رانا ثنا ء اللہ کی رہائی، کارکنوں کے بھنگڑے، مفتاح اسماعیل بھی ضمانت پر باہر آگئے 

    رانا ثنا ء اللہ کی رہائی، کارکنوں کے بھنگڑے، مفتاح اسماعیل بھی ضمانت پر ...

  



لاہور /اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کو کیمپ جیل لاہور سے رہا کر دیا گیا،جیل سے باہر آنے پر لیگی کارکنوں نے رانا ثناء اللہ کے حق میں نعرہ بازی کرتے ہوئے والہانہ استقبال کیا۔ لیگی کارکنوں کی جانب سے رانا ثنا اللہ کو پھولوں کے ہار پہنائے گے اور پتیاں بھی نچھاور کی گئیں۔منشیات کیس میں گرفتار ن لیگ پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ پانچ ماہ پچیس دن بعد جیل سے رہا ہوئے۔ ٹرائل کورٹ کے ججز کے رخصت پر ہونے کے باعث لاہور ہائیکورٹ میں ہی ان کے مچلکے جمع کرائے گئے جن کی تصدیق کے بعد ان کی رہائی کی روبکار جیل سپرنٹنڈنٹ کے نام پر جاری کی گئی۔روبکار موصول ہونے پر جیل میں جانچ پڑتال کا عمل مکمل کیا گیا اور رانا ثنا اللہ کو رہا کر دیا گیا،بعدازاں رانا ثنا اللہ میڈیا سے بات کئے بغیر اپنی فیملی کے ہمراہ روانہ ہو گئے۔دوسری جانب ایل این جی کیس میں مسلم لیگ ن کے رہنما مفتاح اسماعیل کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ایل این جی کیس میں نیب نے رواں سال اگست میں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو گرفتار کیا تھا تاہم 23دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت منظور کر لی تھی۔مفتاح اسماعیل کی رہائی کیلئے ایک کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکے احتساب عدالت میں نقدی کی صورت میں جمع کرائے گئے جس کے بعد احتساب عدالت نے روبکار  جاری کی اور بعدازاں مفتاح اسماعیل اپنی قانونی ٹیم کے ہمراہ اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہو گئے اور انہوں نے میڈیا سے بات کرنے سے گریز کیا۔

رانا ثناء/مفتاح اسماعیل

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ نے قراردیاہے کہ رانا ثناء اللہ کے خلاف منشیات کیس میں استغاثہ کی کہانی بظاہر قرین قیاس نہیں اور نہ ہی اس پر یقین کیا جاسکتاہے،استغاثہ کا کیس مشکوک ہے اور فوجداری قانون کے تحت شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو دیا جاتاہے،ہمارے ملک میں سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنانے کے پہلو کو اس کیس میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،مسٹر جسٹس چودھری مشتاق احمد نے یہ آبزرویشنز سابق وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان کی درخواست ضمانت منظور کرنے کے اپنے تحریری فیصلے میں دی ہیں،فاضل جج نے 9صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں قراردیاہے کہ ایف آئی آرکے مطابق رانا ثناء اللہ منشیات سمگلنگ کا نیٹ ورک چلاتاہے لیکن مبینہ نیٹ ورک کا پتہ چلانے کے لئے ملزم کی گرفتاری کے بعد اس کے جسمانی ریمانڈ کی متعلقہ عدالت سے استدعا ہی نہیں کی گئی،فاضل جج نے قرار دیا کہ رانا ثناء اللہ کا جسمانی ریمانڈ طلب نہ کرنا اس طرف اشارہ کرتاہے کہ اے این ایف کو ملزم کی سرپرستی میں چلنے والے مبینہ نیٹ ورک کا کھوج لگانے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی جبکہ عام طور پر ایسے مقدمات میں تفتیشی ایجنسی پورے نیٹ ورک اور اس میں شامل ملزموں کو گرفت میں لانے کی کوشش کرتی ہے،فاضل جج نے مزید قراردیا کہ رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے موقع پر ریکوری میمو کی عدم تیاری،ملزم کی سرپرستی میں چلنے والے منشیات سمگلنگ کے مبینہ نیٹ ورک کا پتہ چلانے کی کوشش نہ کرنا اور مبینہ طور پر برآمد ہونے والی 15کلوگرام ہیروئن میں سے 20گرام لیبارٹری کوبھیجنے کے لئے تھانے میں پارسل کی تیاری جیسے عوامل اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اے این ایف کے پاس ابھی تک ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں اور یہ کیس مزید انکوائری کا متقاضی ہے، فاضل جج نے قراردیا کہ رانا ثناء اللہ کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کا موکل حزب اختلاف کا لیڈر ہے جو حکومت پر سخت تنقید کرتاہے،اس لئے جھوٹے مقدمہ میں ملوث کرکے انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایاگیاہے،فاضل جج نے اس حوالے سے قراردیا کہ ضمانت کے مرحلے پر عدالت کواس معاملے کی گہرائی میں جانے کی ضرورت نہیں ہے تاہم مقدمہ کے اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ مخالفین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا ہمارے ملک میں ایک کھلا راز ہے۔فاضل جج نے راوی ٹول پلازہ پر رانا ثنا ء اللہ کی گرفتار ی کے لئے جانے والی اے این ایف کی چھاپہ مار پارٹی کے تمام افسروں اور اہلکاروں کے نام اپنے فیصلے میں شامل کرتے ہوئے قراردیاہے کہ چھاپہ مار پارٹی کے ارکان کی تعداد 21تھی جبکہ رانا ثناء اللہ اور ان کے گن مینوں کی تعداد 5تھی،استغاثہ کے مطابق رانا ثناء اللہ کے گن مینوں نے اے این ایف کی ٹیم سے الجھنے کی کوشش کی تاہم انہیں غیر مسلح کرکے قابو کرلیاگیا،فاضل جج نے قراردیااس کے باجود موقع پر ریکوری میمو تیار نہ کرنا معاملہ کو مشکوت بناتا ہے،فاضل جج نے مزید قرار دیا کہ ملزموں کو اے این ایف کے تھانے میں لے جاکر ریکوری میمو تیارکرنا اور 20 گرام نمونہ کے طورپر حاصل کرکے پارسل کو سیل کرنے کی استغاثہ نے جو وجوہات بیان کی ہیں وہ قرین قیاس نہیں ہیں، اس بابت استغاثہ عدالت کو قائل نہیں کرسکا، استغاثہ کی اس بات میں وزن نہیں ہے کہ وقوعہ کے وقت وہاں لوگ اکھٹا ہونا شروع ہوگئے تھے اور یہ کہ رانا ثناء اللہ کے گن مینوں نے مزاحمت کی تھی جس کے باعث ریکوری میمو وغیرہ کی تیاری کا کام موقع پر نہیں کیا جاسکتا تھااور یہ کارروائی اے این ایف کے تھانے میں لے جا کرمکمل کرناپڑی تھی۔فاضل جج نے قراردیا کہ منشیات کے مقدمات میں موقع پر ریکوری میمو تیار کرنے کا مقصد تفتیشی ادارے کی کارروائی کی شفافیت کویقینی بناناہوتا ہے لیکن اس کیس میں ایسا نہیں ہوا،فاضل جج نے قراردیا کہ اس مقدمہ میں رانا ثناء اللہ کے تمام شریک ملزموں کی ٹرائل کورٹ سے ضمانت ہوچکی ہے،استغاثہ نے ان کی ضمانت کے فیصلے کوہائی کورٹ میں چیلنج تک نہیں کیا اور نہ ہی شریک ملزموں کی ضمانت کی منسوخی کے لئے کوئی کارروائی کی گئی۔فاضل جج نے قراردیا کہ یہ طے شدہ اصول ہے کہ الزامات کی سنگینی کو درخواست ضمانت کے مسترد کرنے کا جوازنہیں بنایا جاسکتا، حالات وواقعات کے مطابق استغاثہ کا کیس مشکوک ہو تو اس کا فائدہ نہ صرف ٹرائل بلکہ ضمانت کے مرحلہ پر بھی ملزم کو جاتاہے۔فاضل جج نے اپنے فیصلے میں اس بات کا بھی ذکر کیاہے کہ موقع پر رانا ثناء اللہ سے جو بریف کیس برآمد ہواتھا،اس کاوزن ساڑھے21کلو گرام تھا تاہم اسے موقع پر کھول کر منشیات کی ریکوری نہیں کی گئی اور اسے ملزموں کے ساتھ تھانے لے جاکر مزید کارروائی کی گئی اوراستغاثہ کے مطابق بریف کیس سے 15کلو گرام ہیروئن برآمد ہوئی،عدالت نے قراردیا کہ ان حالات میں رانا ثناء اللہ ضمانت کے مستحق ہیں،اس لئے ان کی درخواست ضمانت منظور کی جاتی ہے اور انہیں 10،10لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کاحکم دیا جاتاہے۔علاوہ ازیں انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے جج کے رخصت پر ہونے کے باعث سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی رہائی کی روبکار لاہور ہائی کورٹ سے جاری کی گئی،لاہور ہائی کورٹ نے رانا ثناء اللہ کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ میں 10،10لاکھ روپے مالیت کے دو ضمانتی مچلکے داخل کرنے کی ہدایت کی تھی،گزشتہ روز رانا ثناء اللہ کی طرف سے عدالت عالیہ میں درخواست دائر کی گئی کہ انسداد منشیات کی خصوصی عدالت کے جج رخصت پر ہیں، اس لئے ان کے مچلکے لاہور ہائی کورٹ میں جمع کروانے کی اجازت دی جائے،عدالت نے یہ درخواست منظور کرلی جس کے بعد سابق میئر فیصل آباد محمد رزاق ملک اور سید محمد خاور کی طرف سے عدالت عالیہ کے ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کے روبرو 10،10لاکھ روپے کے دو مچلکے جمع کروائے گئے جن کی تصدیق کے بعد ان کی رہائی کی روبکار جاری کردی گئی۔

تحریری فیصلہ جاری

مزید : صفحہ اول


loading...