اخلاقیات کی دھجیاں بکھیر نے، مواخذے کے باوجود ٹرمپ کے پاس کامیابیوں کا سٹاک موجود

      اخلاقیات کی دھجیاں بکھیر نے، مواخذے کے باوجود ٹرمپ کے پاس کامیابیوں کا ...

  



واشنگٹن(اظہر زمان،تجزیاتی رپورٹ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عہد صدارت کے پہلے تین سالوں میں داخلی اور عالمی سطح پر شائستگی اور اخلاقیات کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں اور چوتھے سال میں داخل ہونے سے قبل ہی اپنے لاپرواہ اور مخصوص ابالی پن کے رویے سے اپنے کیریئر پر امریکی تاریخ میں تیسرے امریکی صدر ہونے کا سیاہ دھبہ لگوا لیا جنہیں مواخذے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم انتخابی مہم کے 2020ء کے سال میں جب نومبر میں وہ دوسری مدت کیلئے اپنے ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار کا سامنا کریں گے ان کے پاس باقی دنیا اور امریکی ووٹروں اور خصوصاً سفید فارم قدامت پسند ووٹ بنک کو دکھانے کیلئے کچھ کامیابیوں کا سٹاک بھی موجود ہے۔ ان کے دور میں امریکی افواج نے عراق اور شام میں داعش کا زور توڑا اور انہیں اپنا قبضہ ختم کر کے فرار ہونے پر مجبور کیا۔ اس کے ساتھ ہی امریکی کمانڈو نے ایک خصوصی چھاپہ مار کارروائی میں داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو جو ہلاک کیا اس کا وہ تمام تر کریڈٹ لے سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے عراق اور شام میں کامیابیوں کے حصول کے بعد اس خطے سے امریکی افواج کو بتدریج واپس لانے کے جو فیصلے کئے انہیں بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔ افغانستان کی طویل جنگ کو ختم کر کے پاکستان اور افغان انتظامیہ کو اعتماد میں لیتے ہوئے طالبان سے مصالحتی امن مذاکرات کا آغاز کرنا بھی یقیناً ان کا کارنامہ ہے جس کا وہ اپنے ووٹروں کے سامنے فخر سے بیان کر کے انتخابی کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ جنوبی ایشیاء کے بارے میں ان کی پالیسی کو کامیاب میں شمار کیا جائے گا اور پاکستان اور بھارت کے باہمی حساس اور متحارب رویے کے باوجود صدر ٹرمپ نے ان دونوں اہم قوتوں کے ساتھ تعلقات کا توازن برقرار رکھا۔ 2017ء میں انہوں نے افغان جنگ ختم کرنے اور خطے میں پاکستان اور بھارت کے کردار کو متعین کرنے کیلئے جنوبی ایشیاء کیلئے حکمت عملی کا اعلان کیا۔ اس میں پاکستان کو جلی اور خفی دھمکی دی گئی کہ اگر اس نے اپنی سرحد میں موجود افغان طالبان اور خصوصاً حقانی نیٹ ورک کی پناہ گاہوں کو ختم کرنے کیلئے شفاف اقدامات نہ کئے تو امریکہ کے ساتھ تعلقات خراب ہو جائیں گے اور امریکہ امداد سے ہاتھ کھینچ لے گا۔ اس پالیسی کے تحت پہلی مرتبہ بھارت کو زیادہ نمایاں کردار سونپا گیا جو پاکستان کو پسند نہیں آیا لیکن صدر ٹرمپ کو جلد ہی احساس ہو گیا کہ اس پالیسی کے نتیجے میں اگر پاکستان امریکہ سے دور چلا گیا تو وہ اس کے بغیر افغانستان کے والے سے کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکے گا۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کو امریکہ بلا کر ان سے پیار محبت کی نئی پینگیں بڑھائیں۔ سابق امریکی صدور کے برعکس ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے خطے کی انتہائی نازک اور حساس کشمیر کے مسئلے میں زیادہ دلچسپی لی اور دونوں فریقوں کی رضامندی کی صورت میں ثالثی کی پیشکش کی۔ وزیر اعظم مودی نے اسے رد کر دیا لیکن پاکستان کی حکومت فوج اور عوام میں اس بناء پر صدر ٹرمپ کی پذیرائی میں اضافہ ہوا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق امریکہ نے پاکستان کی امداد کو معطل کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا اسے واپس لیا جا رہا ہے اور یہ امداد بتدریج بحال ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم مودی کے ساتھ سٹریٹجک، دفاعی، اقتصادی اور تجارتی سطح پر تعلقات کو بھی فروغ دیا اور انڈوپیسیفک ریجن میں بھارت کو اہم کردار سونپا۔ اس صورتحال میں صدر ٹرمپ نے بیک وقت وزیراعظم عمران خان اور وزیراعظم مودی کے ساتھ دوستی برقرار رکھی۔ صدر ٹرمپ کے دور میں شمالی کوریا کے ساتھ امریکہ کے تعلقات اتنی خطرناک سطح پر پہنچ گئے تھے کہ جوہری نگ کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا لیکن یہ کریڈٹ بھی ان کو جاتا ہے کہ انہوں نے شمالی کوریا کے اکھڑ لیڈر کم یانگ ان کو امریکہ کے ساتھ سمجھوتہ کر کے اپنی ایٹمی قوت میں بتدریج کمی کر کے اسے ختم کرنے کا وعدہ کرنے پر مجبور کر دیا۔صدر ٹرمپ نے امریکی عوام کو خوش کرنے کیلئے چین کے ساتھ تجارت میں گھاٹے کا سودا ختم کرنے کیلئے جنگ کا آغاز کیا اور بالآخر چین کے ساتھ تجارتی اشیاء پر محصولات میں کمی کا سمجھوتہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی شمالی امریکہ کے دیگر ممالک کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ ایک نیا تجارتی سمجھوتہ طے کر لیا۔ امریکی عوام صدر ٹرمپ کی نیٹو ممالک سے پالیسیوں کو بھی بہت دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں جہاں انہوں نے روس، شام اور افغانستان کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کیلئے یورپی ممالک کو اپنا حصہ ادا کرنے پر زور دیا تاکہ سارا بوجھ امریکہ پر نہ پڑے۔ صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ اور خلیج کی پالیسیوں میں عمومی طور پر سعودی عرب اور اسرائیل کا ساتھ دیا۔ خلیجی سرد جنگ میں وہ کافی حد تک ایران کو تنہا کرنے اور اقتصادی پابندیوں کے ذریعے کمزور کرنے میں کامیاب ہوئے۔ فلسطین کے حوالے سے امریکہ کا مصالحتی منصوبہ پذیرائی حاصل نہیں کر سکا کیونکہ صدر ٹرمپ امریکہ میں یہودی ووٹ حاصل کرنے کیلئے اسرائیل کو جو رعائتیں دینے جا رہے ہیں وہ مسلم دنیا کو قبول نہیں ہیں۔ عمومی طور پر تمام تر کمزوریوں اور مواخذے کے داغ کی موجودگی کے باوجود صدر ٹرمپ کے پاس کامیابیوں کا بھی اتنا ٹریک ریکارڈ موجود ہے جو اس سے پہلے کم ہی کسی امریکی صدر کے حصے میں آیا ہے۔ 

ٹرمپ کامیابیاں 

مزید : صفحہ اول