کشمیر و فلسطین کی آزادی:اقوام متحدہ کی ذمہ داری

کشمیر و فلسطین کی آزادی:اقوام متحدہ کی ذمہ داری

  



اقوام متحدہ کے 1945ء میں قیام و آغاز کا ایک بنیادی مقصد، اس عالمی ادارے کے رکن ممالک کے مابین باہمی اختلافات کو گفت و شنید سے طے کر کے تمام خطہ ئ ارض میں،امن و سکون کے حالات بہتر بنانے کی خاطر مثبت انداز اختیار کرنا تھا۔یہ ادارہ امریکہ میں قائم کیا گیا اور نیو یارک میں ہی اس کا صدر دفتر، ایک بلند و بالا عمارت میں تعمیر کیا گیا ہے، جو آج تک وہیں اپنی کارکردگی، متعلقہ تقرر اور منتخب کردہ حکام اور ماتحت ملازمین کے ذریعے بروئے کار لا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر میں تمام رکن ممالک کو ایک دوسرے کے بنیادی انسانی حقوق کے احترام، مذہبی آزادی اور تہذیب و ثقافت کے مطابق زندگی گزارنے کے اطوار کو تسلیم کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس ادارے کی تشکیل سے قبل لیگ آف نیشنز بھی اپنی غیر منصفانہ اور عدم مساویانہ کارروائیوں کی بنا پر اپنا وجود کھو بیٹھی تھی،حالانکہ وہ ادارہ بھی کم و بیش کچھ ایسے ہی اصولوں اور مقاصد کے حصول کے لئے معرض وجود میں لایا گیا تھا۔ اب اقوام متحدہ بھی اگر اپنے طے کردہ اصول و ضوابط کی پاسداری اور عملداری کی خلاف ورزی اور روگردانی کی ڈگر پر چلنے پر فخر محسوس کرتے ہوئے اپنے مطلوبہ مقاصد کی پیش رفت پر قائم نہیں رہ سکے گا تو ظاہر ہے کہ پھر طاقتور ممالک اور بین الاقوامی اداروں پر محروم لوگوں کا یقین و اعتماد مزید کتنے عرصہ تک جاری اور مستحکم رہ سکتا ہے؟

مثلاً اہل ِ جموں و کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد منظور کردہ قراردادوں کے مطابق تقریباً ایک کروڑ عوام کو حق ِ خود ارادیت کے اظہار کا بغیر کسی دباؤ اور اثرو رسوخ کے موقع فراہم کرنا،ایک اہم بین الاقوامی تقاضا ہے،جبکہ بھارتی حکمران، اس ذمہ داری کی ادائیگی سے تاحال انکاری ہیں۔ بھارتی حکمران گزشتہ72سال سے، عالمی ادارے کی مذکورہ بالا قراردادوں پر عمل درآمد کی بجائے،اپنی منفی روش، یعنی مسلسل ضد اور ہٹ دھرمی کا رویہ اختیار کر کے عالمی ادارے کے احکامات کو ببانگ ِ دہل مذاق بنانے کا انداز اپنائے ہوئے ہیں۔ اس عدم کارکردگی پر اقوام متحدہ کا عالمی سطح اور تمام امن پسند ممالک میں آج کل وہ عزت و احترام دیکھنے میں نہیں آ رہا،جس کی اس کے اصل اور بنیادی مقاصد کی تعمیر و تعمیل، بوقت سوچ و تخلیق، وضع اور ظاہر و مشتہر کی گئی تھی۔

اہل ِ کشمیر گزشتہ72 سال میں، لاتعداد افراد کی قربانی دے چکے ہیں۔وہاں اکثر اوقات کئی سیاسی رہنماؤں کو محض حصول آزادی کے مطالبات پر، جیلوں اور قید خانوں میں پابند ِ سلاسل کیا جاتا رہاہے۔آج کل بھی وہاں عام لوگوں کے لئے کڑی پابندیوں کے نفاذ کے حالات مسلسل دیکھنے اور سننے میں آ رہے ہیں۔ہزاروں بے قصور نوجوانوں کو بلا جواز اور غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔ خواتین کے ساتھ آئے روز بے حرمتی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں، جو بہت افسوسناک، المناک اور شرمناک ہیں۔ فلسطین کے لوگوں کو بھی اسرائیل کے مظالم اور جابرانہ کارروائیوں کے ذریعے اپنے علاقوں میں حصولِ آزادی کے حقوق سے تاحال محروم رکھا گیا ہے۔ اُن کی سرزمین پر اسرائیل کی غیر قانونی بستیاں تعمیر کی جا رہی ہیں، حالانکہ اُن کی اپنی قومی اراضی اپنے مقاصد کی سہولتیں فراہم کرنے لئے تھی، کشادہ اور وسیع نہیں۔ وہ بھی اپنی سیاسی آزادی اور خود مختاری کے لئے مختلف اوقات میں احتجاجی مظاہرے کرتے رہتے ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو اہل ِ فلسطین کو بھی جلد سیاسی آزادی کے حقوق دینا ہوں گے۔

مزید : رائے /کالم


loading...