ملک کے بہتر مستقبل کے لئے کتب بینی کارجحان بڑھانا ہو گا : کمشنر کراچی

ملک کے بہتر مستقبل کے لئے کتب بینی کارجحان بڑھانا ہو گا : کمشنر کراچی

  

کراچی( رپورٹ/ نعیم الدین) کمشنر کراچی افتخار شہلوانی نے کہا ہے کہ ہمیں اگر ملک کے مستقبل کو بہتر بنانا ہے تو کتابیں پڑھنے کے رجحان کو بڑھانا ہوگا۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا ویژن بھی یہی تھا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بانی پاکستان کے یوم پیدائش کے موقع پر راشد صدیقی کی رہائش گاہ پر کراچی ایڈیٹر کلب کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر بزنس تھنک فورم کے راشد احمد صدیقی ،ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ ،سینیٹر عبدالحسیب خان ،کراچی ایڈیٹر کلب کے صدر مبشر میر اور آغا مسعود نے بھی خطاب کیا،سیکرٹری داخلہ سندھ قاضی کبیر، نیشنل بینک کے سینئر نائب صدر شوکت محمود خٹک نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔ ایڈیٹر کلب کے سیکرٹری جنرل منظر نقوی نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ کمشنر کراچی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوں تو دنیا کے کئی ملکوں کے بانی بڑے لیڈر ہوئے ہیں لیکن قائداعظم نے اپنی قوم پر انمنٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ وہ انتہائی اصول پسند لیڈر تھے اور انہوں نے کبھی بھی برطانوی حکومت کی خوشامد نہیں کی جبکہ مہاتماگاندھی اور نہروبرطانوی حکومت کی خوشامد کرتے تھے۔ قائداعظم نے ہمیشہ کتابیں پڑھنے کی تلقین کی ، یہ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا صرف انفارمیشن دیتا ہے لیکن کتابیں آپ کو علم دیتی ہیں ۔ہمیں پاکستان کو بہتر بنانے کے لئے قائداعظم کے اصولوں کو اپنانا ہوگا۔ انہوں نے قائد کے شہر کراچی کے بارے میں کہا کہ یہ منی پاکستان ہے یہاں مختلف قوموں کے لوگ آباد ہیں اور سب مل جل کر رہتے ہیں اس شہر کی ترقی پورے پاکستان کی ترقی ہے ۔کراچی ایڈیٹر کلب کے صدر مبشر میر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ راشد صدیقی نے بانی پاکستان کی سالگرہ کے موقع پر اس قدر خوبصورت پروگرام ترتیب دیا کہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے عوام گاندھی جی کو پیغمبر کی حیثیت دیتے ہیں لیکن ہمارے ہاں قائداعظم پر نکتہ چینی کی جاتی ہے۔ہندو صرف ایک پوائنٹ پر خاموش ہوجاتے ہیں کہ گاندھی جی نے اچھوتوں کو ووٹ کا حق دینے کے خلاف مرن بھرت رکھا تھا اور اچھوتوں کے لیڈر کواس قدر دباؤ میں لیا گیا کہ انہوں نے ووٹ کا حق واپس کر دیا جب کہ برطانوی حکومت ایسا کرنے کے لیے تیار نہیں تھی قائد اعظم کی زندگی میں ہم کوئی ایسا نکتہ نہیں نکال سکتے جس پر ہم یہ کہیں کہ قائد نے ایسا کیوں کیا ۔قائداعظم نے تمام فیصلے قوم کے مفاد میں کیے وہ جب بیمار تھے تو انہوں نے ڈاکٹروں سے وعدہ لیا کہ ان کی بیماری کا کسی سے ذکر نہیں کریں گے تاکہ ان کی بیماری ملک کی تعمیر میں رکاوٹ نہ بنے۔ قائداعظم پوری دنیا میں اپنی مثال رکھتے ہیں ہم اس وقت ویژنری لوگوں سے محروم ہیں انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کے خوابوں کو کئی شخصیات نے پورا کیا ہے جن میں مولانا عبدالستار ایدھی ،ڈاکٹر ادیب رضوی جیسے لوگ شامل ہیں جنہوں نے خود کو قوم کے لئے وقف کردیا انہوں نے کہا کہ ہم ذاتی حیثیت میں بہت اچھے ہیں لیکن اجتماعی فیصلوں میں بہت کمزور ہیں ہمیں یہ کوشش کرنی ہوگی کہ یہ کمزوری دور کریں ۔سینیٹر عبدالحسیب خان نے کہا کہ قوم کو یکجا کرنے کے لیے ہمیں کردار ادا کرنا ہوگا ہمارے ملک میں عدل اب بحال ہوا ہے ۔ ہمیں قائداعظم کے بتائے ہوئے نقش قدم پر چلنا چاہیے صرف ان کا دن منانے سے کام نہیں بنتا۔ انہوں نے کہا کہ مبشر میر نے ایڈیٹر کلب کی بنیاد ڈال کر ایک اہم کام کیا ہے ۔ڈاکٹر اختیار بیگ نے کہا کہ قائداعظم کی خواہش تھی کہ پاکستان صنعتی ملک کی حیثیت سے پوری دنیا میں ابھرے صرف ایوب خان کے دور میں صنعتی ترقی ہوئی تھی اس کے بعد کی صورتحال ہم سب کے سامنے ہیں انہوں نے کہا کہ اچھے لیڈر ملک کی تقدیر بدل دیتے ہیں ہمیں قائداعظم کی شکل میں عظیم لیڈر ملا تھا۔ بزنس فورم کے سربراہ راشد صدیقی نے کہا کہ قائداعظم کے بتائے ہوئے اصولوں پر اگر ہم عمل کریں تو ہمارا ملک ترقی کی منازل تیزی سے طے کرسکتا ہے ۔ اتحاد ،تنظیم اور یقین محکم ہی ہمیں بحرانوں سے نکال سکتا ہے ۔ آغا مسعود نے کہا کہ پاکستان اس وقت دشمنوں میں گھرا ہوا ہے دشمن کی نظر ہم پر جمی ہوئی ہیں اور وہ ہماری کمزوری سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے اگر قائداعظم کے بتائے ہوئے راستے پر ہم چلیں تو دشمن کی مجال نہیں ہوگی کہ ہمیں شکست دے سکے ۔قبل ازیں نیشنل بینک کے سینئر نائب صدر شوکت محمود خٹک ،راشد احمد صدیقی، کمشنرکراچی افتخار شہلوانی ،ہوم سیکرٹری سندھ قاضی کبیر، سینیٹر عبدالحسیب ، عارف بلگام ،کمانڈر اجمل حسین ،فاروق مظہر ،مختار عاقل اورابن حسن کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی جبکہ شوکت محمود خٹک اور راشد صدیقی کوانرجی ایوارڈ سے نوازا گیا

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -