سی پیک سے مکمل افادیت کیلئے میڈیا کا کردار کلیدی ہو گا: فردو س عاشق

سی پیک سے مکمل افادیت کیلئے میڈیا کا کردار کلیدی ہو گا: فردو س عاشق

  



اسلام آباد (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ہم نے مل کر سی پیک سے جڑے غلط بیانیے کو شکست دینی ہے، سی پیک سے مکمل افادیت کیلئے میڈیا کا کردار کلیدی ہو گا، چینی اور پاکستانی ذرائع ابلاغ مل کر چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے راغب کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، قومی مفاد کیلئے میڈیا کو مجموعی طور پر کردارادا کرنا ہو گا، ایک نادانستہ منفی خبر بھی قومی مفاد کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو چین کی سرکاری نیوز ایجنسی ”ژینوا“ آل میڈیا سروسز کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ گوادر بندرگاہ کے ذریعے پاکستان پوری دنیا سے جڑ جائے گا، سی پیک کے تحت پاکستان میں کئی منصوبے مکمل کئے جا رہے ہیں، سی پیک ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ سی پیک کے تحت منصوبوں سے پاکستان میں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور صنعتوں کو فروغ مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک نادانستہ منفی خبر بھی قومی مفاد کو نقصان پہنچا سکتی ہے کیونکہ ایسی خبروں سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہشمند چینی سرمایہ کار دلبرداشتہ ہوتے ہیں۔ معاون خصوصی نے کہا کہ سی پیک سے مکمل افادیت کیلئے میڈیا کا کردار کلیدی ہو گا، سی پیک کے حوالے سے میڈیا کا مثبت کردار اہم ہے۔ ہم نے مل کر سی پیک سے جڑے غلط بیانیے کو شکست دینی ہے، قومی مفاد کیلئے میڈیا کو مجموعی طور پر کردا رادا کرنا ہو گا، قلم سے موثر کوئی ہتھیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ہاؤسز کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط سے چینی اور پاکستانی ذرائع ابلاغ کے درمیان تعاون مزید مستحکم ہو گا، ژینوا نیوز ایجنسی کی طرف سے اردو سروس کا آغاز سب سے زیادہ قابل تعریف ہے۔ یہ نیوز ایجنسی اردو سمیت 12 زبانوں میں سروسز فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی خبر رساں ایجنسی پاکستان میں بشمول ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی)، جنگ گروپ، نوائے وقت، انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان (آئی این پی)، ایکسپریس گروپ، ڈیلی ٹائمز، ہم نیوز اور پاکستان ٹوڈے سمیت 20 میڈیا ہاؤسز کو سروسز فراہم کر رہا ہے۔ چینی خبر رساں ادارہ عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے میں موثر کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ پاکستان کے بارے میں اوسطاً سالانہ 1400 مثبت سٹوریز شائع کرتا ہے۔ پاکستان کے قومی مفاد کو اجاگر کرنے میں بھی اس کا اہم کردار ہے۔ سی پیک عملدرآمد کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان میڈیا تعاون اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی خبر رساں ادارہ گزشتہ 60 سال سے پاکستان سے خبروں کے اجراء میں موثر کردار ادا کر رہا ہے۔ چین پاکستان دوستی اور باہمی تعلقات کے فروغ میں اس کا انتہائی اہم کردار ہے۔ 

فردوس عاشق اعوان

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اے این ایف رانا ثناء اللہ کی ضمانت کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ اپیل دائر کریگی،میڈیا میں ملزم کا نہیں اے این ایف کا ٹرائل ہورہا ہے، اے این ایف اہم قومی ادارہ ہے اسے سیاست زدہ نہ کیا جائے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کے تفصیلی فیصلے پر نظر ثانی درخواست دائر کر دی ہے، نظر ثانی اپیل کے بعد بھی پارلیمنٹ والا آپشن موجود ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کر تے ہوئے ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حکومت پاکستان نے چیف آف آرمی سٹاف کی مدت سے متعلق سپریم کورٹ کے کیس کیخلاف نظر ثانی درخواست دائر کر دی ہے، حکومتی قانونی ٹیم نے تفصیل اور باریک بینی سے تفصیلی فیصلے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اس کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ فیصلے کے اندر بہت سے قانونی نقائص موجود ہیں، جن کی درستگی کیلئے حکومت پاکستان نے نظر ثانی درخواست عوامی مفاد میں دائر کی گئی ہے اور پارلیمنٹ کا جو آپشن تھا اس نظر ثانی پٹیشن کے بعد وہ آپشن بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ کیس میں تفصیلی فیصلہ آیا اس کے خلاف اے این ایف اپیل میں جارہی ہے، بعض میڈیا کچھ چیزیں پوائنٹ آؤٹ کر رہی ہے جس میں کیس کے حوالے سے تصویر کا ایک رخ دکھایا جارہا ہے، میڈیا میں ملزم کا نہیں اے این ایف کو ٹرائل ہورہا ہے، اے این ایف ایک قومی ادارہ ہے، ایک ایسا ادارہ جس میں وردی پہنے ہوئے پاک فوج کے میجر جنرل سربراہی کررہے ہیں تاہم اس ادارے کو اسطرح مسلسل تضیحک آمیز انداز سے میڈیا کی سکرینوں کی زینت بنایا جارہا ہے، اور یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ اے این ایف کو ذاتی دشمنی یا عناد تھا، رانا ثناء اللہ سے سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ کیس کا فیصلے آنے کے بعد میڈیا پرآنے والی خبریں اخبارات میں چھپنے والے بیانات میں میڈیا یہ کہہ رہا ہے کہ رانا ثناء اللہ بے گنا ہ ہے، اس سے یہ تااثر ابھرتا ہے اور سوال جنم لیتا ہے کہ جس شخص کو میڈیا میں بے گناہ یا گنہگار ٹھہرایا جائے گا تو عدالتی فیصلوں میں بھی ایسا ہی نظر آنا چاہیے اگر اس بیانیے کو مان لیا جائے تومیڈیا کے ساتھ جڑا بیانیہ آئین اور قانون کے بیانیے کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا اورآئین اور قانون کی عدالتوں سے میڈیا پر لگنے والی عدالتیں سپریم لگتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی کیس کے تفصیلی فیصلے میں جو نکات اٹھائے گئے ہیں انکی وضاحت ضروری ہے متعلقہ وزیر بھی تفصیل سے بات کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا ایک مخصوص سمت میں اس بیانیے کو چلا رہی ہے جس میں کہہ رہے ہیں کہ تفصیلی فیصلے میں لکھا گیا رانا ثناء اللہ کا جسمانی ریمانڈ اے این ایف نے کیوں نہیں لیا، اس کی وضاحت یہ ہے کہ جسمانی ریمانڈ اس کا لیا جاتا ہے جس سے کچھ برآمدگی کرنا ہو، جو موقع پر پکڑا گیا ہو اس کا جوڈیشل ریمانڈ ہوتا ہے جسمانی نہیں، میڈیا میں یہ بھی زیر بحث ہے کہ ابتدائی کارروائی جو آن سپاٹ کی گئی اس پر سیزر میمو نہیں لگایا گیا باقی کارروائی تھانے میں کیوں کی گئی، اے این ایف تمام کیسز میں ابتدائی کارروائی سپاٹ پر اور تفصیلی تھانوں میں کرتی ہے، ایک اور پہلو جو نظر آرہا ہے کہ 20کلو ہیروئن برآمد ہوئی 15گرام کا نمونہ بھجوایا گیا، یہ معمول ہے کہ سارے کا سارا نہیں بھجوایا جاتا،نمونہ چند گرام میں بھجوایا جاتا ہے ایک ابہام پیدا کیا جارہا ہے۔ میڈیا سے اپیل ہے کہ اے این ایف کو سیاست زدہ نہ کرے، اے این ایف بچوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر طاقتور لوگوں اور منشیات سے معاشرے کو پاک کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے،سب حقائق کے مطابق کام کریں۔علاوہ ازیں جی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ ایل اوسی پر بسنے والے مسلح افواج کے ساتھ شانہ بشانہ سینہ سپر ہیں، ان بہادر عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان نے ٹوئٹ کیا کہ ایل اوسی پر بسنے والوں کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں، ایل اوسی پر شہریوں کو نشانہ بنانا بھارتی فوج کی سفاکی ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کے زخموں پر مرہم رکھنا وزیراعظم کے احساس کا مظاہرہ ہے، کابینہ نے ایل او سی پر بسنے والوں کے لیے خصوصی پیکیج منظور کیا،جو خاندانوں کی فلاح و بہبود میں معاون ثابت ہوگا۔انہوں نے کہاکہ احساس پروگرام کے تحت راشن اسکیم کے ذریعے معاونت کی جائے گی، 33 ہزار498 خاندانوں میں ہر شادی شدہ خاتون کی سہ ماہی مدد کی جائے گی، جبکہ ہرسہ ماہی خاتون کو 5ہزار روپے دیے جائیں گے، رقم کی ادائیگی 4 سہ ماہی تک جاری رہے گی۔

معاون خصوصی اطلاعات

مزید : صفحہ اول


loading...