کراچی میں دہشت گردی کی نئی لہر تشویشناک ہے،قاری محمد عثمان

کراچی میں دہشت گردی کی نئی لہر تشویشناک ہے،قاری محمد عثمان

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)جمعیت علماء اسلام کے صوبائی نائب امیر قاری محمد عثمان نے کہا کہ کراچی میں دہشت گردی کی نئی لہر تشویشناک ہے۔سیاسی اور مذہبی رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے کے احکامات کے بعد اس طرح کے واقعات اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔علی رضا عابدی پر قاتلانہ حملہ بدترین دہشت گردی اور بزدلانہ کارروائی ہے۔علماء کرام سے لی گئی سیکورٹی فوری طور پر انہیں واپس دی جائے ورنہ ہر قسم کی ذمہ داری صوبائی حکومت اور کراچی انتظامیہ پر ہوگی ۔وہ فرنٹیئر کالونی میں جماعت کے بزرگ رہنما حاجی محمد زادہ کی رہائش گاہ پر رکن سازی مہم کی تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔اس موقع پر قاری بخت نذیر، حاجی محمد فائق ،حاجی محمد قوی، قاری نورالرحیم اور دیگر رہنماء موجود تھے ۔قاری محمد عثمان نے کہا کہ شہریوں کی جان ومال،عزت وآبرو کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔منظم سازش کے تحت کراچی میں خونی کھیل رچانے کی مذموم کوششیں کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر علی رضا عابدی کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے ہنگامی اقدامات بروئے کار لائے۔سینٹرل جیل میں دہشت گردوں کا نیٹ ورک دوبارہ فعال ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔انہوں نے ایم کیو ایم کے سابق رہنما ء علی رضا عابدی کے سفاکانہ قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے امن کو ایک بار پھر تباہ کرنے کا ماحول بنایا جارہا ہے۔شرپسند عناصر بیرونی ڈکٹیشن پر روشنیوں کے شہر کو ویران کرنے کے مذموم ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔انہوں نے کہا کہ علی رضا عابدی کا منظم قتل سیکیورٹی فورسز اور سندھ حکومت کی ناقص حکمت عملی کا بین ثبوت ہے۔قاتل آتے ہیں اور اپنا ہدف حاصل کرکے چلے جاتے ہیں مگر ادارے حرکت میں نہیں آتے۔انہوں نے کہا کہ ایک طے شدہ منصوبے اور پروگرام کے تحت کراچی کے امن کو سبوتاژ کیا جارہا ہے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -