حکومت سندھ کراچی سیف سٹی پراجیکٹ کو اپڈیٹ کرے،خرم شیر زمان

حکومت سندھ کراچی سیف سٹی پراجیکٹ کو اپڈیٹ کرے،خرم شیر زمان

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر) صدر پی ٹی آئی کراچی و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے حکومت سندھ سے سیف سٹی پراجیکٹ کو اپڈیٹ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے بعداپیکس کمیٹی نے دسمبر 2018 میں کراچی سیف سٹی پراجیکٹ کو آزمائشی بنیادوں پر منظور کیا تھا۔ 1 سال گزرنے کے باوجود کراچی سیف سٹی پراجیکٹ پر عملدرآمد کروانے میں سندھ حکومت ناکام رہی ہے۔وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے پاس محکمہ داخلہ کی بھی وزارت ہے۔وزیر اعلی سندھ  اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں اس پراجیکٹ کے حوالے سے تمام اراکین اسمبلی کو بریفنگ دیں۔ انہوں نے کہا وزیر اعلی سندھ ایوان میں بتائیں کہ پولیس، ٹریفک پولیس، ایمبولینس و دیگر کو ریپڈ رسپونس کی تربیت دی گئی یا نہیں؟ اگر پولیس اہلکاروں کو تربیت نہ دی گئی تو شہر میں جدید ٹیکنالوجی کے سی سی ٹی وی کیمرے بھی تبدیلی کا سبب نہیں بن سکتے۔ خرم شیر زمان نے مزید کہا کہ لاہور کے سیف سٹی پراجیکٹ میں 15 بلین سے زائد کی لاگت آئی تھی۔لاہور پراجیکٹ میں 10 ہزار سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے، پیٹرولنگ کے لیے جدید اسلحہ سے لیس تربیت یافتہ سکیورٹی فورس و دیگر پر 15 بلین تک لاگت آئی تھی۔ خرم شیر زمان نے سوال کیا کہ سندھ حکومت کراچی میں سیف سٹی پراجیکٹ پر لاہور سے دگنے پیسے لگنے کے لیے تیار ہے؟شہر میں جرائم و اسٹریٹ کراِئم کا اضافہ فوری سیف سٹی پراجیکٹ پر عملدرآمد کا متقاضی ہے۔سپریم کورٹ کی ہدایات تھی کہ سندھ حکومت شہر کراچی میں سیف سٹی پراجیکٹ فوری شروع کرے۔اپیکس کورٹ سے گزارش ہے کہ وہ سندھ حکومت سے سیف سٹی پراجیکٹ کے حوالے سے سوال کرے تا کہ شہر میں کراچی سیف سٹی پراجیکٹ فوری شروع کیا جاسکے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...