹر شیری رحمن،بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل متحدہ مجلس عمل کی شاہدہ اختر علی ،سینیٹر طلحہ محمود ایم کیو ایم کے اقبال محمد علی خان اور دیگر جماعتوں کے ارکان شامل ہیں۔

پی اے سی اجلاس

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک ،آئی این پی ) قومی احتساب بیورو(نیب)کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہاہے کہ دھمکیوں کے ذریعے نیب کو خاموش نہیں کرایا جا سکتا،خیبرپختونخوا میں بدعنوانی کے مقدمات کو میرٹ پر نمٹایا جائے گا، بدعنوانی کے خلاف نیب کی زیرو ٹالرنس پالیسی ہے۔چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے خیبرپختونخوا دفتر کا دورہ کیا جہاں ڈی جی نیب خیبرپختونخوا نے انہیں بیورو کی کارکردگی پر بریفنگ دی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ اس سال الماریوں اور فائلوں سے نکال کر 440 ریفرنس دائر کئے، خیبرپختونخوا میں بدعنوانی کے مقدمات کو میرٹ پر نمٹایا جائے گا، میگا کرپشن اور وائٹ کالر مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا ترجیح ہے، نیب کے خلاف منظم پراپیگنڈا کیا جارہا ہے لیکن اپنی کارکردگی سے اس پراپیگنڈے کا مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کے خلاف نیب کی زیرو ٹالرنس پالیسی ہے اور دھمکیوں کے ذریعے نیب کو خاموش نہیں کرایا جا سکتا، قانون کے دائرے میں ہر قدم اٹھارہے ہیں۔

چیر مین نیب

مزید :

صفحہ اول -