مسلمانوں کے خلاف متنازعہ قانون سازی پر مودی سرکا رکی ترجمانی کرنے والے رپورٹر کو منہ کی کھانا پڑ گئی، اداکارہ سوارا بھاسکر نے چھٹی کا دودھ یاد دلادیا

مسلمانوں کے خلاف متنازعہ قانون سازی پر مودی سرکا رکی ترجمانی کرنے والے ...
مسلمانوں کے خلاف متنازعہ قانون سازی پر مودی سرکا رکی ترجمانی کرنے والے رپورٹر کو منہ کی کھانا پڑ گئی، اداکارہ سوارا بھاسکر نے چھٹی کا دودھ یاد دلادیا

  



نئی دلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت میں حال ہی میں منظور ہونے والے متنازعہ شہریت قانون کے خلاف پورے ملک میں احتجاج جاری ہے، حکومت کی جانب سے مظاہرین کو کنٹرول کرنے کیلئے پولیس کو فری ہینڈ دے دیا گیا ہے جس کے باعث پولیس اہلکار لوگوں کے گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کرتے پائے گئے ہیں، پولیس کے اسی رویے کے خلاف اداکارہ سوارا بھاسکر نے پریس کلب آف انڈیا نئی دلی میں احتجاجی دھرنے میں شرکت کی۔ اس موقع پر اے بی پی نیوز کے ایک رپورٹر نے ان سے انٹرویو کے دوران مودی سرکار کی ترجمانی کی کوشش کی تو اداکارہ نے اسے کھری کھری سنادیں۔

اداکارہ سوارا بھاسکر نے کہا کہ اتر پردیش پولیس کا مسلمانوں کے ساتھ جس طرح کا رویہ رہا ہے یہ بہت ہی بھیانک صورتحال ہے، پولیس والے دنگا کرنے والوں کا کردار ادا کر رہے ہیں حالانکہ پولیس کا کام قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا ہے لیکن وہ لوگوں کے گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کر رہے ہیں۔

اداکارہ کا انٹرویو کرنے والے رپورٹر نے سوال اٹھایا کہ اگر پولیس کو اشتعال دلایا جائے گا تو وہ بدلہ (Retaliate تو کرے گی)تو لے گی ۔ سوارا بھاسکر نے رپورٹر کی طرف انتہائی حیرت زدہ نظروں سے دیکھا اور کہا یہ کون سی زبان ہے؟ کیا ہم جنگ لڑ رہے ہیں ؟ کیا پولیس کا کام بدلہ (Retaliate کرنا)لینا ہے؟ ۔ انہوں نے رپورٹر کو جھاڑتے ہوئے کہا کہ آپ کے ذہنی توازن میں گڑ بڑ ہے ، ان کی ذہنیت میں بھی مسئلہ ہے اور سارا مسئلہ اسی ذہنیت کا ہے، آپ ان کو برابر کا شہری مان ہی نہیں رہے ہیں۔

نہتے مظاہرین کے خلاف پولیس بربریت کے حوالے سے اداکارہ نے کہا کہ جب کوئی سرکار اپنی ذمہ داریوں سے مکر جائے اور دہشت کا ماحول پھیلائے تو پھر آزادانہ جانچ ہونی چاہیے، اس معاملے کی جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیے ۔

رپورٹر نے ایک بار پھر مودی سرکار کی ترجمانی کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ جو لوگ احتجاج کر رہے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ قانون کو پڑھ لیں۔ اس بات پر اداکارہ ایک بار پھر بھڑک اٹھیں اور کہا کہ جو لوگ احتجاج کر رہے ہیں وہ اس قانون کو پڑھ کر ہی آرہے ہیں ، انہیں پتا ہے کہ اس میں کیا گڑ بڑ ہے اسی لیے وہ آواز بلند کر رہے ہیں، اس قانون پر جذبات بھڑکانے والے بیانات سرکار کی جانب سے آرہے ہیں، آپ سرکاری اہلکاروں کو مشورہ دیں کہ وہ اس قانون کو پڑھیں۔

مزید : تفریح