پاکستان میں بھکاریوں کی باقاعدہ بھرتی ہونا شروع ، یہ گروہ کن کن ممالک میں کام کرتا ہے اور ہدف کون لوگ ہیں؟ تہلکہ خیز انکشاف

پاکستان میں بھکاریوں کی باقاعدہ بھرتی ہونا شروع ، یہ گروہ کن کن ممالک میں کام ...
پاکستان میں بھکاریوں کی باقاعدہ بھرتی ہونا شروع ، یہ گروہ کن کن ممالک میں کام کرتا ہے اور ہدف کون لوگ ہیں؟ تہلکہ خیز انکشاف

  



لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان میں باقاعدہ  بھکاریوں کی بھرتی ہونا شروع ہوگئی ہے اور ان کا ہدف اچھے بھلے نوکری کے خواہشمند بچے ہیں، یہ انکشاف میاں اشفاق انجم نے اپنے کالم میں کیا۔ روزنامہ پاکستان میں انہوں نے لکھا کہ " نبی  مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے اوپر والا ہاتھ اور نیچے والا ہاتھ کبھی برابر نہیں ہو سکتے،اوپر والے ہاتھ کو دینے اور نیچے والے والے ہاتھ کو لینے والے سے تشبیح دی جاتی ہے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دینے کا حکم دیا ہے،دینے والے کے درجات کی بلندی کے ساتھ اجرو ثواب کا بھی قرآن عظیم الشان میں بار بار ذکر فرمایا گیا ہے، مال کی برکت مال کو بڑھانے کا فارمولا دینے میں ہی بتایا گیا، زکوٰۃ، صدقات، فطرانہ، قربانی سب کچھ جذبہ دینے میں ہی پنہاں ہے،ایک کے بدلے 70اور700 تک دُنیا میں اور کئی گنا آخرت میں دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔یہی وجہ ہے پاکستان دُنیا میں خیرات و صدقات دینے والے ممالک میں سب سے آگے ہے،دینے کے حوالے سے بے شمار مثالیں دی جاتی ہیں اللہ والے اپنے مال اور جانوں کے بدلے جنت کا سودا کرتے ہیں، کہا جاتا ہے جس کنوئیں سے پانی نکلتا رہے اس کنوئیں کا پانی صاف رہتا ہے، جس کنوئیں سے پانی نہ نکالا جائے بدبو دینا شروع کر دیتا ہے، جوہڑ بن جاتا ہے یہی حال اللہ نے مال کا بتا دیا ہے۔ وہ مال جس سے صدقہ دیا جاتا ہے خرچ کیا جاتا ہو وہ کبھی کم نہیں ہوتا، خرچ نہ کرنے والے کے مال کی بے برکت کا بھی واضح فرمان ہے، خرچ نہ کرنے والے کنجوس کی حالت ِ زار کا بھی متعدد بار ارشاد ہوا ہے۔

پاکستان میں دینے کے عمل کو غلط انداز سے لیا جاتا ہے،مخصوص مافیا نے مسلمانوں کے رحم کے جذبہ سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے، پاکستان میں منگوانے کا مکروہ دھندہ مافیا کی شکل اختیار کر چکا ہے،اس مافیا کا نٹ ورک پاکستان کے تمام بڑے شہروں کے ساتھ سعودیہ کے شہروں حرمین شریفین اور عرب امارات تک پھیلا ہوا ہے۔پاکستان میں بھکاریوں کی باقاعدہ بھرتی ہونا شروع ہو گئی ہے،غریب علاقوں سے اچھے بھلے بچے بچیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر شہروں میں لایا جا رہا ہے، ان کے جسم کے اعضاء کاٹ کرمعذور بنایا جا رہا ہے اور پھر زندگی بھر کی محتاجی ان کا مقدر بنا کر بھکاریوں کی فوج کا زندگی بھر کے لئے حصہ بنایا جاتا ہے۔

گزشتہ30سال سے مَیں لاہور کی سڑکوں، چوکوں اور گلی محلوں میں یہ دھندہ ہوتا دیکھ رہا ہوں،ہر حکومت میں سوشل ویلفیئر کا محکمہ موجود ہے، جس کے ذمہ بحالی ئ معذوراں کا شعبہ ہے،خدمت کے دیگر ادارے بھی موجود ہیں، جو مانگنے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں،ہر حکومت کو سال میں دو تین بار میڈیا کی نشاندہی پر ہوش اور جوش آتا ہے، چوکوں میں پکڑ دھکڑ ہوتی ہے، صبح پکڑے جاتے ہیں شام کو پھر چوک ان بھکاریوں سے آباد ہو جاتے ہیں،بھکاریوں کی آباد کاری کا منصوبہ بھیک مانگنے سے منع کر کے انہیں روزگار کی فراہمی تک منصوبے متعارف کرائے گئے،مگر ایک دفعہ مانگنے کا چسکا جس کو پڑ گیا اس کو ڈنڈوں کی ماڑ پڑتی رہی، تھانے میں بند کیا جاتا رہا،

جیل کی سلاخوں کا مزا دیا جاتا رہا وہ رہا ہو کر چوک میں بیٹھ کر ہی سکون میں آیا،چوک میں اب بچے بچیوں سے بڑھ کر بزرگ مرد اور خواتین کو بھکاری بنا کر بھیک منگوانے کا رواج تیزی سے بڑھ رہا ہے،بیروزگاری کہہ لیں یا بڑھتی ہوئی مہنگائی کا ناسور، نوجوان شادی شدہ جوڑے ایک ایک دو دو بچے اٹھا کر خوبصورت لباس زیب تن کئے ہوئے مارکیٹوں میں بھیک مانگتے پھر رہتے ہیں، مساجد میں ادویات لینے کے لئے نوجوان بچے بچیوں کو اٹھائے بھیک مانگ رہے ہیں۔راقم کو متعدد بار مسجد میں اتفاق ہوا ہے اچھا بھلا آدمی ہے وہ بچے کی دوائی،والدہ کی دوائی کی پرچیاں لئے مانگ رہا ہے، بزرگ گھر کا کرایہ نہیں دیا جا رہا، رو رو کر مانگ رہا ہے جب اس کو کہا گیا آپ پرچی لائیں آپ کو دوائی لے دیں اس کا جواب ہوتا ہے یہ دوائی یہاں سے نہیں ملے گی۔ یہی حال کرائے والے کا ہے وہ کہتا ہے مجھے رقم دے دیں مَیں کرایہ خود دوں گا۔

تیسرا فیکٹر ہے جو سب سے زیادہ ہے، مگر ہو اس میں بھی اُلٹ رہا ہے وہ بچے بچیاں، عورتیں، مرد جوان سب کہہ رہے ہیں،کھانا کھانا ہے، پیسے دے دیں جب ان کو کہا جاتا ہے آئیں آپ کو کھانا کھلا دیں،وہ فوری بھاگ جاتے ہیں یا رو کر کہہ دیتے ہیں،ہم بہن بھائیوں کے ساتھ کھائیں گے، پیسے دے دیں،بھیک مانگنا پروفیشن بن چکا ہے، بھکاری باقاعدہ صنعت بن چکے ہیں، ان کا نیٹ ورک دہشت گردی، اغوا کاری، اغوا برائے تاوان جیسے گھناؤنے جرائم کی آبیاری ہو رہی ہے، ان جرائم کو کیسے روکا جائے یہ یقینا کسی ایک فرد کا کام نہیں ہے،معاشرتی ناسور بن چکا ہے اس کے لئے حکومت کو یہی منصوبہ بندی کرنا ہوں گی، ہم صبح سویرے اپنے بچے بچیوں کو سکول کالج چھوڑنے جاتے ہیں،بچے بچیوں کے سر صدقے کے طور پر10روپے،20روپے چوکوں میں سردی میں کھڑے بزرگ مرد و خواتین اور بچوں کو دے کر اللہ کو راضی کر کے اپنے بچوں کی زندگی کی ضمانت لے لیتے ہیں۔

بظاہر بڑا نیکی کا کام ہے، مگر ہم نادانستہ طور پر اس مافیا کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں،جو ملک گیر نیٹ ورک میں اپنی گاڑیوں میں ان مرد و خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو بھیک منگوانے کے لئے چوکوں میں اُتار جاتے ہیں اور پھر سارا دن رات اس مشین سے نوٹ چھاپتے ہیں ان کے لئے کسی بچے کی ہڈی توڑنا معذور کرنا مذاق سے زیادہ نہیں ہے۔

کراچی کے نوجوان مبارکباد کے مستحق ہیں انہوں نے معاشرے کے احیاء اور بھکاری مافیا کے آگے پُل باندھنے کے لئے مہم شروع کی ہے، بھکاری مافیا کے توڑ اور روک تھام کے لئے اس منفرد مہم کا نام ”بھکاریوں کو صرف کھانا اور پانی دیں،لیکن ایک روپیہ بھی نہیں“۔اس کا مطب ہے کسی بھی مانگنے والے کو نقد رقم نہ دی جائے، اس مہم کا ہر فرد کو حصہ بننا چاہئے اور مرد، بوڑھے، معزور، خواتین بچے بچیاں سب کو دیں ضرور، مگر کھانا یا پانی۔ فلسفہ یہ ہے اس طرح مدد بھی ہو جائے گی، بھیک مانگنے یا منگوانے والے مافیا کی آمدن میں کمی آئے گی،مافیا کی کمر توڑنے کے لئے بھکاریوں کو کسی قسم کا پیسہ نہ دیا جائے،مہم شروع کرنے والوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں دلائل دیئے ہیں۔

صدقہ و خیرات کا بہتر مستحق ہمارے رشتے دار یا اہل محلہ ہیں،اپنے محلے اور عزیز و اقارب میں نظر دوڑائیں،ان کی مالی مدد کیجئے،نوجوانوں کو کاروباری شروع کرانے میں مدد کیجئے،چوکوں میں کھڑے افراد کو نقد بالکل نہ دیجئے۔ اگر دینا چاہتے ہیں تو ان کو کھانا اور پانی دیجئے،اس کے علاوہ کچھ نہیں،آپ سب اس تحریک کو ایک دوسرے تک لے جانے میں اپنا کردار ادا کیجئے۔ اللہ ہماری کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین"

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور


loading...