اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 100

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 100

  

راجہ ارجن کو سومنات کے شکست خوردہ سازشی پنڈت کا پیغام پہنچ چکا تھا اور گنگو مخبر بھی وہیں ایک کونے میں بیٹھا تھا۔ راجہ ارجن نے اپنے سب سے عقل مندرشی سے پوچھا کہ پنڈت برج داس نے جو منصوبہ اور شرط پیش کی ہے کیا اس پر عمل کرنے سے مسلمانوں سے سومنات کی تباہی کا بدلہ لیا جاسکے گا؟

مہارشی نے ایک پستک کھول کر سنسکرت کے کچھ اشلوک پڑھے اور کہا

’’مہاراج! سومنات کاپنڈت برج داس بڑا گیلانی دھیانی ہے اس نے جو کچھ کہا ہے۔ اس پر فوراً عمل شروع کردینا چاہیے۔‘‘

سومنات کے برج داس نے راجہ ارجن کو پیغام بھیجا تھا۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 99 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’راجہ ارجن! مسلمانوں نے ہمارے سب سے مقدس مندر کی اینٹ سے اینٹ بجادی ہے۔ ہمارے مقدس بتوں کو پاش پاش کردیا ہے۔ دیوتا سومنات اس ذلت کا بدلہ لینے اور اپنے استھان کو پھر سے آباد کرنے کے لئے بے تاب ہے۔ اس نے مجھے خواب میں آکر حکم دیا ہے کہ راجہ ارجن سے کہو کہ مسلمان فوجیوں کی بیویاں اور لڑکیاں جو گوالیار میں رہ رہی ہیں ان میں سے جو سب سے زیادہ خوبصورت مسلمان لڑکی ہے اس کو اغوا کرو اورمیرے پاس سومنات پہنچانے کا بندوبست کرو۔ میں اس لڑکی سے شادی کروں گا۔ جب اس مسلمان لڑکی کو بچہ ہونے والا ہوگا تو ہم اسے استھان پر لے جاکر ذبح کردیں گے جہاں دیوتا سومنات کا سب سے بڑا بت رکھا ہوتا تھا۔ اس مسلمان لڑکی کی قربانی دینے کے بعد سومنات کو آکاش کے دیوتاؤں کی امداد حاصل ہوجائے گی پھر آکاش کے تمام دیوتا اپنی گندھیروں کی فوج لے کر زمین پر اتر آئیں گے اور مسلمانوں کے سارے کے سارے لشکر کو نیست و نابودکرکے مندر میں سومنات کا ایک نیا بت آسمان سے لاکر رکھ دیں گے۔ اس لئے اے راجہ ارجن میں تمہیں دیوتا سومنات او رہندوستان کے سارے ہندوؤں کی طرف سے حکم دیتا ہوں کہ اس کام کو جتنی جلدی ہوسکے سرانجام دے اور کسی مسلمان امیر لڑکی کو اغوا کرکے فوراً میرے پاس پہنچایا جائے۔‘‘

گوالیار کے راجہ ارجن نے سومنات کے تباہ حال پنڈت کا فرمان ملتے ہی اپنے منتریوں اور رشیوں سے صلاح مشورہ کرنے بیٹھ گیا۔ اس کے محل پر مسلمان لشکر کا قبضہ تھا مگر چونکہ اس نے سلطان محمود کی اطاعت قبول کرلی تھی اس لئے اس کا محل اسے دے دیا گیا تھا جہاں وہ اپنے درباریوں کے ساتھ ایک محکوم راجہ کی زندگی بسر کررہا تھا۔ مگر جیسا کہ پہلے لکھ چکا ہوں وہ اندر ہی اندر سلطان محمود کی طاقت کو تباہ کرنے اور سومنات کے مندر کا انتقام لینے کے لئے کھول رہا تھا۔

اب اسے سومنات کے پنڈت کی طرف سے اشارہ ملا تو وہ اس شرط کو پورا کرنے کے لئے تیار ہوگیا۔

گوالیار میں محل کے اندر ایک چھوٹا سا مندر تھا جہاں راجہ اور اس کی رانی جاکر پوجا کیا کرتے تھے لیکن اب اس مندر میں بھی کوئی مورتی نہیں تھی۔ وہاں صرف ایک بوڑھا ہندو پجاری رہتا تھا جس کو گھنٹیاں بجانے اور سنکھ بجانے کی اجازت نہیں تھی۔ ایک روز رات کو راجہ ارجن نے اس ویران مندر کے پجاری کو اپنے محل میں بلایا اور اس سے پوچھا کہ کیا وہ بھی چھپ کر مندر میں خفیہ مورتی سامنے رکھ کر پوجا کرتا ہے؟

بوڑھے پجاری نے کہا’’ہاں راجہ! اس لئے کہ ہم مجبور ہوگئے ہیں۔ مگر مندروں کے اجڑنے سے دیوتا کہیں فرار نہیں ہوسکتے۔ دیوتا اسی مندر میں ہیں اور وہ بہت جلد مسلمانوں سے اپنی توہین اور تباہی کا بدلہ لیں گے۔‘‘

راجہ ارجن نے پجاری سے کہا ’’وہ وقت آگیا ہے۔‘‘

اور پھر راجہ نے پجاری کو سومنات کے مندر کا پیغام سنایا اور پوچھا کہ کسی مسلمان امیر کی کوئی کسی حسین شہزادی کیسے حاصل کی جاسکتی ہے؟ بوڑھے پجاری کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس نے کہا

’’مہاراج! ان دنوں سلطان محمود کچھ دنوں کے لئے غزنی واپس گیا ہوا ہے۔ غزنی کے لشکریوں اور امراء کی بیویاں شہزادیاں قلعے کے محلوں میں رہتی ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ کبھی کبھی شام کو مسلمان امیروں اور فوجیوں کی لڑکیاں محافظوں کے ساتھ دریا پر نہانے آتی ہیں۔ آپ حکم کریں۔ میں اپنے آدمیوں کی مدد سے ان میں سے سب سے حسین شہزادی کو اغوا کرکے آپ کے پاس پہنچادوں گا‘‘

راجہ ارجن نے کہا ’’سومنات دیوتا کی مدد تمہارے ساتھ ہوگی لیکن مسلمان لڑکی کو اغوا کرنے کے بعد میرے پاس لانے کا خطرہ مت مول لینا۔ تمہیں اس لڑکی کو جنگل کے کسی خفیہ ٹھکانے میں چھپا کر مجھے خبر کرنی ہوگی۔ میں خود اپنے بھروسے کے آدمیوں کے ساتھ مسلمان شہزاد کو سومنات کے پنڈت کی خدمت میں روانہ کروں گا‘‘

پجاری بولا ’’ایسا ہی ہوگا مہاراج! مہادیو اور ہری کرشن ہمارے ساتھ ہیں۔ مسلمانوں سے اپنے دیوتاؤں کی ذلت کا بدلہ لینے کا وقت آن پہنچا ہے۔ میں جلد آپ کو خوشخبری سناؤں گا۔‘‘

سومنات کے پنڈت کا مخبر گنگو ابھی تک راجہ گوالیار کے محل میں ہی تھا۔ شاہی مندر کے مکار پجاری نے اپنے آدمیوں کی میٹنگ بلائی اور ان میں سے چار طاقتور اور تجربہ کار تلوار بازوں کو چنا اور انہیں حکم دیا کہ وہ معلوم کریں کہ مسلمانوں کے سرداروں کی جو لڑکیاں کبھی کبھی شام کو قلعے سے نکل کر دریا پر نہاتے آتی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ خوبصورت کنواری لڑکی کون ہے۔

یہ لوگ مچھیروں کا بھیس بدل کر دریا کے کنارے جاکر مچھلیاں پکڑنے میں مصروف ہوگئے۔ انہوں نے وہاں ایک چھوٹی سی جھونپڑی بنالی۔ انہیں تین دن گزرگئے تھے۔ وہاں مچھلیاں پکڑتے کہ ایک روز قلعے کی جانب سے چار مسلمان سپاہیوں کے ساتھ چھ سات عورتیں دریا پر نہانے کے لئے آتی دکھائی دیں۔ چار مچھیروں میں سے ایک نے دریا میں ڈبکی لگائی اور اس مقام پر پہنچ گیا جہاں مسلمان عورتیں نہارہی تھیں۔ اس نے دیکھا کہ ایک لڑکی ان میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی۔ وہ اپنی سہیلیوں سے باتیں بھی کررہی تھی۔ ان کی گفتگو سے معلوم ہوتا کہ اس لڑکی کا نام شگفتہ ہے اور وہ غیر شادی شدہ ہے۔ مچھیرا دریا کے پانی میں دوبارہ ڈبکی لگا گیا اور دریائی سرکنڈوں کے بیچ سے نکل کر اپنے ساتھیوں کے پاس آگیا۔(جاری ہے )

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 101 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار