آرمی چیف کی مدت ملازمت میں مشروط توسیع، سپریم کورٹ فیصلے کیخلاف نظر ثانی کی حکومتی درخواست

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں مشروط توسیع، سپریم کورٹ فیصلے کیخلاف نظر ثانی کی ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں))وفاقی حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے عدالتی فیصلے کے خلاف  سپریم کورٹ میں نظر ثانی درخواست دائر کر دی، وزارت قانون نے نظر ثانی درخواست صدر، وزیر اعظم، سیکٹری دفاع اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے دائر کی ہے جس میں عدالت عظمیٰ سے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جانے سمیت معاملے پر لارجر بینچ بنانے کی استدعا کی گئی ہے۔نظر ثانی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ فیصلہ میں ایگزیکٹیو کے اختیارات کو کم کردیا گیا ہے،آرمی چیف کی مدت کا تعین وزیر اعظم کا  اختیار ہے،قانون میں آرمی چیف کی ٹرم کا تعین کرناضروری نہیں ہے،آرمی چیف کی مدت کا تعین کرناآئین کے  منافی ہے، قانون میں آرمی چیف کی مدت میں ٹرم نہ ہونے کا مقصد وزیر اعظم جب چاہیں رکھیں جب چاہیں ہٹا دیں،آرمی سکیورٹی کا ارادہ ہے،ملکی حالات سکیورٹی آف پاکستان سے منسلک  ہیں، وفاقی حکومت نے آرمی چیف کو دوسری ٹرم کے لیے آرمی چیف بنانے کا فیصلہ ضمیر کے مطابق کیا، 28 نومبر کو اٹارنی جنرل نے آرمی چیف کی تقرری کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کیا،اسی دن سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی تعیناتی کو قانون سازی سے مشروط کر کے معاملہ نمٹا دیا، سپریم کورٹ کا فیصلہ دائرہ اختیار سے باہر، اور غیر قانونی ہے،فیصلے میں آئین کے کئی نکات سے صرف نظر کیا گیا، عدالت کے فیصلے میں کئی سقم موجود ہیں،آرٹیکل 243 کی زیلی شقوں کو ایک ساتھ پڑھا جانا چاہیے،عدالت چلی آ رہی روایات کو قانون میں بدلنے کے لیے زور نہیں دے سکتی،پارلیمنٹ نے 7 دہائیوں سے اس پہلو پر کبھی قانون سازی نہیں کی،پارلیمنٹ نے قانون نہ بنانے سے متعلق اپنے استحقاق کا استعمال کیا،آرمی چیف کی مدت میں توسیع کا فیصلہ عدالت آیا تو پاکستان کے دشمن بہت خوش ہوے ہیں۔ فیصلے میں اہم آئینی و قانونی نقاط کا جائزہ نہیں لیا گیا، ایڈیشنل اور ایڈہاک ججز کو بھی سپریم کورٹ ماضی میں توسیع دیتی رہی، عدالت نے ججز توسیع کیس کے فیصلوں کو بھی مدنظر نہیں رکھا،پلوامہ واقعہ کے بعد  جنرل باجوہ کی کپتانی میں پاکستانی فوج کی تیاریاں منہ بولتا ثبوت ہیں،دہشت گردی کیخلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی،سانحہ اے پی ایس کے زخم ابھی نہیں بھولے، فوج اور عدلیہ کا تحفظ جمہوریت کے لیے لازمی ہے، فوج کا تحفظ اندرونی اور بیرونی جارحیت کے مقابلے کے لیے ضروری ہے،ریاست کے دشمن کئی سالوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ہتھیار اٹھائے ہوے ہیں، جنرل قمرباجوہ کے ملکی تحفظ اور سکیورٹی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات تاریخ کا حصہ ہونگے،جنرل باجوہ کی دوبارہ تعیناتی کے حوالے سے جلسے اور سمینار بھی ہوے،جنرل باجوہ نے کھبی خود توسیع نہیں مانگی،موجودہ حالات میں جنرل باجوہ کی دوبارہ تعیناتی مناسب تھی،جنرل باجوہ کو توسیع دینا حکومت کا پالیسی فیصلہ تھا،نظر ثانی درخواست کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کئی بے قاعدگیاں ہیں، فیصلے میں آئین و قانون کی اہم شقوں کو نظر انداز کیا گیا،فیصلے میں آئینی قانون کے بنیادی اصولوں سے صرف نظر کیا گیا،دیکھنا چاہئیے تھا کہ کیا درخواست گزار کی جانب سے داخل کردہ درخواست قابل سماعت تھی؟کیا سپریم کورٹ کا فیصلہ آرٹیکل 10 اے کے خلاف ہے،سپریم کورٹ کا فیصلہ حقائق کے برعکس اور قانون کی نظر میں برا ہے، نظر ثانی درخواست میں فیصلہ کو کالعدم قرار دئیے جانے سمیت نظر ثانی اپیل میں لارجر بینچ تشکیل دینے اور کیس کو ان کیمرہ سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

نظر ثانی درخواست

مزید : صفحہ اول


loading...