بیرون ملک مقیم پاکستانی ڈاکٹرز نظام کی بہتری میں مدد کریں،تیمور تالپور 

بیرون ملک مقیم پاکستانی ڈاکٹرز نظام کی بہتری میں مدد کریں،تیمور تالپور 

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ کے صوبائی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی محمد تیمور تالپور نے بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانی ڈاکٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ واپس وطن آئیں اور صوبے کے سرکاری صحت عامہ کے نظام کی خرابیاں دور کرنے میں حکومت کی مدد کریں۔یہ بات گزشتہ شب مقامی ہوٹل میں جاری میڈیکس انٹرنیشنل کی تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے ڈنر کے موقع پر بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔میڈیکس انٹرنیشنل اقوام متحدہ سے مستند یافتہ صحت کے شعبے میں کام کرنے والی ایک بین الاقوامی فلاحی تنظیم ہے جس کا قیام 25 سال پہلے پہلے امریکہ میں مقیم پاکستان کے مختلف میڈیکل کالج سے تعلیم یافتہ پاکستانی نژاد ڈاکٹرز نے کیا تھا۔ موجودہ کانفرنس کا انعقاد تنظیم کے قیام کی سلور جوبلی کے حوالے سے کیا گیا ہے۔اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ کراچی میں موجود صوبائی حکومت کے زیر انتظام بڑے ہسپتال پورے ملک سے آئے ہوئے مریضوں کو مفت طبی سہولیات، علاج اور ادویات فراہم کر رہے ہیں۔ ان ہسپتالوں میں کراچی کاجناح اسپتال اور ادارہ برائے امراض قلب کی خدمات بے مثال ہیں جہاں آنے والے بہت سے مریضوں کا تعلق صوبہ پنجاب اور بلوچستان سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان بڑے ہسپتالوں کی بہترین کارکردگی کے باوجود حکومت کو ابھی بہت کچھ کرنا ہے تاکہ صوبے کے سرکاری صحت عامہ کے نظام کی خرابیوں کو دور کیا جاسکے۔ اس سلسلے میں حکومت کو بیرون ملک مقیم پاکستانی ڈاکٹرز کی خدمات کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ اپنے تجربے کی بنیاد پر یہاں کے سرکاری اسپتالوں اور ڈسپنسریوں کے نظام کو بہتر کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی یہ بھرپور کوشش ہے کہ مختلف شعبوں سے وابستہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پاکستان میں کام کرنے کے لئے  موزوں صورتحال فراہم کی جائے تاکہ وہ واپس آکر مادر وطن کی بہتری کے لئے خدمات انجام دے سکیں۔اس موقع پر انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانی ڈاکٹروں کے کے جذبہ حب الوطنی کو بھی سراہا جس کی بنا پر وہ اپنے آبائی ملک میں فلاحی خدمات اور امدادی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں تاکہ پسماندہ طبقات کو صحت عامہ کی معیاری  سہولیات مفت میسر آسکیں۔اس موقع پر اپنے خطاب میں میڈیکس انٹرنیشنل کے سینیئر عہدے دار ڈاکٹر شبیہ زیدی نے بتایا کہ ان کی تنظیم عراق اور شام کے خانہ جنگی سے متاثر ایسے علاقوں میں فلاحی، طبی اور امدادی سرگرمیاں مسلسل انجام دے رہی ہے جہاں دنیا کی بڑی بڑی بڑی فلاحی تنظیمیں اپنے کام کا آغاز نہیں کر سکی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے  یے میڈیکس انٹرنیشنل کے بانی ڈاکٹر وجہی رضوی نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ان کی تنظیم اپنی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد پاکستان میں کر رہی ہے۔ اس سے پہلے میڈیکس انٹرنیشنل پاکستان میں مختلف قدرتی آفات کے موقع پر بھرپور امدادی اور فلاحی خدمات انجام دے چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کونفرنس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں موجود مختلف میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلبا و طالبات کو ان کی مزید تعلیم جاری رکھنے اور ان کے آنے والے کیرئیر کے حوالے سے مکمل آگاہی فراہم کرے جس کے حوالے سے میڈیکس انٹرنیشنل پچھلے کئی سالوں سے خدمات انجام دے رہی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...