شہادت خوش نصیبی کی علامت

شہادت خوش نصیبی کی علامت
 شہادت خوش نصیبی کی علامت

  



کچھ شخصیات غیر معمولی صلاحیتوں کی مالک ہوتی ہیں قدرت انک زندگی اور کردار کا تعین کرتی ہے اور تاریخ ان شخصیات کو بلند مقام عطا کرتی ہے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کا شمار بھی ان ہی شخصیات میں ہوتا ہے طویل جلاوطنی کے بعد 2007 میں وطن واپسی سےقبل بی بی شہید نے اپنے مضمون میں لکھا تھا " اس زندگی کا میں نے انتخاب نہیں کیا بلکہ اس زندگی نے میرا انتخاب کیا ہے بی بی شہید کا سیاسی اور سماجی اعتبار سے انتہائی اعلی اور تعلیم یافتہ خاندان ہے 21 جون 1953 کو محترمہ نے جنم لیا اگر وقت الٹی سمت چلنے لگے اور ہماری ملاقات قائدِ عوام جناب زوالفقار علی بھٹو مرحوم سے ہو تو ان سے ہمارا سوال ہوتا کہ کہ آپ نے اپنی لاڈلی بیٹی کا نام بینظیر رکھا تھا تو آپ کے زہن میں انکے مستقبل کا کیا نقشہ تھا ؟ مگر جب قائدِ عوام بھٹو صاحب کے محترمہ بیبی شہید کی سالگرہ کے موقع پرلکھے ہوئے خط کے اقتباسات یاد آتے ہیں تو ہرسوال کاجواب مل جاتا ہے وہ لکھتے ہیں " پنڈت لال نہرو بھی اپنی بیٹی اندرا کو خطوط لکھتے تھے میں تمھارا موازنہ ہرگز اندرا کے ساتھ نہیں کروں گا جن حالات کاتم سامنا کررہی ہو اندرا نے ان حالات کاسامنا نہیں کیا تم ایک ایسی آمریت کا مقابلہ کررہی ہو جس نے تمہارے چاروں طرف آگ جلا رکھی ہے تم اپنی ماں کے ساتھ قید ہو ایک قیدی باپ اپنی انتہائی پیاری بیٹی کی سالگرہ کے موقع پر کیاتحفہ دےسکتا ہے آج میں اپنے عوام جن سے میں عشق کرتا ہوں ، کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں دےرہا ہوں یہ میری دیانتدارانہ رائے ہے کہ تم مجھ سے زیادہ زہین اور قابل ہو مجھے یقین ہے کہ تم میرے عوام کی مجھ سے زیادہ خدمت کرو گی آسمانوں کی جنت ماں کے قدموں میں ہے اور سیاسی جنت عوام کے قدموں میں ہے دراصل مرحوم قائدعوام نے اپنے خط کے ذریعے محترمہ بی بی شہید کو اپنا سیاسی جانشین نامزد کرتے ہوئے نصیحت بھی کی اور وصیت بھی ۔ اور بی بی نے اپنے انقلابی والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے آرام دہ زندگی گزارنے کی بجائے زندان کو اپنا مسکن بنایا حقیقت یہ کہ انکی کسی سے لڑائی نہیں تھی بلکہ انکی جدوجہد کا مقصد انسانی آزادی کچلے ہوئے طبقات کےلیے سماجی اور معاشی انصاف کا حصول تھا اگر آپ کی زندگی کاجائزہ لیا جائے تو ان کی 30 سال کی زندگی آمریت کی مزاحمت میں گزری بات صرف اتنی تھی کہ وطن کی آذادی ،قوم کی خوداری جمہوریت ،انسانی آزادی اور سماجی انصاف انکی سیاست اور مشن تھا وہ مفاہمت کی امین رہیں طویل جلاوطنی کے بعد 18 اکتوبر 2007 کو جب وطن واپس آئیں تو ان کا مقصد صرف 1973 کے آئین کی بحالی اور پارلیمنٹ کی بالادستی تھی 27 دسمبر 2007 کو شہادت سے سے تھوڑی دیرقبل آپ نے اپنے عزم کو دہرایا کہ یہ دھرتی مجھے پکار رہی ہے جی ہاں دھرتی نے انہیں صدا دی تھی اور جان کا نذرانہ مانگا تھا جبکہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی تھیں لیکن انہیں نہ جان کی پرواہ تھی اور نہ ہی موت کا خوف وہ صرف وطنِ عزیز پاکستان کی وزیراعظم ہی نہیں تھیں بلکہ بین الاقوامی شہرت رکھنے والی عالمی سیاستدان بھی تھیں اور خارِزار سیاست میں ہر قسم کی مشکلات اور مصائب سے نبردآزما ہونا جانتی تھیں لیکن انہیں جس سفاکانہ انداز میں بالجبر سیاسی منظر نامے سے ہٹا دیاگیا وہ ہمارے ملک میں مسائل کو دلیل کی قوت کی بجائے بندوق کی طاقت سے حل کرنے کے خطرناک رحجان کامظہر ہے دہشت گردی ،سیاسی ،سماجی یا مذہبی بغض و عناد کے اس دہکتے ہوئے آتش فشاں کو اگر ٹھنڈا نہ کیاگیا تو سب کچھ بھسم ہوکررہ جائے گا کیونکہ اس تاریخی حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ تشدد ، تشدد کو جنم دیتاہے اور جب یہ سلسلہ ایک مرتبہ چل نکلتا ہے تو پھر ہر وہ فرد اور گروہ جسکے پاس مالی ،افرادی یا اسلحی کسی بھی قسم کی طاقت ہوتی ہے وہ اپنے معاملات اسی کے ذریعے طے کرتا ہے ریاست کا کام ایسے رحجانات کوروکنا ہے محترمہ بینظیر بھٹو شہید صاحبہ نے غیور اور محبِ وطن عوام کے درمیان مسکراتے ہوئے ہاتھ لہراتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے یہ ثابت کیا کہ دھرتی اور عوام سے محبت کرنے والے شان سے جیتے ہیں اور شان سے موت قبول کرتے ہیں

( التماسِ سورہء فاتحہ براےءایصالِ مغفرت )

.

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ