محکمہ بجلی کی نجکاری کی بجائے ہنگامی بنیادوں پر تھرمل پاور ہاﺅس بنائے جائیں

محکمہ بجلی کی نجکاری کی بجائے ہنگامی بنیادوں پر تھرمل پاور ہاﺅس بنائے جائیں

لاہور( خبرنگار) پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک سنٹرل لیبر یونین اور واپڈا انجینئرز ایسوسی ایشن کے رہنماﺅں خورشید احمد خان، اسامہ طارق، سید تنظیم نقوی، عبدالرحمن، محمد خالد محمود اور رانا عبدالشکور نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم پاکستان سےمطالبہ کیا ہے کہ وہ محکمہ بجلی کی مجوزہ نج کاری پر عمل درآمد کرنے کی بجائے فیصلہ کو پارلیمنٹ ،سینٹ ،اس سے متعلقین بجلی کے صارفین اور سول سوسائٹی اور کارکنوں کے نمائندگان سے باہمی صلاح ومشورہ کریں کیونکہ محکمہ بجلی میں ملک کے دو کروڑ سے زائد بجلی کے صارفین کو چترال سے لیکر گوادر تک بجلی کی سپلائی کرتا ہے محکمہ بجلی کی مجوزہ نجکاری سے نجی تھرمل و رینٹل پاور ہاﺅسوں کی طرح بجلی کے نرخوں میں اضافہ کا سبب بنے گا، حکومت کو چاہیے کہ وہ سستی بجلی ہائیڈل اور کوئلہ سے پیدا کرنے والے تھرمل پاور ہاﺅسوں کی جنگی بنیادوں پر قومی وسائل سے تعمیر کرائے کیونکہ ہائیڈل کی بجلی ڈیڑھ روپے فی یونٹ اور کوئلہ تھرمل کی 6 روپے فی یونٹ اور نجی رینٹل تھرمل پاور ہاﺅسوں کی بجلی پر 16 سے 22 روپے فی یونٹ لاگت آتی ہے اور محکمہ بجلی کی کارکردگی میں اضافہ کے لئے اصلاحات کا نفاذ کیاجائے محکمہ بجلی کی کمپنیوں کو نجی ارکان بورڈ آف ڈائریکٹرز کے حوالے کرنے کی بجائے اس کے انتظام و انصرام کو موثر کرنے کے لئے اسے قومی ادارہ واپڈا یا پیپکو کے حوالے کیاجائے اور بجلی کی 16کمپنیوں کو موثر کارکردگی کے مفاد میں عارضی چیف ایگزیکٹو تعینات کرنے کی بجائے انہیں اہلیت مطابق مستقل بنیادوں پر مقرر کیاجائے- بجلی کی چوری کو ناقابل ضمانت جرم قرار دے کرملزمان کے خلاف کاروائی کے لئے خصوصی مجسٹریٹ مقرر کیئے جائیں تاکہ بجلی کی چوری کا انسداد ہو- بجلی کی چوری روکنے اور اس کے واجبات وصول کرنے والے فیلڈ عملہ کو قانون شکن افراد کے خلاف دوران ڈیوٹی تحفظ فراہم کیاجائے- بجلی کے صارفین کو سستی بجلی مہیا کرانے کے لئے محکمہ بجلی کے بند تھرمل پاور ہاﺅسوں کو گیس مہیا کی جائے اور سرکاری تھرمل پاورہاﺅسوں کی اوورہالنگ و مرمت کا کام جنگی بنیادوں پر مکمل کرایاجائے جبکہ گیس نجی تھرمل بجلی گھروں کو مہیا کی جارہی ہے- اورحکومت سرکاری اداروں سے ڈیڑھ کھرب روپے اور کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی سے اربوں روپے کے بقایاجات محکمہ بجلی کو ادا کرائے- ہم نہایت دکھ سے واضح کرتے ہیں کہ محکمہ بجلی واپڈا کے ایک لاکھ پچاس ہزار کارکنوں اور انجینئروں نے تین بار ملک بھر میں احتجاج کرنے کے باوجود حکومت اس قومی مسئلہ پر کوئی مذاکرات نہیں کررہی اس لئے آل پاکستان واپڈا ہائیڈروالیکٹرک ورکر زیونین سی بی اے اور انجینئرز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام 5 مارچ 2014 کو دوبارہ ملک بھر میں" یوم احتجاج" منایاجائے گا اور حکومت کو مجبور کریں گےکہ وہ اس قومی مسئلہ پر باہمی مذاکرات منعقد کرے اگرحکومت نے کوئی مثبت جواب نہ دیا تو ہمارے ہزاروں ارکان اسلام آباد پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے مارچ کرنے پر مجبورہوں گے

مزید : میٹروپولیٹن 4