نیب براڈشیٹ کیخلاف مقدمہ ہارگیا، سوا 8 ارب روپے ادا کرنا ہوں گے

نیب براڈشیٹ کیخلاف مقدمہ ہارگیا، سوا 8 ارب روپے ادا کرنا ہوں گے
نیب براڈشیٹ کیخلاف مقدمہ ہارگیا، سوا 8 ارب روپے ادا کرنا ہوں گے

  

لندن، اسلام آباد ( ویب ڈیسک) نیب املاک ریکور کرنے والی فرم براڈ شیٹ کے خلاف معاہدے کی خلاف ورزی کامقدمہ لندن کی بین الاقوامی مصالحتی عدالت سےہار گیاہے اور اب نیب کوبراڈ شیٹ کمپنی کو 60 ملین ڈالر (سوا 8ارب روپے سے زائد ) ادا کرناہوں گے،کمپنی کی خدمات نواز شریف ،لیفٹیننٹ جنرل اکبر اور کئی دوسرے افراد کونشانہ بنانے کیلئے حاصل کی گئی تھیں، کسی الزام کاثبوت نہیں ملا اور ایک عشرے کے دوران برطانیہ سے ایک روپیہ بھی واپس حاصل نہیں ہوسکا،اس فرم کی خدمات پرویز مشرف کے دور میں برطانیہ اور امریکا میں کم وبیش200 افرادکے اثاثوں کاپتہ چلانے کیلئے حاصل کی گئی تھیں، اس میں جنرلز ، سیاستدانوں ،تاجروں، بے نظیر بھٹو ،آصف زردا ری اور نواز شریف کو خاص طورپر ہدف بنایا گیاتھا،اگرچہ براڈشیٹ نواز شریف کے بیٹے حسن اورحسین نواز کے خلاف کسی غلط کاری کا کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہالیکن اب براڈ شیٹ العزیزیہ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے ان پر عائد کئے گئے 25 ملین ڈالر جرمانے پر نیب پر ایک نیادعویٰ دائر کرنے کی تیاری کررہی ہے، تمام اخراجات ،نقصانات اور جرمانے کو ملا کر نیب کو مجموعی رقم ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

جنگ اور دی نیوز نے جو کاغذات دیکھے ہیں ان سے ظاہرہوتاہے کہ نیب کو مختلف اخراجات کی مد میں60 ملین ڈالر ادا کرنا پڑ سکتے ہیں اور نیب کی جانب سے اس میں کسی طرح کی ہیر پھیر اور چالاکی دکھانے کی کوشش کے نتیجے میں نیب کو اضافی جرمانے ،اخراجات اورسود کی شکل میں زیادہ نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔اس کا آغاز پرویز مشرف کے فوجی انقلاب کے ایک سال بعد2000 میں ہوا جب عوامی عہدے رکھنے والوں بشمول شریف کے خلاف کرپشن الزامات کی تحقیقات کے لئے نیب کا قیام عمل میں لایا گیا۔ مشرف حکومت نے2000 کے آغاز میں اپنے ذاتی اخراجات سے شریف اور200 سے زائد سیاست دانوں، جنرلز اور سرکاری افسران کے اثاثوں کا سراغ لگانے میں مدد کے لئے آئسل آف مین۔رجسٹرڈ براڈشیٹ ایل ایل سی سے ایک معاہدہ کر لیا، جس کے تحت مقررہ اہداف سے وصول شدہ رقم میں سے20 فیصد اسے ادا کی جانی تھی۔ دی نیوز نے وہ دستاویز دیکھی ہیں جس سے ظاہرہوتا ہے کہ درجنوں پاکستانیوں کے اثاثوں کا سراغ لگانے کیلئے معاہدہ پر دستخط کے دن سے نیب معاہدے کے نقصانات کی ذمہ دار ہے۔

درج ذیل اہداف کے خلاف نیب کی جانب سے براڈ شیٹ کو مجموعی طور پر 21589460 امریکی ڈالر دیئے گئے۔ شون گروپ48760 امریکی ڈالر، یکم جنوری 2013 سے انٹریسٹ، لاکھانی 25000امریکی ڈالر، یکم جولائی2005 سے انٹریسٹ، قاسمی 85600 امریکی ڈالر، یکم جولائی2005 ؛ لیفٹنٹ جنرل زاہد علی اکبر381600امریکی ڈالر، یکم جنوری 2016؛ شیرپائو : 210000ڈالر، یکم جنوری 2018؛ انصاری 180000ڈالر، (یکم جنوری 2005) ،158500ڈالر (یکم فروری 2007) اور 1089460ڈالر، شریف ایون فیلڈ( 1500000) اور شریف ( دیگر اثاثے) 19000000۔ ثالثی کے احکامات میں کہا گیا ہے کہ پارٹیوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ایوارڈ کی گئی درج بالا تاریخوں سے 17 دسمبر 2018 تک سود کا حساب لگائیں۔ حالانکہ شرح سود کے نفاذ کیلئے تمام اہداف کی تاریخیں دی گئی تھیں مگر نواز شریف کے بیٹوں کے خلاف کام شروع کرنے کی تاریخیں نہیں دی گئی تھیں۔ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ براڈشیٹ نے شریفوں کے خلاف کام کا آغاز 2003 میں معاہدہ پر دستخط کرنے کے بعد فوری طور پر پہلے اہداف کے تحت کر دیا تھا۔ ذرائع نے اس نمائندہ کو بتایا کہ ان اخراجات سے ہٹ کر براڈ شیٹ فیصلہ اس کے حق میں آنے کے بعد نیب سے قانونی چارہ جوئی اور کیس کے اخراجات کی مد میں مزید10 ملین امریکی ڈالر کا دعویٰ کرے گی۔ مزید برآں براڈ شیٹ سود کی مد میں7 فیصد وصول کرنا چاہے گی، جس کی مجموعی رقم6 ملین امریکی ڈالر کے لگ بھگ ہوگی۔

اخبار کو ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ براڈشیٹ نواز شریف کی سزا اور جرمانہ عائد کئے جانے کے بعد مزید6 ملین امریکی ڈالر کا دعویٰ کرے گی کیوں کہ فرم نے سب سے پہلے کیس پر کام شروع کر کے نیب کو شریفوں کے خلاف دستاویزات فراہم کی تھیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کی دفاعی قانونی فرم ایلن اینڈ ایل ایل پی کو اب تک11 ملین ڈالر اور2.5 ملین ڈالرز کی ادائیگی کی جاچکی ہے۔ نیب کی جانب سے فرم کی خدمات جاری رکھنے کی صورت میں یہ رقم مزید بڑھ سکتی ہے۔ لندن میں ایک ماہ بعد ایک اور سماعت ہونی ہے، جس میں ادائیگی کے شیڈول کا فیصلہ کیا جائے گا۔ براڈشیٹ نے الزام عائد کیا تھا کہ نیب نے2003 میں معاہدہ منسوخ کر دیا تھا۔ اس کی جانب سے نیب کے خلاف تقریباً600 ملین ڈالر کا دعویٰ کیا گیا تھا جبکہ نیب کا کہنا تھا کہ یہ رقم 340ملین ڈالر ہے۔نیب اور براڈ شیٹ ایل ایل سی کے خلاف مقدمے بازی کئی برسوں سے جاری تھی لیکن گزشتہ سال جولائی میں آخری سماعت چار روز ہوئی، جہاں سابق انگلش کورٹ آف اپیل جج سر انتھونی ایونز کیو سی نے چارٹرڈ انسٹی ٹیوٹ آف آربیٹریشن کے رولز کے تحت لندن میں کیس کی سول آربیٹریٹر کے طور پر سماعت کی۔ کولوراڈو بزنس مین جیری جیمز نے آف شور کمپنی کے طور پر براڈ شیٹ ایل ایل سی قائم کی تھی۔ انہوں نے2005 میں آئزل آف مین میں لکویڈیشن پروسیڈنگز کیلئے کیس فائل کیا، پہلے اسے تحلیل کیا اور پھر اسے ریوائزڈ کیا۔ بعد ازاں انہوں نے اسی نام کے ساتھ کولوراڈو کمپنی قائم کی اور2008 میں نیب سے ایگریمنٹ پر مذاکرات کئے تاکہ 2.25 ملین ڈالر کا تنازع طے کیا جا سکے۔ نیب نے یہ رقم ادا کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جیمز کا پیرس ہوٹل کی پانچویں منزل کی بالکونی سے چھلانگ لگانے کی وجہ سے2011 میں انتقال ہو گیا تھا۔ براڈ شیٹ ایل ایل سی لندن آفس نے نیب کے ساتھ 2.25 ملین ڈالر کی جیمز کی سیٹلمنٹ کے خلاف یہ موقف اختیار کرتے ہوئے کیس دائر کیا کہ دونوں فریقین نے دھوکہ دیا۔

براڈ شیٹ نے موقف اختیار کیا کہ نیب نے کنٹریکٹ کی شرائط کی خلاف ورزی کی اور نوٹیفائی کئے بغیر سیٹلمنٹ میں داخل ہوئے۔ جس کی وجہ سے اسے طے شدہ شیئر سے محروم کر دیا گیا۔ اگست 2016 میں انٹرنیشنل ٹربیونل جج سر انتھونی ایونز نے براڈشیٹ کے دلائل کو برقرار رکھا کہ 2008 کی سیٹلمنٹ اس کیلئے بائنڈنگ نہیں تھی اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت جیمز کے پاس کمپنی کی جانب سے اقدام کرنے کی کوئی اتھارٹی نہیں تھی۔ یہ بھی قرار دیا گیا کہ پاکستان نقصان کی ادائیگی کرنے کا پابند ہے کیونکہ نیب نے براڈ شیٹ کے ساتھ غلط طور پر ایسٹ ریکوری ایگریمنٹ کو ختم کیا اور کنٹریکٹ کی خلاف ورزی کی۔ یہ کہا گیا کہ نیب اور ایڈم جیمز کے درمیان پے منٹ ایگریمنٹ بھی شرمناک تھا۔

رپورٹ کے مطابق یہ قرار دیا گیا تھا کہ براڈ شیٹ ہرجانے کی مستحق ہے لیکن اس کے مکمل حجم کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں اس وقت پہنچا جب براڈ شیٹ ایل ایل سی نے معزز عدالت سے درخواست کی کہ پانامہ پیپیرز پر جوائنٹ انویسٹی گیشن (جے آئی ٹی) کے والیوم ٹین کی کاپی جاری کی جائے، پاکستان کے اٹارنی جنرل (اے جی پی) انور منصور خان اور پراسیکیوٹر جنرل نیب اصغر حیدر دونوں نے جے آئی ٹی رپورٹ کے والیوم ٹین کو حاصل کرنے کے حوالے سے براڈ شیٹ کی دلیل کی مخالفت کی۔ براڈ شیٹ ایل ایل سی کے قونصل لطیف کھوسہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ اگر جے آئی ٹی رپورٹ کا والیوم ٹین فراہم نہ کیا گیا تو اس کا آربیٹریشن پر منفی اثر پڑے گا، جو سر انتھونی ایونز سول آربیٹریٹر آف انٹرنیشل آربیٹریشن برطانیہ کے سامنے زیر التوا ہے۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ 10جولائی 2017 کو تین رکنی بنچ نے پاناما لیکس کیس کی سماعت کے دوران یہ حکم جاری کیا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کا والیوم ٹین بدستور کانفیڈینشل رہے گا۔

مزید : برطانیہ /علاقائی /اسلام آباد