کہتے ہیں چیف جسٹس نے ہسپتال کی بحالی کیلئے درخواست نہیں کی،کیایہ لوگ ہوش میں توہیں؟ملک کی بڑی عدالت کی اس طرح قدرکرتے ہیں؟جسٹس اعجاز الاحسن ڈاکٹر پیٹر جیڈیوڈ پر برہم

کہتے ہیں چیف جسٹس نے ہسپتال کی بحالی کیلئے درخواست نہیں کی،کیایہ لوگ ہوش میں ...
کہتے ہیں چیف جسٹس نے ہسپتال کی بحالی کیلئے درخواست نہیں کی،کیایہ لوگ ہوش میں توہیں؟ملک کی بڑی عدالت کی اس طرح قدرکرتے ہیں؟جسٹس اعجاز الاحسن ڈاکٹر پیٹر جیڈیوڈ پر برہم

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے یونائیٹڈکرسچن ہسپتال کی بحالی سے متعلق ازخودنوٹس کی سماعت کے دوران ایف سی کالج کے پروفیسرڈاکٹرپیٹرجےڈیوڈپراظہاربرہمی کیا جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کہتے ہیں چیف جسٹس نے ہسپتال کی بحالی کیلئے درخواست نہیں کی،کیایہ لوگ ہوش میں توہیں؟ملک کی بڑی عدالت کی اس طرح قدرکرتے ہیں؟

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے یونائیٹڈکرسچن ہسپتال کی بحالی سے متعلق ازخودنوٹس کی سماعت کی، چیئرمین یوسی ایچ سٹیرنگ کمیٹی ڈاکٹرجوادعدالت پیش ہوئے،عدالت نے ایف سی کالج کے پروفیسرڈاکٹرپیٹرجےڈیوڈپراظہاربرہمی کیا ۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کس طرح یہ ہسپتال چلے گا؟کیا سپریم کورٹ اسے تحویل میں لے لے؟ڈاکٹر جواد نے کہا کہ یوسی ایچ کی بحالی کیلئے 40 سے 50 کروڑکی ضرورت ہے،6 افرادپرمشتمل سٹیرنگ کمیٹی بنادی جائے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ڈاکٹرپیٹرجےڈیوڈکون ہیں؟ان کے پاس رقم ہے نہیں مگرانابہت ہے، کہتے ہیں چیف جسٹس نے ہسپتال کی بحالی کیلئے درخواست نہیں کی،جسٹس اعجاز الاحسن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیایہ لوگ ہوش میں توہیں؟ملک کی بڑی عدالت کی اس طرح قدرکرتے ہیں؟جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ڈاکٹرپیٹرجےڈیوڈکی تعلیم یہ سکھاتی ہے انہیں؟۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم نے یوسی ایچ کادورہ کیا،وہاں نہ کوئی دوائی تھی،بس ہسپتال کانام تھا،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ یوسی ایچ پرقبضہ کیاگیاتھا،ہم نے واگزارکرایا۔

مزید :

قومی -علاقائی -پنجاب -لاہور -