اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 67

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 67
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 67

  

ایک دن کسی بزرگ نے ایک لونڈی خریدی۔ جب رات ہوئی تو لونڈی سے کہا ’’کنیز! میرا بستر کردے، تاکہ میں سوجاؤں۔‘‘

لونڈی نے عرض کیا ’’اے خواجہ! کیا تیرا بھی کوئی مولا ہے؟‘‘

بزرگ نے کہا ’’ہاں ہے۔‘‘

لونڈی نے پوچھا ’’کیا وہ بھی سوتا ہے یا نہیں‘‘

بزرگ نے جواب دیا ’’نہیں، وہ نہیں سوتا‘‘

اس پر لونڈی نے کہا ’’’’تو پھر تمہیں شرم نہیں آتی کہ تمہارا مولیٰ تو جاگے اور تم سوئے رہو۔‘‘

لونڈی کی اس بات سے بزرگ بڑے متاثر ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے روبروتوبہ کی اور لونڈی کو آزاد کردیا۔

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 66 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

***

کہتے ہیں ایک بار بہت خشک سالی ہوئی۔ سب لوگ دعا کرتے تھے مگر بارش نہ ہوئی۔ اس عہد کے بزرگ حضرت شیخ نظام الدین ابوالمویدؒ نے اپنی والدہ کے دامن کا ایک دھاگہ ہاتھ میں لے کر دعا کی ’’ خداوند! یہ اُس ضعیفہ کے دامن کا دھاگہ ہے جس پر کبھی نامحرم کی نظرنہ پڑی۔ اس کی حرمت سے مینہ برسادے۔‘‘ شیخ کے اتنا کہتے ہی بادل اُمڈے اور بارش ہوگئی۔

***

حضرت منصور عمادؒ کے عظیم المرتبت ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوئی کہ ایک مرتبہ راستہ میں کاغذ کے ایک پرزہ جس پر بسم اللہ تحریر تھا، پڑا ہوا ملا۔ آپ نے خدا کے علام کی عظمت کی وجہ سے اس کی گولی بنا کر نگل لی۔اسی رات آپ نے خواب میں دیکھا کہ باری تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے تیرے لئے حکمت و دانائی کی راہیں آج سے اس لئے کشادہ کردیں کہ تو نے ہمارے نام کی تعظیم کی۔ چنانچہ اس کے بعد آپ ایک عرصہ تک وعظ و تبلیغ میں مصروف رہے۔

***

حضرت عبدالقادر جیلانیؒ اٹھارہ سال کی عمر میں والدہ ماجدہ کی اجازت سے تعلیم کی غرض سے بغداد تشریف لے جانے لگے تو والدہ ماجدہ نے چالیس اشرفیاں ان کی صدری کے اندر چھپا کر سی دیں او ران کو سچ بولنے کی نصیحت کرکے رخصت کردیا۔ راستہ میں ڈاکہ پڑا، سارا قافلہ لٹ گیا۔ایک ڈاکو نے ان سے پوچھا ’’تیرے پاس بھی کچھ ہے۔‘‘

آپ نے فرمایا ’’ہاں، چالیس اشرفیاں ہیں۔ جو صدری کے اندر سلی ہوئی ہیں‘‘ اس ڈاکو کو بہت تعجب ہوا کہ اس لڑکے نے ایک ڈاکو کے سامنے مال کا اقرار کیوں کرلیا۔ اس پر وہ ڈاکو حضور کو اپنے سردارکے پاس لے گیا۔ آپ نے سردار کے پوچھنے پر بھی اشرفیوں کا حال سچ سچ بیان کردیا۔سردار حیران ہوکر بولا ’’ہم قزاق ہیں، جو مال ملتا ہے لوٹ لیتے ہیں پھر تم نے اپنی اشرفیوں کا بھید چھپایا کیوں نہیں؟‘‘

آپ نے فرمایا ’’والدہ نے چلتے وقت سچ بولنے کی نصیحت فرمائی تھی مَیں مخفی کیسے رکھتا۔‘‘

یہ سنتے ہی ڈاکوؤں کا سردار رونے لگا اور اس نے کہا کہ یہ لڑکا اپنی والدہ کے حکم پر اتنا چلتا ہے اور میں خدا کے حکم سے غافل ہوں۔ یہ کہہ کر اس نے آپ کے ہاتھ پر توبہ کی اور لوٹ کا سب مال قافلہ والوں کو واپس کردیا۔

***

حضرت نظام الدین اولیاؒ اپنی بیوہ والدہ کے ساتھ رہتے تھے۔ اس وقت ان کی عمر پانچ برس تھی۔ گھر میں بسراوقات کے لئے کچھ اثاثہ نہ تھا۔ والدہ، بہن خود اور ایک لونڈی چار کھانے والے تھے۔والدہ سوت کات کر فروخت کرتیں تو گزارہ ہوتا تھا۔ بار ہا ایسا ہوتا کہ سوت فروخت نہ ہوتا۔ اس لئے گھر میں فاقہ ہوتا۔ اس روز والدہ محترمہ فرماتیں ’’بابا نظام! آج خدا کے مہمان ہیں۔‘‘

اس فقرہ کو سن کر آپ بہت خوش ہوتے اور بھوک کی شکایت آپ کی زبان پر نہ آتی، بلکہ ہمیشہ اس بات کے خواہشمند رہتے کہ پھر فاقہ پیش آئے تاکہ اماں سے خدا کی مہمانی کا لفظ سنوں۔چنانچہ انہوں نے خود فرمایا ہے کہ جب کئی دن برابر روٹی ملتی رہی تو دل میں ارمان ہوتا تھا کہ فاقہ ہو اور اماں خدا کی مہمانی کا ذکر کریں۔(جاری ہے )

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 68 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے