تاریخ ساز دن

تاریخ ساز دن
تاریخ ساز دن

  



25دسمبر عیسوی تقویم میں ایک خاص اہمیت کا حامل چلا آتا ہے، کیونکہ سیدنا حضرت عیسیٰؑ اسی روز اس دنیا میں تشریف لائے۔ حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒکا یوم پیدائش بھی 25دسمبر ہی ہے۔ اس کے علاوہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی سالگرہ بھی اسی روز منائی جاتی ہے…… اولاً: روح اللہ، ثانیاً: شخصیت، ثالثاً: شخص! آفاقی، بین الاقوامی اور مقامی!! خداوندکریم نے اس لمحے پر سلامتی بھیجی، جس وقت یسوع مسیحؑ دنیا میں تشریف لائے۔ قائداعظمؒ ملت و وطن کے لئے اپنی مخلصانہ کاوشوں پر انعام و اعزاز کی رعایت سے لازوال قرار پائے، جبکہ میاں نوازشریف کے بارے میں ہنوز تاریخ کی عدالت نے اپنا محفوظ فیصلہ سنانا ہے۔ جانے زندہ رہیں گے یا وقت کے ہاتھوں باقاعدہ تشخص و شناخت سے محروم!……

انجیل برنباس، جسے دنیا سے مٹانے کی ہر ممکن سعی کی گئی، حالانکہ صحت کے اعتبار سے سب سے زیادہ اہم تھی، اور کافی سے زیادہ مصدقہ نسخے، میں ہے کہ ایک موقع پر آپؑ کے کسی حواری (مراد ہم صحبت ”شاگرد“ یا صحابی) نے پوچھا: ”اے یسوع مسیح ؑ!کیا آپ اللہ کے وہی پیغمبر ہیں، جو آخری نبی قرار پائے ہوئے ہیں،اور جن کی نسبت تمام پیغمبر عظمت و شان بیان کرتے اور خوش خبری سناتے چلے آئے ہیں“؟ فرمایا: ”نہیں میں وہ نہیں ہوں، وہ میرے بعد آئیں گے، اور ان کے آجانے پر پھر کبھی کوئی سچا نبی نہیں آئے گا؟ مگر جھوٹوں کی بھاری تعداد آتی رہے گی“! حضرت عیسیٰؑ روح اللہ جو حضور نبی کریمﷺ سے قریباً پانچ سو اکہتر برس قبل تشریف لائے تھے۔ مٹی سے بنے کھلونا پرندوں کو جلاتے اڑاتے اور مردوں کو قم یاذن اللہ کہہ کر جسمانی طور پر زندہ فرماتے رہے۔ ان کا ایک ”پہاڑی وعظ“ جو انا چیل اربعہ (یوحنا، لوقا، متی، مرقس) میں اب بھی باقی پایا گیا ہے، کمال روحانی کیفیت رکھتا اور معرکے کی چیز ہے!

قائداعظم محمد علی جناحؒ نے، جنہیں ماڈرن سیاسی لیڈر کہنا غلط نہیں ہوگا، ایک انٹرویو یا خطاب میں کہا تھا کہ مجھے زندگی میں دنیا کی ہر نعمت میسر آئی ہے، لیکن میں چاہتا تھا کہ زندگی میں کچھ ایسا کر جاؤں کہ جب رسول مقبولﷺ کے سامنے حاضرہوں تو آپؐ فرمائیں کہ تم نے ہمیں شاد کردیا، لہٰذا پروانہ خوشنودی و سرخروئی عطا کیا جاتا ہے! اس بات کو جاننے اور ماننے کے لئے ان کے مذہب و عقیدے اور ذوق و شوق کو دیکھا جانا چاہئے، جس کا سلسلہ 1938ء کے آغاز سے ہوا تھا۔ میاں محمد نوازشریف نے اپنے ادوار حکومت میں کیا کیا؟ کچھ کیا بھی کہ نہیں؟ اگر کیا تو کس نیت سے اور بالفرض نہیں کیا تو کیوں؟ ان سوالوں کا جواب ابھی مستقبل کی گرہ میں بند ہے، کیوں؟ تاریخی نقطہء نظر سے اس کا فیصلہ کسی فرد یا شے کے پیش نظر سے ہٹ جانے کی شکل میں شاید کم ازکم دواجیال میں ہی ہو سکتا ہے۔

سیدنا حضرت عیسیٰؑ، بابائے قائداعظم محمد علی جناحؒ اور میاں محمد نوازشریف میں ایک ہی یوم ولادت ہونے کے علاوہ کوئی اور مماثلت یا مطابقت قائم نہیں کی جاسکتی، اور نہ کی جانی چاہئے۔ اللہ رب العزت کے فرستادہ، قوم کے مخلص و باوقار رہنما اور محض ایک سیاستدان و حکمران میں مشترکہ خوبی و صفت ہو بھی کیا سکتی ہے؟ ایک ہی دن میں پیدائش کی مناسبت بجا، لیکن حوالہء رحمت، تاریخی اہمیت اور فقط اتفاق! عیسائیوں اور مسلمانوں کے لئے سیدنا حضرت عیسیٰؑ کی آمد مبارک، خالص پاکستانیوں کو قائداعظمؒ کے یوم پیدائش کی تہنیت اور میاں نوازشریف کے خاندان، آل اولاد اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں اور خیر خواہوں کو سالگرہ پر نوید مسرت!

مزید : رائے /کالم