ملک کا معاشی حب گیس سے محروم، شہری لکڑیوں پر کھانا پکانے پر مجبور

ملک کا معاشی حب گیس سے محروم، شہری لکڑیوں پر کھانا پکانے پر مجبور

  



کراچی(اکنامک رپورٹر)صوبہ سندھ میں گیس بحران شدید تر ہوگیا، ملک کے سب سے بڑے، سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے شہر اور معاشی حب کے شہری لکڑیوں پر کھانا پکانے پر مجبور ہوگئے جبکہ سی این جی اسٹیشنز کی بندش کے باعث رکشہ اور ٹیکسی کے ڈرائیور حضرات رل گئے،سڑکوں پر بسیں بھی کم،مسافروں کو بھی پریشانی کاسامناکرناپڑا۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں گزشتہ ہفتے سے شروع ہونے والی سی این جی کی بندش ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی، سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے تاریخ پر تاریخ دی جارہی ہے جس سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے۔ سوئی سدرن گیس کمپنی کی نااہلی کی وجہ گھریلو، صنعتی اور سی این جی صارفین رل گئے ہیں۔گیس کی عدم فراہمی کے باعث خواتین لکڑیوں پر کھانا پکانے پر مجبور ہیں۔سوئی سدرن کمپنی بغیر مستقل ایم ڈی کے کام کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایس ایس جی سی کو 15سو ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فیٹ پر ڈے (ایم ایم سی ایف ڈی)گیس کی ضرورت ہے، ایس ایس جی سی کو 11 سو 50 ایم ایم سی ایف ڈی گیس سپلائی ہو رہی ہے اور ادارے کو 450 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی کمی کا سامنا ہے۔ادارے کے سینئر جی ایم ڈسٹری بیوشن سعید احمد لارک کے مطابق70 سے 75 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کا شارٹ فال ہے۔ان کے مطابق سردیوں میں گیس کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہوتی ہے۔ کوشش ہے جنوری تک گیس کی سپلائی بہتر ہوجائے۔کراچی میں سی این جی اسٹیشنزکی مسلسل بندش کے باعث رکشہ اور ٹیکسی کے ڈرائیور حضرات رل گئے ہیں۔ڈرائیور حضرات کے مطابق کچھ سی این جی اسٹیشنز بلیک پر پابندی کے باوجود سی این جی کی فروخت کررہے ہیں۔سی این جی اسٹیشنز کی مسلسل 4 روز سے بندش کے باعث شہر میں بسوں کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔شہر قائد کی عوام بسوں کی چھتوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔صارفین کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے سے سی این جی نہ ملنے کی وجہ سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہورہے ہیں، سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے واضح شیڈول جاری نہیں کیا جارہا ہے، ایک روز کرکے ایک ہفتے کی بندش کی گئی اور اب بھی نہیں معلوم کہ آئندہ سی این جی کب ملے گی۔ادھر سوئی سدرن گیس کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سسٹم میں گیس پریشر میں بہتری آنا شروع ہوگئی ہے مگر کم پریشر کا سامنا اب بھی موجود ہے، گھریلو اور کمرشل صارفین کو گیس پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ پریشر کی کمی کے باعث سی این جی اسٹیشنز مزید 24 گھنٹے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ ایس ایس جی سی مینجمنٹ پریشر کا جائزہ لے رہی ہے، جیسے ہی گیس پریشر میں بہتری آئی، سی این جی اسٹیشنز کھول دیے جائیں گے، پریشر میں کمی کے باعث سی این جی اسٹیشزکی بندش مزید 24 گھنٹے رہے گی، حکومت پاکستان کے لوڈ مینجمنٹ کے حوالے سے سب سے پہلے گھریلو اورکمرشل صارفین کو گیس پہنچانا اولین ترجیح ہے۔واضح رہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے گزشتہ اعلامیے کے مطابق سی این جی اسٹیشن بدھ کی شب 8 بجے کھلنے تھے تاہم حکام نے ڈیڑھ گھنٹہ قبل بندش کا دورانیہ مزید 24 گھنٹے بڑھاکر صارفین کی امیدوں پر پانی پھیردیا، سی این جی کے لیے ترستے ہوئے صارفین نے کئی گھنٹہ قبل ہی سی این جی اسٹیشنوں پر گاڑیوں کی قطاریں لگالی تھیں، ساڑھے 6 بجے شام سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے بندش کا دورانیہ بڑھائے جانے کے اعلان سے قطاروں میں لگے شہری مایوس ہوگئے۔

مزید : صفحہ اول