”مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کئے ہوئے “

”مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کئے ہوئے “
”مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کئے ہوئے “

  



آگرہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) شاعروں کے شاعرمرزا اسد اللہ خان غالب کا 222واں یوم پیدائش آج منایا جا رہاہے۔عظیم شاعر اسد اللہ خان غالب 27 دسمبر 1779میں آگرہ میں پیدا ہوئے اوراردوشاعری میں اپنی الگ راہ متعین کرکے منفرد شناخت بنائی جو آج تک قائم ہے۔ مرزا غالت کو مغل بادشاہ بہادرشاہ ظفر کی طرف سے نجم الدولہ، دبیر الملک اور نظام جنگ کے خطابات عطا ہوئے، غالب ان کا تخلص تھا اور اس کا اثر ان کے کلام پر بھی رہا، کوئی انہیں مغلوبیت کاشکارنہ کرسکا۔

غالب کی شاعری میں انسان اور کائنات کے مسائل کے ساتھ محبت اور زندگی سے وابستگی بھی بڑی شدت سے نظر آتی ہے، جس نے اردو شاعری کو بہت زیادہ وسیع کردیا ہے ۔ ان کی شاعری، رومانیت، واقعیت، رندی، تصوف، شوخی و انکساری جیسی متضاد کیفیتوں کا حسین امتزاج ہے۔ ان کی شاعری میں جو رنج و الم ملتا ہے اور جس تنہائی، محرومی، ویرانی، ناامیدی کی جھلک ملتی ہے، وہ صرف ذاتی حالات کا عکس نہیں بلکہ اس میں اپنے عہد، سماج اور ماحول کی تصویر نظر آتی ہے۔

مزید : ادب وثقافت