آپریشن اور مذاکرات ایک ساتھ جاری نہیں رکھے جا سکتے،سیاسی خواتین

آپریشن اور مذاکرات ایک ساتھ جاری نہیں رکھے جا سکتے،سیاسی خواتین

لاہور(لیڈی رپورٹر)آپریشن اور مذاکرات ایک ساتھ جاری نہیں رکھے جا سکتے اگر مذاکرات کا نتیجہ مثبت چا ہتے ہیں تو آپریشن روکنا ہو گا ،ضرورت مذاکرات اور آپریشن کی نہیں بلکہ امن کی ہے اور اس کا بہترین حل گول میز کا نفرنس ہے ،متفقہ طور پر ایسا لا ئحہ عمل ترتیب دیا جا نا چا ہیے جو ملک اور قوم کے مفاد میں ہو ،آپریشن سے حا لات کی بہتری ممکن نہیں مزید خراب ہو ں گے ان خیا لات کا اظہار مختلف سیا سی جما عتوں کی خواتین ڈاکٹر سیمی بخاری، سیمل کامران ، بیلم حسنین نے روزنا مہ پاکستان سے گفتگو کر تے ہو ئے کیا انہوں نے کہا کہ اگر چہ حکومت ابھی تک مذاکرات کی ٹیبل سجا نے میں ناکا م ہے لیکن کوشش جا ری رکھنی چا ہیے حکومت ایک جا نب تو آپر یشن کی با ت کر تی ہے تو دوسری جا نب مذا کرات کی بھی با ت کر تی ہے ضرورت مذاکرات اور آپریشن کی نہیں بلکہ امن کی ہے اور اس کا بہترین حل گول میز کا نفرنس ہے انہوں نے کہا کہ اگر شر پسند عنا صر کا خا تمہ کر دیا جا ئے تو اس کا بہت جلد حل نکل سکتا ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1