2019ء میں اڑھائی ہزار سے شکایات موصول، 600انکوائریاں،100گرفتاریاں 

    2019ء میں اڑھائی ہزار سے شکایات موصول، 600انکوائریاں،100گرفتاریاں 

  



ملتان (وقائع نگار) ایف آئی  اے سائبر  کرائم ونگ کو رواں سال کے دوران دو ہزار سات سو شکایات وصول ہوئیں ہیں۔جن میں سے  600  پر انکوائریاں کی گئیں۔58 پر مقدمات درج کئے گئے۔ 100 سے زائد افراد کو  گرفتار  کیا  گیا  اور متعدد  کے چالان بھی بنائے گئے۔ایف  آئی اے سائبر کرائم ونگ  ذرائع  کیمطابق ایف آئی اے میں زیر سماعت کیسز میں 150 انکوائریاں سوشل میڈیا اور فیس بک پر سائلین کو درپیش مشکلات کی ہیں،200 سے زائد انکوائریاں  بینکنگ  سیکٹرز میں فراڈ کے حوالے سے(بقیہ نمبر15صفحہ12پر)

 زیر سماعت ہیں۔اسکے علاوہ  واٹس ایپ پر سائلین کو دھمکی آمیز پیغامات اور  فحش مواد کے حوالے سے  بھی 100 سے زائد انکوائریاں  چل رہی ہیں۔ایف ائی آئی اے  سائبر کرائم ونگ میں رواں سال ایک چائلڈ پورنو گرافی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا۔سائبر کرائم ایکٹ کے  تحت بھی 50  انکوائریاں چل رہی ہیں۔حکومت  کے خلاف سوشل  میڈیا پر مواد شیئر کرنے کی بھی انکوائریاں چل رہی ہیں جن میں سٹیٹ خود مدعی بنی ہے۔علاوہ ازیں سائبر کرائم ونگ میں سیاسی شخصیات کو بلیک میل کئے جانے بارے بھی  انکوائری چل رہی ہے جس میں پی ٹی آئی  رہنما و انچارج  وزیر اعلی  شکایات سیل طاہر حمید قریشی کی درخواست  قابل زکر ہے جس میں سابق ایم پی اے سمیت دیگر سیاسی  شخصیات کو بھی شامل  تفتیش کیا جا چکا ہے جبکہ جہانیاں  کے ایم پی اے میاں عطاء   الرحمن کے ویڈیو سکینڈل کیس کے بعد  میاں عطاء نے سائبر کرائم ونگ میں از خود درخواست بھی دی ہوئی ہے جس میں انہوں نے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف جاری مہم  روکنے کی درخواست کی ہے ایف آئی اے سا  ئبر کرائم ونگ اس پرکام کر رہی ہے۔

ایف آئی اے

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...