ڈَڈو کی طلاق ہوگئی، رواں سال کی سب سے انوکھی خبریں

ڈَڈو کی طلاق ہوگئی، رواں سال کی سب سے انوکھی خبریں
ڈَڈو کی طلاق ہوگئی، رواں سال کی سب سے انوکھی خبریں

  



نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) 2019ءرخصت ہونے کو ہے اور سال کے اختتام پر ٹائمز آف انڈیا نے اس سال میں بھارت میں رونما ہونے والے کچھ ایسے حیران کن واقعات بیان کیے ہیں جنہیں آپ اس سال کی انوکھی ترین خبریں بھی کہہ سکتے ہیں۔ ان میں پہلی خبر یہ تھی کہ بھوپال میں توہم پرستوں نے بارش کے دیوتا کو خوش کرنے اور زیادہ بارشیں لینے کے لیے ایک مینڈک اور مینڈکی کی شادی کروا دی جو کہ ہر سال کا معمول ہے تاہم رواں سال اس علاقے میں اتنی بارشیں ہوئیں کہ سیلاب آ گیا اور تباہ کاری شروع ہو گئی جس پر گھبرا کر ان لوگوں نے اس مینڈک اور مینڈکی کی طلاق کروا دی تاکہ مزید بارشیں نہ ہوں۔ہندو مت کے ماننے والے ’اندرا‘ نامی دیوتا کو بارشوں کا دیوتا مانتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اگر مینڈک اور مینڈکی کی شادی کروائی جائے تو اندرا خوش ہوتا اور زیادہ بارشیں دیتا ہے۔ چنانچہ بھارت کے بیشتر علاقوں میں برسات کے موسم کے آغاز میں مینڈکوں اور مینڈکیوں کی شادیاں کروائی جاتی ہیں۔

بھارت میں دوسری حیران کن خبر یہ آئی کہ بھارتی محکمہ ڈاک نے ریاست پنجاب کے شہر چینہ (Chaina)کے پتے پر بھیجا گیا پارسل چین کے شہر بیجنگ بھیج دیا۔محکمے کے لوگوں کو انگریزی میں لکھا گیا لفظ Chainaپڑھنے میں غلطی ہوئی اور وہ اسے چائنہ سمجھ بیٹھے۔ بعد ازاں محکمہ ڈاک کے چندی گڑھ آفس نے متاثرہ خاتون سے معافی مانگ لی جس نے اس پارسل میں اپنی بیمار والدہ کے لیے ادویات بھیجی تھیں جو محکمہ ڈاک نے چین پہنچا دیں۔

ایک خبر یہ تھی کہ بھارتی ریاست کیرالا میں ایک طالب علم کو اس کے ٹیچر نے امتحان میں نقل مارتے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا جس پر طالب علم نے ڈنڈا اٹھا لیا اور ٹیچر کو مار مار کر ادھ موا کر ڈالا تھا۔ یہ واقعہ چیمند جماتھ ہائیر سکینڈری سکول میں پیش آیا تھا،جہاں بارہویں جماعت کے طالب علم نے اپنے فزکس کے ٹیچر کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

ایک واقعہ بھارتی ریاست اترپردیش میں پیش آیا تھا جہاں ایک دلہن اپنے شوہر کو چھوڑ کر آشنا کے ساتھ اس لیے بھاگ گئی تھی کہ اس کا شوہر اسے انڈے نہیں کھانے دیتا تھا۔ لڑکی کا شوہر سبزی خور تھا اور انڈے کھانا بھی معیوب سمجھتا تھا مگر لڑکی کو انڈے بہت پسند تھے چنانچہ وہ شادی کے چند ہفتے بعد ہی کسی اور شخص کے ساتھ بھاگ گئی۔

بھارت میں پیش آنے والا یہ واقعہ بھی معاشرے کی توہم پرستی کا شاخسانہ تھا۔ واقعہ یوں تھا کہ اترپردیش کے ضلع حمیر پور میں واقع قصبے موداہا میں پبلک ٹوائلٹ بنایا گیا اور اسے زعفرانی رنگ میں پینٹ کر دیا گیا۔ زعفرانی رنگ دیکھ کر لوگوں نے وہاں رفع حاجت کی بجائے اسے مندر سمجھ لیا اور وہاں پوجا کرنی شروع کر دی تھی۔ کسی نے یہ بھی جاننے کی کوشش نہیں کی کہ عمارت کے اندر بھگوان کی مورتی بھی رکھی گئی ہے یا نہیں۔

رواں سال بھارت میں طبی تاریخ کے بھی دوعجوبے رونما ہوئے۔ ایک واقعے میں ڈاکٹر کے پاس ایک خاتون آئی اور اس نے پیٹ درد کی شکایت کی۔ ڈاکٹر نے اسے پیٹ درد کی دوا دینے کی بجائے ’کنڈوم‘ تجویز کر دیئے اور کہا کہ شوہر کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتے ہوئے انہیں استعمال کرو، پیٹ درد نہیں ہو گا۔ دوسرا واقعہ ریاست جھاڑ کھنڈ کے ضلع چھتر میں واقع شہرسیماریا کے گورنمنٹ ہسپتال میں ڈاکٹروں نے ایک نہیں بلکہ دو مردوں کے حمل ٹیسٹ کردیئے تھے۔ یہ مرد بھی پیٹ درد کی شکایت کے ساتھ ہسپتال آئے اور ڈاکٹروں نے انہیں پریگنینسی ٹیسٹ کروانے بھیج دیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...