شہباز شریف کی وہ خوبیاں جو شاید کوئی نہیں جانتا 

شہباز شریف کی وہ خوبیاں جو شاید کوئی نہیں جانتا 
شہباز شریف کی وہ خوبیاں جو شاید کوئی نہیں جانتا 

  

شریف خاندان پر مشکل وقت آیا تو کئی پرانے ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ گئے ۔ کچھ نے الیکشن سے پہلے طاقت کا توازن بگڑتا دیکھ لیا تھا کچھ ابھی تک سوچ بچار میں ہیں۔ الیکشن سے پہلے سابق ترجمان پنجاب حکومت زعیم قادری نے حمزہ شہباز کو للکارا تھا ۔ٹھیک سے یاد کروں تو سخت الفاظ تھے مفہوم جن کا یہ تھا کہ لاہور شہر کسی کی جاگیر نہیں۔ زعیم قادری الزامات کے میدان سے جب الیکشن کے میدان میں اترے تو اپنے آپ کو بے بس پایا۔ لاہور کے جس حلقے سے وہ قومی اسمبلی کا الیکشن لڑرہے تھے مجھے وہاں ٹی وی کے لیے دو پروگرام کرنے کا اتفاق ہوا،وہاں صورتحال یہ تھی کہ لوگ زعیم قادری کے نام سے واقف نہ تھے یاد رہے اس سے پہلے وہ اسی حلقے سے وہ ن لیگ کی ٹکٹ پہ کئی مرتبہ صوبائی اسمبلی کی نشست جیت چکے تھے۔ مگر شریف خاندان کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کا موقف لیے زعیم قادری عام انتخابات میں چند سو ووٹوں سے آگے نہ بڑھ سکے۔

پچھلے دور میں ن لیگ کی ٹکٹ سے ممبر صوبائی اسمبلی بننے والے وسیم قادر جو تاحال ن لیگ کی بدولت ڈپٹی مئیر لاہور ہیں ،نے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کر کے اپنا قبلہ درست کیا ہے۔ اب وہ پاکستان تحریک انصاف کے کھلاڑی بن چکے ہیں، انھوں نے حمزہ شہباز کے ساتھ ہاتھا پائی کی ایک داستان وزیراعلی سے پہلے ایک صحافی کو سنائی جو دو دن میں ہر ٹی وی سکرین پر سنائی گئی۔

مگر واقفان حال اس واقعے کے بالکل برعکس کہانی سناتے ہیں ۔حمزہ شہباز کو قریب سے جاننے والے جانتے ہیں کہ مزاج میں تحمل اور برداشت کے حوالے سے وہ اپنے والد شہباز شریف پر بھی سبقت رکھتا ہے۔ خود میں نے کئی مرتبہ حمزہ شہباز سے ایسے گرما گرم سوالات پوچھے ہیں جن پرکوئی بھی سیاست دان سیخ پا ہوجاتا مگر حمزہ شہباز نے تحمل اور سلیقے والی روایت برقرار رکھی۔شہباز شریف اقتدار میں تھے حمزہ شہباز نے انٹر کے امتحان دیے اور رزلٹ سے ایک دن پہلے کنٹرولر بورڈ حمزہ شہباز کے نتائج لے کر شہباز شریف کے پاس آیا اور بتایا کہ آپ کے بیٹے نے امتحانات پاس کر لیے ہیں۔ شہباز شریف نے یہ خبر سننے کے بعد پوچھا ابھی تو رزلٹ آئے نہیں ۔کنٹرولر نے بتایا نتائج تو کل آنے ہیں ۔میں نے سوچا یہ خوشی کی خبر آپ کو پہلے دے دوں۔ 

شہباز صاحب نے شاباش کی امید میں آئے اس کنٹرولر کو کہا یا تو سارے بچوں کے نتائج ان تک ابھی پہنچائیں یا سیٹ چھوڑ دیں ۔ انعام کے لیے آئے اس آفیسر کو اگلے دن اپنی سیٹ سے ہاتھ دھونا پڑا۔سابق وزیراعلٰی پنجاب پابند سلاسل کیے گئے ہیں مگر وہ اپنے ذوق مطالعہ کو ڈسٹرب نہیں ہونے دیتے ،اسمبلی سیشن،پارٹی میٹنگ سے فراغت پائیں تویادوں کی پٹاری سے کئی واقعات سامعین کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ وہ وزیر اعلٰی تھے تو سیالکوٹ میں رشتہ داروں کی شادی پر فیملی گئی ہوئی تھی جب رات کے آخری پہر فیملی شادی میں شرکت کر کے واپس لوٹی تو شہباز شریف نے پوچھا اتنے دیر کیوں ہوئی ۔بتایا گیا ٹریفک کارش بہت زیادہ تھا ۔ شہباز شریف کو مگر یہ بات ہضم نہ ہوئی ۔اگلے دن ضلع کے افسران سے شادی کی تقریب کا پوچھا گیا تو پتا چلا فنکشن رات دیر تک چلتا رہا جبکہ قانون کے مطابق اسے رات دس بجے تک ختم ہونا تھا۔ متعلقہ ڈی سی او اور افسران سے پوچھا گیاتو انہوں نے جواب دیا کہ آپ کی فیملی کا فنکشن تھا اس لیے ۔۔۔مگر شہباز شریف اس پہ مطمئن نہ ہوئے اسی وقت افسران کو قانون کے مطابق کاروائی کرنے کا کہا ۔ اسی طرح شہباز شریف کے ایک انکل آج تک ان سے ناراض ہیں۔ ان کے دور میں ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن ہوا تو انکل کو لگا شہباز شریف وزیراعلٰی ہیں اس لیے اس آپریشن کے اثرات ان تک نہیں آئیں گے مگر ایسا نہ ہوا۔ وہ ناراضی آج تک قائم ہے۔ کل شہباز شریف اقتدار میں تھے اصول پسندی کی باتیں کرتے تھے آج قید میں ہیں انہیں ان کے پرانے ساتھیوں کے متعلق بتایا جاتا ہے کون پارٹی چھوڑ گیا کون دوسرے ملک چلا گیامگر پھر بھی وہ اصول کی باتیں کر رہے ہیں لوگوں کو اقتدار کا نشہ چڑھتا ہے یہ عجیب سیاستدان ہے جو قید میں بھی میرٹ کے واقعات نہیں بھول رہا۔ 

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔

مزید :

بلاگ -