سال 2019ء پی ٹی آئی کے لئے کانٹوں بھرا سال رہا!

سال 2019ء پی ٹی آئی کے لئے کانٹوں بھرا سال رہا!

  



حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے سال 2019 اقتدار میں تو گزارا مگر یہ سال اس پارٹی کے لئے کافی مشکلات بھی لے کر آیا اور اس دوران اس کو بہت سے اتار چڑھاؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا اور اگر یہ کہا جائے کہ اس سارے سال کے دوران پی ٹی آئی کو بھرپور تنقید اور مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑا تو یہ بھی بے جا نہ ہو گا یہاں یہ بات بھی قابل زکر ہے کہ ملک بھر میں ہونے والی ہوش ربا مہنگائی کے باعث پارٹی کے گراف میں بھی غیرمعمولی کمی آئی، پی ٹی آئی کومرکز پنجاب اور کے پی کے میں اقتدار تو ملا مگر یہ اقتدار اس کے لئے کوئی پھولوں کی سیج ثابت نہ ہوا، مرکز اور پنجاب میں مخلوط حکومت بنی، سیٹوں کا ما رجن کم ہونے کے باعث تحریک انصاف کو اپنے اتحادیوں کو منانے اور خوش رکھنے کے لئے بڑی تگ و دو کرنا پڑی، اس کم مارجن کا فائدہ اٹھانے کے لئے اپوزیشن مسلسل حکومت پر دباؤ بڑھا رہی ہے مگر تحریک انصاف کی خوش قسمتی رہی ہے کہ اپوزیشن کی بڑ ی جماعتوں کے راہنماؤں کو کرپشن کیسز کا سامنا کرنا پڑا جو حکومت کو زیاد ہ ٹف ٹائم نہ دے سکی۔

تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف 25 اپریل 1996 میں معروف کرکٹر عمران خان نے بنائی اور خود ہی پارٹی کے چیئرمین بنے اور تاحال چیئرمین ہیں۔ 23 سالہ تحریک انصاف کو 25 جون 2018کو ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی کی صورت میں پہلی بار مرکز اور دو صوبوں کے پی کے اور پنجاب میں اقتدار نصیب ہوا، مگر کے پی کے کے سوا مرکز اور پنجاب میں مخلوط حکومت بنی اور بہت کم مارجن حکومت قائم ہے بعض اتحادی تحریک انصاف سے ناراض بھی ہوتے ہیں اور اپنے مطالبات منانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔2019 جہاں تحریک انصاف کے لئے خوشیاں لایا وہاں مشکلات پریشانیاں بھی ملیں،تحریک انصاف کو جب سے حکومت ملی ہے مالی پریشانیاں ختم نہیں ہو رہیں، ڈالر کی قیمت میں غیر معمولی اضافے سے آنے والے مہنگائی کے طوفان تحریک انصاف کی حکومت کے لئے پریشانی کا سبب ہے۔ فارن فنڈنگ کیس بھی تحریک انصاف کے لئے پریشانی کا باعث بنا رہا۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع دی گئی مگر سمری میں ہونے والی غلطیاں بھی پی ٹی آئی کے لئے ایک جگ ہنسائی کا باعث بنی رہیں عدلیہ نے بھی اس حوالے سے نوٹس لیا اور آرمی چیف کو چھ ماہ کی توسیع دے کر حکومت کو آرمی چیف کی مدت ملازمت اور توسیع کے حوالے سے قانون سازی کے لئے چھ ما ہ کا وقت دے دیا گیا۔ رواں سال ڈینگی نے پی ٹی آئی کی حکومت کو تگڑی کا ناچ نچائے رکھا حکومتی نااہلی کے باعث رواں سال ڈینگی کے 9 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے اور 21سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔ پنجاب میں تین وزیر اطلاعات، 3چیف سیکریٹری اور تین ماہ میں تین آئی جی بھی تبدیل کر دئیے گئے مگر حالات می کوئی بہتری نہ آئی،وکیلوں کے پی آئی سی پر حملے کو حکومت کی بڑی ناکامی قرار دیا گیا۔ وزیر اعظم کی کفائت شعاری مہم کی بھی دھجیاں آڑائی گئیں وفاق میں وزراء اور مشیروں اور معاونین خصوصی کی تعداد غیر معمولی اضافہ کر دیا جن کی تعداد 50تک پہنچ گئی۔

پنجاب میں 45 وزرا اور مشیرں کی فوج بنا دی گئی، پنجاب کے اراکین اسمبلی اور وزیر اعلی پنجاب سمیت تمام وزرا مشیروں اور معاونیں خصوصی کی بھی تنخواہوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا گیا۔تحریک انصاف نے الیکشن سے قبل کیا گیا جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کا نہ صرف وعدہ پورا نہیں کیا بلکہ جنوبی پنجاب کے لئے علیحدہ سیکریٹریٹ بنانے کا بھی تاحال نہیں بنایا جا سکا۔ پنجاب کے لئے عثمان بزدار کو وزیر اعلی بنا کر وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ یہ وسیم اکرم پلس ثابت ہوں مگر ایسا کچھ نہ ہوا بلکہ وزیر اعلی کو سہارا دینے کے لئے ان کے 40ترجمان مقرر کر دئیے گئے اور اس کے باوجود انہیں کڑی تنقید کا سامنا ہے پی ٹی آئی کے لئے اس سال کا اگر سب سے دلخراش واقعہ سانحہ پی آئی سی قرار دیا جائے تو یہ بھی بے جا نہ ہو گا کیونکہ اس سانحہ کی وجہ سے بھی پی ٹی آئی کو پنجاب میں اچھی خاصی مشکلات کا ابھی تک بھی سامنا ہے اور اگر مستقبل میں بھی پی ٹی آئی نے ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے کچھ نہ کیا تو پھر پی ٹی آئی کو نئے سال میں بھی مشکلات کا ہی سامنا کرنا پڑے گا۔

مزید : رائے /کالم


loading...