قصو کے بعد سیالکوٹ میں بھی بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والا گروہ متحرک

قصو کے بعد سیالکوٹ میں بھی بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والا گروہ متحرک
قصو کے بعد سیالکوٹ میں بھی بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والا گروہ متحرک

  

لاہور (ویب ڈیسک) قصور میں بچیو ں کے زیادتی کے قتل کے واقعا ت کے بعد ضلع سیالکو ٹ کے نواحی گاؤں میں بھی بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کر نے والا گروہ متحرک ہو گیا ہے۔ ایک سال قبل دو کم سن بچوں کو بد فعلی کے بعد قتل کر نے والے با اثر ملزما ن سیاسی آشیر باد ہونے کی وجہ سے مقامی پولیس کی گرفت سے دور ہیں، متاثرہ نے الزا م عائد کیا ہے کہ پولیس کی جانب سے بھاری رشوت لی گئی ہے اور ہمیں مقدمات کی پیروی نہ کرنے پر تشدد بھی کیا گیا، جبکہ قتل کرنے اور دیگر بچوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلو ک کر نے کی د ھمکیاں دی جاری ہیں۔ آئی جی پنجا ب اور چیف جسٹس سے نوٹس لینے کی اپیل ہے۔

روزنامہ خبریں کے مطا بق سیالکو ٹ کے نواحی گا ؤ ں محلہ غوثیہ کا رہائشی ارشد علی جو مقامی علاقہ میں محنت مزدوری کرتا ہے اور چار بچوں کا باپ ہے۔ ارشد علی کا کہنا ہے کہ اسکا 6سالہ بیٹا علی حمزہ اور اسکے ہمسایہ سید فاروق حیدر کا 7سالہ بیٹا ذیشان حیدر ایک سال قبل گھر سے باہر ٹویشن پڑ ھنے گئے اور لاپتہ ہوگئے جہاں رات گئے تک ان کوکوئی سراغ نہ مل سکا، اس دوران محلے ایک شخص خالد چیمہ نامی نے بتا یا کہ مکی کے کھیتو ں میں د یکھوں تو موقع پر پہنچنے تو دونوں معصوم پھولوں کی برہنہ لاشیں پڑھی تھی جسے پو لیس نے پوسٹ ما رٹم کے لئے مردہ خا نہ میں منتقل کیا اور ابتدا ئی طو ر پر تفتیش میں معلوم ہواہے جس شخص نے مکی کے کھیتوں میں بچو ں کی لا شوں کے با رے میں بتا یا تھا اسکے گھر پو لیس نے چھا پہ مارا تو بچو ں کے کتابیں اور کپڑے بھی برآمد ہو گئے جس پر پو لیس نے ملزم خا لد چیمہ اور مر تضیٰ، منظور، لیا قت، نعیم وغیر ہ کو حرا ست میں لیا تو ملزما ن نے بچو ں کے ساتھ ذیا دتی کے بعد قتل کر نے کا اعترا ف کر لیا۔

متاثرہ شخص نے بتا یا کہ اسکے بیٹے علی حمزہ اور اسکے دوست ذیشان حیدر کواجتما عی بد فعلی کے بعد ملزم خا لد چہمہ کے کہنے پر قتل کیا گیا ،ارشد علی نے الزا م عا ئد کیا ہے کہ جب وہ تھا نہ جا تا تھا تو پو لیس اسکے ساتھ ایسا سلو ک کرتی تھی جسے وہ ملزم ہواور پو لیس معصو م بچو ں کے قاتلو ں کو کرسی پر بیٹھا کر ر کھتی جبکہ ملزمان کو مقامی سیا سی افرا د کی مبینہ طو ر پر سر پر ستی بھی حا صل ہے جس وجہ سے اس وقت کے ایس ایچ او جاوید گجر اور مقد مہ کے تفتیشی فیا ض خان نے لا کھو ں رو پے رشوت لی ہے اور ملزما ن کو جب تک تھا نہ میں ر کھا پروٹوکو ل د یتے ر ہے اور اب نا قص تفتیش کی اور بچو ں کو قتل کر نے والے تینو ں ملزما ن کمزور مشل بنے کی وجہ سے عدا لت سے وقوعہ کے چا ر ماہ بعد ضمانت ہو گئی جس کے بعد ملزما ن نے صلح کر نے کے لئے ارشد علی کے گھر میں دا خل ہو کر اسکی بیو ی بچو ں کو تشد د کا نشانہ بنا یا جس کا مقامی پو لیس نے ایک اور ایف آئی ار نمبر 680/18 در ج کی تو ملزما ن نے ایک ماہ بعد دو با رہ ارشد علی کو تشد د کا نشانہ بنا یا جس کا پو لیس نے مقد مہ نمبر 273/18در ج کیا اور دو نو ں مقدما ت میں پولیس نے ملزما ن کو تا حال گرفتا ر نہ کیا گیا۔

متا ثر ہ کا کہنا ہے با اثر ملزما ن اب نہ تو عدا لت جا نے د یتے ہیں اور صلح کے لئے قتل سیاسی افرا د سمیت د یگر پو لیس افسرا ن کو بھی د با ؤڈال ر ہے ہیں جبکہ بچو ں کوذیا دتی کے بعد قتل کر نے والامقد مہ نمبر 286/17میں تفتیشی افسر کہتا ہے کہ مقد مہ خارج ہو چکا ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -