چودھری نثار کی ٹیم جیت گئی، پاکستان کی ہار گئی!

چودھری نثار کی ٹیم جیت گئی، پاکستان کی ہار گئی!
چودھری نثار کی ٹیم جیت گئی، پاکستان کی ہار گئی!

  

یہ شرف بھی پاکستان ہی کو حاصل ہوا کہ کرکٹ کے کھیل میں ایک نئی اصطلاح ایجاد کردی۔اسلام آباد میں ایک نمائشی کرکٹ میچ کا اہتمام کیا گیا جو پاکستان کے بڑوں اور دولت مشترکہ کے سفیروں کے درمیان ہوا، اس میں پاکستان حکومت کی ٹیم میں سربراہی کا فریضہ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے ادا کیا وہ ایچی سن کالج میں کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کے ہم جماعت اور کالج کی ٹیم میں کھیلتے بھی رہے ہیں۔یوں بھی اہتمام ان کا تھا تو میزبان کی حیثیت سے وہ کپتانی کا بھی حق رکھتے تھے، چونکہ سرکاری ٹیم کو پی سی بی الیون کا نام دیا گیا تھا اس لئے چیئرمین محترم نجم سیٹھی بھی کھلاڑیوں میں شامل کر لئے گئے وہ نہ کھیلنے والوں میں تھے اور یہ کوئی تعجب والی یا نئی بات نہیں کیونکہ ٹیم میں پندرہ کھلاڑی ہوتے ہیں اور ان میں سے گیارہ ہی میدان میں اترتے ہیں لیکن نئی بات یا اصطلاح یہ تھی کہ نجم سیٹھی کو بھی کپتان قرار دیا گیا اور یہ کہا گیا کہ وہ ”نان پلیئنگ“ کپتان ہیں اور یوں وہ گراﺅنڈ میں بیٹ یا بال کو ہاتھ لگائے بغیر ہی کپتان قرار پائے۔حالانکہ گراﺅنڈ میں تو یہ فرائض چودھری نثار ادا کررہے تھے۔خبر یہ ہے کہ چودھری نثار نے 28رنز سکور کئے اور چار اوور بھی کرائے، ان کی ٹیم نے یہ میچ جیت لیا تھا۔

ایسا دلچسپ پروگرام ہو اور میڈیا بے خبر رہے یہ ممکن نہیں اور یہ بھی بہت ہی انہونی ہوتی، اگر چودھری نثار میڈیا سے بات نہ کرتے۔وہ یوں بھی بولنے اور بولتے رہنے کے عادی ہیں، پنجاب میں رانا ثناءاللہ اور وفاق میں چودھری نثار مقبول شخصیت ہیں، وہ دونوں بے تکان دو دو گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ وقت کے لئے بات کرنے کے اہل ہیں، ان دونوں میں اگر کوئی فرق ہے تو رانا ثناءاللہ اکثر تولے بغیر بول پڑتے ہیں اور چودھری نثار کو بات بنانا آتی ہے۔

کھیل کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے چودھری نثار نے اعلان کیا کہ اس نوعیت کے اور بھی نمائشی میچ کرائے جائیں گے، تاکہ دنیا کو بتایا جا سکے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے جہاں حفاظتی انتظامات بھی بہتر ہیں۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اس طرح بیرونی ٹیموں کو پاکستان میں آنے کی دعوت دی جا سکے گی اور چودھری نثار آج کے ”برننگ ایشو“ کا ذکر کئے بغیر نہ رہے۔انہوں نے طالبان کو بھی کرکٹ میچ کھیلنے کی دعوت دے ڈالی اور کہا کہ سنا ہے طالبان کو کرکٹ سے دلچسپی ہے اور وہ نوجوانوں کو کھیلتا ہوا دیکھتے ہیں، بات ہو رہی ہو چودھری نثار کی اورجواب نہ آئے یہ تو ممکن نہیں۔کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے فوراً ہی اس تجویز کو مسترد کردیا اور اس قیاس کو بھی غلط قرار دیا کہ وہ (کالعدم تحریک طالبان والے) کرکٹ کو پسند کرتے ہیں۔شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ کرکٹ تو نوجوانوں کو خراب کرتی ہے۔ادھر یہ ہو رہا تھا تو دوسری طرف شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بال کی جگہ میزائل برسائے جا رہے تھے اور ان کی وکٹیں گرائی جا رہی تھیں جس کے لئے آسمان سے باﺅنسر پھینکے جا رہے ہیں، اب یہ حزب اختلاف والوں کی بد ذوقی ہے کہ انہوں نے چودھری نثار کے بیان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک التوا کار جمع کرا دی اور موقف اختیار کیا کہ طالبان کو کرکٹ میچ کی دعوت دے کر وزیر داخلہ نے شہداءکی قربانیوں کی توہین کی ہے۔ان اپوزیشن والوں میں ذرا بھی حس مزاح نہیں ہے، اب تو چودھری نثار کو ایک اور موقع مل گیا کہ وہ اس تحریک التوا کار کے حوالے سے قومی اسمبلی کو گھنٹے سوا گھنٹے تک اپنے خیالات سے محظوظ کر سکیں۔

وزیر داخلہ اور نجم سیٹھی پرجوش تھے، چیئرمین کرکٹ بورڈ کی حیثیت سے وہ ایشیا کپ کے میچ دیکھنے بنگلہ دیش بھی جا رہے ہیں،ادھر یہ صورت حال ہے تو دوسری طرف دفاعی چیمپئن ٹورنامنٹ کا افتتاحی میچ بھی ہار گئے اور سری لنکا ٹیم ان کو بارہ رنز سے پچھاڑنے میں کامیاب ہو گئی اور پاکستان ٹیم ایک دلچسپ مقابلے کے بعد ایک جیتا ہوا میچ ہار گئی۔اس پر ماہرین نے دلچسپ تبصرے کئے ان میں ماضی کے فاسٹ باﺅلر راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر کی ماہرانہ رائے ہے کہ یہ میچ مصباح الحق، عمر اکمل اور شاہد آفریدی نے ہرایا ہے۔سبحان اللہ کل کے پلے بوائے آج کے سنجیدہ ماہر بن کر دلچسپ باتیں کر رہے ہیں جو یقینا اس ٹی وی کا اعجاز ہے جو ان کو پروموٹ کررہا ہے۔

کرکٹ اور خصوصاً ایک روزہ میچ کے بارے میں ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے کہ جو میچ کے روز اچھا کھیلے وہی جیتتا ہے، تاہم فتح اور شکست دونوں صورتوں میں ٹیم کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔میچ میں شکست ہوئی اسے تسلیم کرنا چاہیے اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مقابلہ کتنا دلچسپ ہوا اور کھلاڑیوں نے جان لڑائی۔

کرکٹ سے تھوڑی بہت شدھ بدھ کی وجہ سے ہمارا خیال تو یہ ہے کہ ابتدائی کھلاڑیوں کے مایوس کن کھیل نے مڈل آرڈر پربوجھ بڑھایا اس کے باوجود کپتان مصباح الحق اور عمر اکمل نے بہترین اننگ کھیلی ۔رہ گیا ان دونوں کا آﺅٹ ہونا تو دونوں ہی دباﺅ کا شکار ہو کر تیز کھیلنے کے چکر میں آﺅٹ ہوئے۔عمر اکمل اچھے شارٹ کھیل رہے تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے باہر جاتی گیند کو باﺅنڈری پار کرانے کی کوشش کی اور آﺅٹ ہوئے۔وہ اس کو چھوڑ بھی سکتے تھے۔کپتان مصباح الحق پر آفریدی کے آﺅٹ ہو جانے کی وجہ سے بوجھ آیا اور انہوں نے سکور بڑھانے کی کوشش کی زور کم رہا اور آﺅٹ ہوگئے بعد کے کھلاڑی تو مالنگا کے تجربے کی بھینٹ چڑھے۔ہمیں تو سلیکٹروں اور ٹیم مینجمنٹ کے ساتھ چیف کوچ کی توجہ مبذول کرانی ہے کہ وہ صہیب مقصود اور شرجیل خان کی زیادہ خود اعتمادی کا علاج کریں۔صہیب ماضی کی طرح اونچا شارٹ کھیل کر چھکا لگانے کے چکر میں آﺅٹ ہوا حالانکہ وہ دیکھ سکتا تھا کہ میتھیو نے لانگ آن اور لانگ آف باﺅنڈریوں کی طرف ایک ایک فیلڈر لے رکھا تھا، شرجیل خان کو بھی یہ شارٹ کھیلنے کی ضرورت نہیں تھی، رہ گئے آفریدی تو ان سے یہی توقع ہوتی ہے کہ تو چل میں آیا۔کیا اب بہتر نہ ہوگا کہ صہیب مقصود کی جگہ کامران اکمل اور آفریدی کی جگہ شعیب ملک یا فواد عالم کو موقع فراہم کیا جائے۔تھوڑے لکھے کو زیادہ جانیں اللہ حافظ! کہ ٹائٹل کا دفاع مشکل ہوگیا۔اب اگلے تینوں میچ جیتنا ہوں گے ان میں روائتی حریف بھارت اور بنگلہ دیش بھی شامل ہیں۔ ٭

مزید : کالم