قائد اعظم کے یوم ولادت پر کراچی ایڈیٹرز کلب کے تحت تقریب کا انعقاد

      قائد اعظم کے یوم ولادت پر کراچی ایڈیٹرز کلب کے تحت تقریب کا انعقاد

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) قائد اعظم نے پوری دنیا میں قیادت کی اعلیٰ مثال قائم کی، ان کے ویژن نے یہ ثابت کردیا کہ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر پاکستان بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ قائد کی جدوجہد کسی ذاتی غرض و غایت کیلئے نہ تھی اور ان کا یہ نظریہ قوم کے لیے مشعل راہ ہے۔ ہمارے ملک کی ترقی میں ہمیشہ رہنمائی کرتا رہے گا، بس ان کی اس فکر کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، ان خیالات کا اظہار بیچ لگژری ہوٹل میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے 143ویں یوم ولادت کے موقع پر کراچی ایڈیٹر کلب کی جانب سے منعقدہ تقریب سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے بریگیڈیئر (ر) طارق خلیل، میاں عبدالمجید، پروفیسر صائمہ زیدی، خواجہ رضی حیدر، عالیہ امام، عمران صمد، کراچی ایڈیٹر کلب کے صدر مبشر میر اور سیکریٹری جنرل منظر نقوی، ٹیکسٹائل یونیورسٹی کے چانسلر عبدالمجید اور مختار عاقل نے خطاب کیا۔ ا س موقع پر استاد مظہر امراؤ بندو خان نے منقبت پیش کی، جبکہ تقریب میں انڈونیشین قونصل جنرل، عبدالحسیب خان، کرنل مختار بٹ، آغا مسعود حسین، فضا شکیل ودیگر نے شرکت کی۔ قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بریگیڈیئر طارق خلیل نے کہا کہ مجھے بچپن میں قائد اعظم کو قریب سے د یکھنے کا موقع ملا اور میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں، جب میں 1946ء میں علیگڑھ یونیورسٹی میں زیرتعلیم تھا تو قائد اعظم ہمارے تعلیمی ادارے میں تشریف لائے، ان کی شخصیت اور اعلیٰ کردار مجھے زندگی بھر یاد رہے گا، قائد اعظم نے ہمیں فکری اور عملی طور پر یہ بتایا کہ قائد وہ ہوتا ہے جو اپنی ذات میں معیار رکھے۔ انہوں نے ہمیں جو ڈائریکشن دی ہیں اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ہمیں الگ مملکت دے کر ہماری ذات پر بہت بڑا احسان کیا ہے اور اس کے لیے ہم قائد اعظم کا جتنا بھی شکر ادا کریں، وہ کم ہوگا۔ آج ہندوستان کی صورتحال دنیا پر واضح ہے کہ جو وہ سیکولر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن کام اس کے سارے سیکولر ازم کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرا یقین ہے کہ مستقبل میں ایک اور نیا مسلم ملک بھارت میں ہی بنے گا۔ کیونکہ پاکستان اور بنگلہ دیش یہ دو ممالک بھارت کے ٹکڑے ہو کر ہی وجود میں آئے ہیں، اس موقع پر ممتاز دانشور عالیہ امام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم نے فکری اور عملی طور پر یہ ثابت کردیا ہے کہ قائد کسے کہتے ہیں؟ اور اس کا معیار کیا ہونا چاہیے؟ قائد اعظم نے واضح کیا کہ اچھے قائد میں کیا کیا صفات ہونا ضروری ہیں، ا سکے لیے اعلیٰ مقصد، اعلیٰ نظریہ ضروری ہے، اپنی فکر کو آگے بڑھاتے ہوئے قائد یہ ثابت کرے کہ وہ اپنی ذات میں کندن ہے، ہمارے لیے ان کے نظریات آج بھی ہمیشہ کی طرح وقت کی ضرورت ہیں۔ میاں عبدالمجید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے بچپن میں قائد اعظم کو اس وقت دیکھا جب پاکستان نہیں بنا تھا، قوم کو ایک ایسے وقت میں قائد اعظم ملے جب ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت ناگفتہ بے تھی، مسدس حالی میں یہ چیزیں موجود ہیں، مولانا حالی نے قوم کیلئے دعا مانگی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے قائد اعظم سے میں نے کیا سیکھا، میں آپ کو بتاتا ہوں میں پنجاب کے ایک گاؤں میں پیدا ہوا، میرے والد مجھے لاہور لے کر آئے، جہاں مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع تھا، میں نے اپنی زندگی میں اتنا بڑا اجتماع نہیں دیکھا تھا، دیکھا کہ جگہ جگہ اندرون شہر پھولوں کے انبار لگے ہوئے ہیں، میرے پوچھنے پر بتایا گیا کہ گذشتہ دنوں خاکساروں پر جو گولی چلی تھی، اس میں خاکساروں کے جسم سے نکلنے والا خون جہاں جہاں گرا، وہاں وہاں یہ پھول ڈالے گئے، قائد اعظم کی ایک جھلک میں نے دیکھی اس جگہ جہاں ایک ملی نغمہ بج رہا تھا کہ ”ملت کا پاسبان ہے ……محمد علی جناح“، اس کے بعد میری زندگی کا رُخ بدل گیا اور اس کے مثبت اثرات میری زندگی پر پڑے۔ میرے اندر اتنا اعتماد پیدا ہوگیا تھا کہ جب میں گاؤں گیا تو میں نے بتایا کہ میں تھوڑے سے لوگوں کا نہیں بلکہ ایک بڑی امت کا فرد ہوں، اس کے بعد مجھے ساری زندگی احساس کمتری نہیں ہوا، انہوں نے کہا کہ لوگ قائد سے اس قدر محبت کرتے تھے کہ جس کی کوئی انتہا نہیں۔ قائد اعظم کبھی کبھی انگریزی میں تقریر کیا کرتے تھے، مگر لوگوں کی عقیدت کایہ حال تھا کہ وہ کہتے تھے کہ یہ شخص ہماری بات کررہا ہے اور یہ بکاؤ مال نہیں۔ میں تو یہی کہوں گا کہ قائد کی زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح ہے، ان کے عمل سے ہمیں بہت کچھ سیکھنا چا ہیے۔ نظریہ پاکستان کبھی بھی ختم نہ ہوا، آج بھی زندہ ہے۔ پروفیسر صائمہ زیدی نے کہا کہ قائد اعظم نے لندن سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا تھا اور دنیا میں شہرت حاصل کی، پاکستان تمام مذاہب اور اقوام کو احترام دینے والا ملک ہے، اور بابائے قوم کا بھی یہی نظریہ تھا، انہیں کوئی خرید نہیں سکتا تھا، انہوں نے کبھی عہدوں کا لالچ نہیں کیا، ان کی نڈر قیادت نے ہی آزاد وطن دیا، انہوں نے انگریزوں کی جانب سے بڑی بڑی آفرز ٹھکرادی تھیں، آج ہم قائد اعظم کے احسان مند ہیں کہ انہوں نے ہمیں ایک آزاد وطن دیا۔ سندھ بینک کے صدر عمران صمد نے کہا کہ ہندوستان سے الگ ہونے کا مسلمانوں کو بہت فائدہ پہنچا، ہماری اپنی مسلم حکومت ہے، قائد اعظم ایک رول ماڈل تھے، قائدکے دنیا سے جانے کے بعد ایک بڑا خلاء پیدا ہوا، قائد نے ہمیشہ دو قومی نظریے کی بات کی، بنگلہ دیش بننے کے بعد یہ ثابت ہوا کہ دو قومی نظریے کو مزید تقویت ملی ہے، آج جو ہندوستان میں ہورہا ہے اس سے ثابت ہوا کہ دو قومی نظریہ آج بھی زندہئ جاوید ہے۔ ہم نے یہ ملک بنانے کے لئے لازوال جدوجہد کی ہے، آج ہمارے ملک میں بہترین بینکنگ کا نظام ہے، مالیاتی ادارے ہیں، ہزاروں بینکوں کی برانچز ہیں، اگر ہم ہندوستان میں ہوتے تو ہمارے پاس کوئی بڑی نوکری نہیں ہوتی، ہم قائد اعظم کے شکر گذار ہیں کہ اس نے ہمیں علیحدہ وطن دیا۔ قبل ازیں کلب کے صدر مبشر میر نے ابتدائی کلمات میں کہا کہ آج ہم آزاد ملک میں سانس لے رہے ہیں، اور ہمیں کھل کر بات کرنے کی آزادی ہے، جس کا تصور آج ہندوستان میں ناپید ہوچکا ہے، وہاں اظہار رائے کا حق چھینا جارہا ہے، اور شہادت حق کہنے والوں کی جائیدادیں ضبط کی جارہی ہیں، کشمیری عوام کی حالت زار دیکھی نہیں جارہی، ان پر بھارت طرح طرح کے مظالم ڈھا رہا ہے، بابائے قوم کی سیاسی بصیرت سے مسلمانوں کا بحیثیت قوم علیحدہ تشخص اجاگر ہوا، دو قومی نظریہ اس حوالے سے بھی سچ ثابت ہوگیا کہ بھارت میں شہریت کے متنازع قانون نے پورے بھارت میں انتشار پیدا کردیا ہے۔ ہماری نئی نسل آزادی کا مطلب اچھی طرح سے جانتی ہے، کیونکہ آزادی بہت بڑی نعمت ہے، اچھی قومیں اپنے محسنوں کے احسانات کو کبھی فراموش نہیں کرتیں، ہماری قوم یہ احسان ساری زندگی نہیں بھولے گی، ہم نے صبح مزار قائد پر دیگر اراکین کے ہمراہ حاضری دی، عوام کا جذبہ دیکھنے کے قابل تھا، بڑی تعداد میں بچے اور اسکاؤٹس موجود تھے، قائد اعظم کی زندگی ہمارے لیے مینار نور ہے، میں جانتا ہوں کہ قائدا عظم نے لیڈرشپ کا معیار ایک دن میں نہیں بنایا، بلکہ انہیں کافی عرصہ لگا۔ آج تاریخ ان واقعات کو سامنے رکھے گی، انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کی یوم پیدائش کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔ کلب کے سیکریٹری جنرل منظر نقوی نے کہا کہ ہم ہمیشہ یہ دن قائد کے شایان شان طریقے سے منائیں گے کیونکہ یہ ان کا حق ہے۔ قائد اعظم کا پیغام ہماری نئی نسل تک تاحال نہیں پہنچ سکا، لوگوں کو ان کے بارے میں آگاہی ملنی چاہیے، کیونکہ وہ ایک بین الاقوامی لیڈر تھے، وہ ایک عام شخصیت کے مالک نہیں تھے، وہ ایک بارعب شخصیت کے مالک تھے، ان کے بعد کوئی ایسی شخصیت ان جیسی نہ آسکی، ہمارا فرض ہے کہ قائد کے ویژن کو آگے لے کر چلیں۔خواجہ رضی حیدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ قائد اعظم جیسی شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہے، قائد اعظم کی زندگی کے مختلف دور میں اپنے فرائض انجام دیے، ہر دور میں اپنا لوہا منوایا، سیاست دان کی حیثیت سے انکی مثال نہیں  ملتی، وہ بہت اچھا اور بڑا ویژن رکھتے تھے، انہوں نے اس قوم کے ل یے ایک الگ وطن حاصل کیا بلکہ اس قوم کی زندگی کو مستحکم بھی بنایا، وہ دنیا کے مسلم رہنماؤں میں ایک اعلیٰ مقام رکھتے تھے۔ آخر میں جن شخصیات کو ایوارڈ سے نوازا گیا، ان میں خواجہ رضی حیدر، سلطانہ صدیقی، خورشید حیدر، سید ابن احسن، عبدالمجید، عالیہ امام، انور شہود، عبدالحسیب خان، یاور مہدی، مختار احمد بٹ، یوسف ایس شیرازی، عمران رانا، عمران صمد، ستار حبیب شامل ہیں۔ تقریب کے آخر میں کلب کے نائب صدر مختار عاقل نے شرکاء کی تشریف آوری کا شکریہ ادا کیا۔ 

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر