بھارت سے آزادانہ تجارت؟

بھارت سے آزادانہ تجارت؟
بھارت سے آزادانہ تجارت؟
کیپشن: syed fiaz

  

معاشی موضوع میرا نہیں،مگر ان دنوں بھارت کو بہت پسندیدہ حیثیت دینے اور آزادنہ تجارت کا ذکر کچھ اتنازیادہ ہے کہ جی چاہا کہ اس ”عوامی“موضوع پر میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی جسارت کروں ۔ہوا کے دوش پر بھارتی فلمیں ،ناچ رنگ کی تو بہت ہی آزادانہ آمد ہے، بلکہ ہمارے لباس اور طرززندگی کو بے حد متاثر کررہا ہے، شہروں میں ہی نہیں، گاﺅں اور دیہاتوں میں بھی، کیونکہ ریڈبائی لہریں ہرکونے کھدرے میں پہنچ جاتی ہیں، ہماری اردو بھی اس سے متاثر ہورہی ہے اور ٹی وی کے انداز گفتگو ہی نہیں، بلکہ اصطلاحات بھی دھڑلے سے بھارت سے درآمد ہورہی ہیں۔ ہندوستان، یا بھارت میں ابھی تک پرانی قدریں آپ کو شہروں میں بھی اور دیہاتوں میں مل جائیں گی، مگر ان کی مانگ بھی اب وہاں کم ہورہی ہے، کیونکہ کوکا کولا اور پیزا کلچر سب پر بازی لے جارہا ہے۔

اس صورت حال میں عام طورپر وہاں سیاسی لوگوں کے انداز وبرخاست میں ابھی تک سادگی نظرآتی ہے ، اس سلسلے کی تازہ ترین مثال عام آدمی پارٹی نے پیش کی ،جس نے جھاڑو کو اپناانتخابی نشان بنایا اور دہلی میں حکومت بھی بنالی۔ظاہرہے کہ روپے کی ریل پیل، یورپ ،امریکہ کی تہذیبی یلغار میں شرافت اور دیانت کا قتل عام ہونا ضروری تھا کہ آخرہندوستان بھی ایک ترقی پذیر ملک ہے اور وہاں کے عام آدمی اور سیاستدان سب کو چمک دمک کی زندگی نہ صرف یہ کہ اچھی لگتی ہے بلکہ وہ اس کے حصول کے لئے سرگرداں ہے۔ اب اس جدوجہد میں انسان کا اندھا ہوجانا ضروری ہے اور وہ ہر جائز وناجائزکام کرنے کے لئے بے قرار رہتا ہے اور موقع ملتے ہی اپنا وار کردیتا ہے۔ عام آدمی پارٹی نے دلی کی سرکار سنبھالنے کے بعد پے درپے ایسے اقدامات کئے کہ کرپشن، بے حیائی اور ظلم وستم راہ فرار اختیار کرنے لگے۔

مگر اروند کجریوال مقتدر طبقے کی آنکھوں کا کانٹا بن گئے اور بالآخر جب انہوں نے کرپشن کے خلاف بل پاس کرانے کی کوشش کی تو جدی پشتی سیاستدانوں نے ان کے خلاف مورچہ سنبھال لیا، ایسے میں اروندکجریوال کے پاس استعفیٰ دے کر خود ہی اپنی حکومت کو گرانے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں تھا اور بالآخر 49دن کی یہ ایک صحیح معنوں میں عام آدمی کی پارٹی کی حکومت ختم ہوگئی۔ اروند سے پوچھا گیا کہ اب آپ کیا کریں گے، تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم کرپشن اور ظلم وستم کے خلاف اپنی لڑائی میں ہارے نہیں ہیں، بلکہ اب پورے ملک کی رائے عامہ کو اپنے ساتھ ملائیں گے۔ اس راستے میں جو بھی دشواریاں آئیں انہیں جھیلیں گے اور آئندہ ہونے والے قومی الیکشن میں بھی حصہ لینے کی کوشش کریں گے۔....

یہاں مجھے مشرقی پاکستان کی صوبائی اسمبلی کے ایک نوجوان ممبر سلیم خاں پنی، جوایک معروف زمیندار خاندان سے تعلق رکھتے تھے، یاد آئے، وہ منتخب ہوکر اسمبلی میں پہنچے تو چھ ماہ بعد ہی مستعفی ہوکر واپس آگئے ۔ پوچھا کہ کیا ہوا تو صاف صاف کہنے لگے کہ بھائی وہاں کا تو آوے کا آواہی بگڑا ہوا ہے، خدمت اور ایثار تو ان لوگوں کی لغت میں ہے ہی نہیں،ہر کوئی جھوٹ، فریب اور اپنا الو سیدھا کرنے میںلگا ہوا ہے، ایسے ماحول میں میرا ضمیر مردہ ہوجاتا، پھر مَیں خود اپنے آپ سے شرمندہ ہوتا۔ اس واقعہ کو 52سال ہوچکے ہیں، ایسا کوئی دوسرا واقعہ میری دانست میں وقوع پذیر نہیں ہوا۔ عام آدمی پارٹی کی رسائی عام ہندوستانی تک ہے اور اس کی آواز ہرجگہ پہنچ رہی ہے کہ اس میں نیک نیتی لگتی ہے اور جذبہ ¿ خدمت ۔کیا ہم ہندوستان سے اس جنس کو امپورٹ نہیں کرسکتے ؟ کیونکہ ہمارے ہاں سب کچھ ہے، سوائے اخلاص اور بے لوثی کے۔  ٭

مزید :

کالم -