” دیکھو! حور لگ رہی ہیں“ بے نظیر بھٹو کی شہادت سے قبل یہ جملہ معروف کالم نویس چودھری خادم حسین سے کس نے کہا تھا؟ ایک عرصے بعد ساری کہانی سنادی

” دیکھو! حور لگ رہی ہیں“ بے نظیر بھٹو کی شہادت سے قبل یہ جملہ معروف کالم نویس ...
” دیکھو! حور لگ رہی ہیں“ بے نظیر بھٹو کی شہادت سے قبل یہ جملہ معروف کالم نویس چودھری خادم حسین سے کس نے کہا تھا؟ ایک عرصے بعد ساری کہانی سنادی

  



لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی آج برسی منائی جارہی ہے اور اس موقع پر سینئر صحافی اور کالم نویس چودھری خادم حسین نے بھی اپنی آپ بیتی اور ساری  کہانی سنادی۔ روزنامہ پاکستان میں انہوں نے لکھا کہ "کُل نفس ذائقۃ الموت…… ہر ایک نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے، سب نے بالآخر چلے جانا اور اپنے اعمال کا حساب کتاب بھی دینا ہے۔ اموات روز ہوتی ہیں، ملنے والے، عزیز، دوست اور چاہنے والے بھی چلے جاتے ہیں، تاہم بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں کہ ان کو بھلائے بھی نہیں بھولا جا سکتا۔ابھی گزشتہ روز قوم نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا یوم پیدائش منایا، ہم نے بھی اپنی یاد تازہ کی اور خراج عقیدت پیش کیا۔ آج جب یہ تحریر لکھی جا رہی ہے تو ایک شخصیت کا ذکر ہونا ہے، جو قائداعظم جیسی تو نہیں، تاہم یاد رہنے والی ایک بڑی لیڈر ضرور ہے۔ یوں بھی اس ہستی کی موت جن حالت میں ہوئی وہ بھی بھلائے نہیں جا سکتے۔آج (جمعہ 27دسمبر) محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید) کی شہادت کا دن ہے، اس سانحہ کو بارہ سال گزر چکے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے وہ سین اب بھی موجود ہے۔ یوں بھی اس سانحہ کے ساتھ ہماری ایک اور یاد بھی وابستہ ہے۔

یہ 27دسمبر 2007ء کا دن تھا، بی بی نے اس روز لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسے سے خطاب کرنا تھا، وہ طویل عرصہ خود ساختہ جلاوطنی کے طور پر واپس ملک میں آئیں اور اصولاً یہ ان کا پہلا خطاب تھا کہ جب وہ کراچی پہنچی تھیں تو شاہکار والا سانحہ پیش آ گیا۔ خودکش حملہ نہیں حملے کئے گئے، ڈھائی سو سے زیادہ کارکن جاں بحق ہو گئے تھے اور زخمی بھی سینکڑوں میں تھے۔ محترمہ کا ٹرک محفوظ رہا تھا، اس کے بعد ان کو سیاسی سرگرمیوں سے روکنے کی کوشش کی گئی لیکن کامیاب نہ ہو سکی۔ حتیٰ کہ لیاقت باغ والے جلسے میں جانے سے بھی منع کیا گیا تھا، ان منع کرنے والوں میں خود پی پی کے حضرات بھی تھے اور محترمہ کے چیف سیکیورٹی آفیسر نے بھی یہی گزارش کی تھی۔

الیکٹرونک میڈیا دور کے جو فوائد ہیں، ان میں ایک یہ بھی ہے کہ آپ گھر بیٹھے بہت سی سرگرمیاں ٹی وی پر دیکھ لیتے ہیں۔ محترمہ کے اس جلسے کی بھی لائیو کوریج تھی۔ ہماری اس روز چھٹی تھی اور ہم گھر میں اپنی اہلیہ مرحومہ کے ساتھ جلسہ دیکھ رہے تھے محترمہ کا خطاب سنا، بہت پرجوش تھا اور انہوں نے ایک یادگار تقریر بھی کی وہ بہت خوش تھیں کہ سانحہ کراچی کے باوجود مجمع بہت بڑا تھا، محترمہ کے گلے میں بہت ہی خوبصورت موٹا سا پھولوں کا ہار تھا، وہ مسکرا رہی تھیں اور ان کا چہرہ گلابی رنگ لئے دمک رہا تھا،

سر پر سفید اوڑھنی (دوپٹہ) تھی، جب وہ تقریر ختم کرکے پچھلی طرف سے واپس جا رہی تھیں تو ہاتھ ہلا ہلا کر نعروں کا جواب دیتی جا رہی تھیں، ان کو کیا خبر تھی کہ یہ ان کا آخری عمل ہے اور وہ جلد ہی معنوی شہادت کا درجہ پانے والی ہیں۔ میری اہلیہ نے برجستہ کہا”میاں جی! دیکھو! حور لگ رہی ہیں“ وہ بھی بہت پرجوش تھیں اور بی بی کی یاد کے ساتھ ہمیں تو وہ بھی بہت یاد آتی ہیں کہ ان کے کہے گئے یہ الفاظ کانوں میں گونجتے رہتے ہیں۔ (ہماری اہلیہ 22اپریل 2009ء کو اللہ کے حضور حاضرہو چکی ہیں،) محترمہ بے نظیر بھٹو کے واپس جانے کا سین بھی دکھایا جا رہا تھا، ان کی لینڈ کروزر کی روانگی اور پھر اس مجمع کا سین بھی سامنے تھا،

جب یہ لینڈ کروز رکی اور محترمہ نے سیٹ پر کھڑے ہو کر سر باہر نکالا اور نعروں کے جواب میں ہاتھ ہلایا تو اسی وقت یہ بھی نظر آ گیا کہ گاڑی کے دائیں طرف سے کوئی شخص پستول ہاتھ میں لئے نشانہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہے اور پھر وہ سانحہ ہوا جب ایک ہی وقت میں گاڑی کے آگے دھماکہ ہوا اور محترمہ یکایک گاڑی کے اندر گرتی نظر آئیں، یہ سب بعد کی خبریں ہیں کہ کس طرح ڈرائیور گاڑی بھگا کر لے گیا اور ہسپتال پہنچنے تک وہ سانس لے رہی تھیں اور پھر ان کا دم آپریشن ٹیبل پر نکلا، یہ سب بھی بعد کی خبریں ہیں کہ محترمہ کی موت کس طرح واقع ہوئی۔ اب تک اصرار یہی ہے کہ گرتے ہوئے لیور لگا، تاہم ہمارا اپنا اندازہ مختلف ہے کہ ہم نے امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے قتل کی تحقیقات کرنے والے وارن کمشن کی رپورٹ پڑھ رکھی ہے۔

اس لئے ہم آج بھی سمجھتے ہیں کہ اس روز محترمہ بچ جاتیں تو بہت بڑا معجزہ ہوتا کہ ان کی موت کی سازش بہت مربوط تھی، خودکش حملہ، دو پستول بردار تو ظاہر ہیں کہ یہ سب فوٹیج میں اب بھی موجود ہیں، تاہم ہمارا اور بعض ہمارے ہم خیال دوستوں کا یقین ہے کہ کوئی تیسرا بھی تھا جس نے کسی چھت سے دوربین والی بندوق سے نشانہ لیا اور یہ ہدف محترمہ کی دائیں کنپٹی ثابت ہوئی تھی، اس سلسلے میں اپنوں اور بیگانوں نے شہادتیں چھپائی ہیں اور یہ قتل آج بھی پراسرار ہی ہے، بہرحال اس پر اب بھی عبدالرحمن ملک اور بیگم ناہید خان عباسی سے گفتگو ہونا چاہیے اور ان کو بھی سچ بتا ہی دینا چاہیے۔

یہ تو اس دکھ اور یاد کا تاثر ہے جو ہمارے لئے دہری ہے کہ ہماری اہلیہ کے ”حور“ والے الفاظ گونجتے رہتے ہیں۔ یوں ایک سے زیادہ دو کو یاد کرنا ہوتا ہے، ارادہ تو تھا کہ محترمہ کی کتاب ”دختر مشرق“ سے استفادہ کریں گے یا ان کی تقریروں میں سے کچھ اقتباس پیش کریں گے، تاہم یہ سب یاد آ گیا، ہمارے گھر میں مہمان جمع ہیں، ہماری بڑی بیٹی اور بچے بھی آئے ہوئے ہیں تو وہ سب والدہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں، یوں خود غرضی کی اور یہ سطور لکھ دی ہیں جہاں تک دختر مشرق کا تعلق ہے تو وہ ہم نے پڑھی ہوئی ہے۔ محترمہ نے اس کتاب میں بڑی تفصیل سے اپنی اور اپنی والدہ کی ان مشکلات کا ذکر کیا ہے جو جنرل ضیاء کے ہاتھوں ان کو پیش آئیں۔

محترمہ نے کراچی جیل، سہالہ ریسٹ ہاؤس اور المرتضیٰ لاڑکانہ میں نظر بندی کا تفصیل سے ذکرکیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا، حتیٰ کہ اڈیالہ جیل سے تھوڑے فاصلے پر سہالہ پولیس ٹریننگ سکول کے ایک چھوٹے کمرے میں بند ان ماں بیٹی کو مرے والد کا چہرہ بھی نہ دیکھنے دیا گیا۔ محترمہ نے یہ بھی ذکر کیا کہ ان کو یہ علم جیل آفیسر کی آمد سے ہوا جو مرحوم بھٹو کی ذاتی اشیاء واپس کرنے آیا تھا،

خود اس آفیسر کے مطابق جب انہوں نے یہ سامان حوالے کیا تو پوچھا گیا، مرحوم کی سزا پر عمل ہو گیا۔ اس وقت ماں بیٹی نے تیاری شروع کی کہ میت کا چہرہ دیکھیں گی اور تدفین کا انتظام کریں گی لیکن بتایا گیا کہ وہ تو میت لے بھی گئے ہیں۔یہ جان کر محترمہ بے ہوش ہو گئی تھیں۔ صرف یہی نہیں، محترمہ نے ”دختر مشرق“ میں یہ بھی تحریر کیا ہوا ہے کہ کس طرح ماں بیٹی کو المرتضیٰ میں رکھا گیا، ان سے کسی کو ملنے کی اجازت نہیں تھی وہ ماں بیٹی قید تنہائی کاٹ رہی تھیں، یہیں محترمہ کے کان کے درد نے شدت اختیار کی اور ان کو بہت زیادہ تکلیف برداشت کرنا پڑی۔

پھر انہوں نے تفصیل سے اس کان کے آپریشن کا بھی ذکر کیا ہے۔ ہم نے بطور رپورٹر محترمہ کی بہت زیادہ کوریج کی ہوئی ہے۔ ہماری ان سے ملاقات 4اپریل 2001ء میں گڑھی خدا بخش کے جلسہ عام میں ہوئی تھی، ہم لاہور سے اپنے ساتھی فوٹوگرافر ناصر غنی کے ساتھ کوریج کے لئے گئے تھے، محترمہ نے اس روز اپنا پسندیدہ لباس، سفید دوپٹہ، کھلتے سبز رنگ کی قمیض اور سفید ہی شلوار پہن رکھی تھی، ہم ان کے دائیں طرف بیٹھے تھے اور ابتدائی تقریروں کے دوران وقفہ وقفہ سے ان کے ساتھ کوئی بات بھی ہو جاتی تھی، اس روز بھی وہ اپنے اس پسندیدہ لباس میں خوبصورت نظر آ رہی تھیں ان کی گفتگو سے عزم جھلکتا تھا۔ لاڑکانہ ہی سے وہ کراچی اور کراچی سے براستہ دوبئی وہ امریکہ پہنچ گئی تھیں۔

یہ ہماری آخری ملاقات تھی، اس کے بعد وہ جب 2007ء میں واپس آئیں تو اپنے ساتھ آسمانوں اور زمینوں کے مالک کا فرمان بھی ساتھ ہی لئے آئیں کہ کراچی سے بچ نکلیں اور راولپنڈی میں شہید ہو گئیں، آج کے حالات میں ان کو بہت یاد کیا جا رہا ہے کہ ان کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ملک میں ان جیسا بھی کوئی رہنما موجود نہیں ہے۔ محترمہ کی تنازعہ کشمیر کے حوالے سے ”کمٹ مینٹ“ کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ اللہ ان کو معاف کرے اور درجات بلند کرے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور