امن کی تلاش ....؟

امن کی تلاش ....؟
امن کی تلاش ....؟

  

دہشت گردوں کے حوصلے اس لئے بھی جوان ہوئے کہ ذرائع ابلاغ کی بڑی تعداد نے انہیں کئی سال تک ہیرو کے روپ میں پیش کیا،نتیجے کے طور پر دہشت گرد خود کو حقیقتاً نجات دہندہ سمجھنے لگے، جبکہ پاکستان کی خاطر شہید ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کا مورال ڈاﺅن ہوا۔پاکستانی میڈیا کو اب یہ خیال رکھنا چاہئے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے حتمی مراحل میں داخل ہونے کو ہے۔ افراتفری کے اس عالم میں پاکستان مخالف ہر گروپ ،خواہ وزیرستان میں موجود ہو یا بلوچستان میں چھپاہو،حالات مزید خراب کرنے کی کوشش کرے گا۔ الیکٹرانک میڈیا کا ایک حصہ کئی برسوں سے بلوچستان کے لاپتہ افراد کی دھائی دے کر عام پاکستانیوں کو مس گائیڈ کر رہا ہے۔ پہلے یہ تصفیہ تو کر لیں، یہ لاپتہ افراد ہیں کون؟ یہ کوئی حاجی نمازی نہیں۔ کان کھول کر اور دماغ پوری طرح حاضر ناظر کرکے سن لیں، لاپتہ افراد کی اکثریت ان ”معصوم علیحدگی پسندوں “ پر مشتمل تھی جو اپنے نفرت انگیز خیالات کی بناءپر بے گناہ ہموطنوں کو قتل کرنا جائز سمجھتے تھے۔ سوچنا چاہئے ان اینکر حضرات کو جو ایسے افراد کو کئی سال سے مظلوم، حقوق کے متلاشی اور ہیرو ز کے روپ میں پیش کر رہے ہیں۔

کبھی ایک بوڑھی عورت کو نکال کر لے آتے ہیںجو قسمیں واسطے دے دے کر اپنے” بم دھماکوں“ میں ملوث لاپتہ بیٹے کی بے گناہی کی دھائی دے رہی ہوتی ہے۔ کبھی ایک ایسے بوڑھے کی رقت آمیز داستان بیان کی جاتی ہے جو اپنے قاتل بیٹے کی جدائی میں بینائی سے محروم ہو چکا ہے۔ کوئی بے گناہ لاہور، گوجرانوالہ ، سیالکوٹ،ملتان، فیصل آباد سے لاپتہ کیوں نہیں ہوتا؟ لاپتہ وہی ہوتا ہے جو دماغی خناس ،علیحدہ وطن کی تشکیل اور مالی فائدے کی خاطر بیرونی قوتوں کا آلہ کار بن جاتا ہے۔ اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی ریاستی ستون کی ان پہاڑوں، وادیوں میں چھپے دہشت گردوں نے، جنہیں پاکستانی میڈیا ”مظلومیت“ کے لبادے میں کروڑوں لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔پچھلے کچھ عرصے سے الیکٹرانک میڈیا پاکستانی عوام کی نظروں میں اپنا وقار گرا چکا ہے۔ایک نہیں، دو نہیں، بلکہ درجنوں ایسے پروگرام ہیں،جنہیں دیکھنے کے بعد یہ احساس مزید گہرا ہو جاتا ہے کہ میزبان یا تو دہشت گردوں کے حق میں بول رہا ہے یا دشمن ممالک کی ریشہ دوانیوں سے چشم پوشی کی جا رہی ہے۔پاکستان کے مستقبل کو تاریکی کا لبادہ اوڑھانے کے بعد میزبان پروگرام ختم کرتے ہوئے وہی دھوکہ دہی پر مبنی فقرہ دہراتے ہیں....” جی ہمیں سچ بولنا ہوگا“۔ بہت عجیب ہے یہ سچ جو پاکستانی عوام کو مایوسیوں میں دھکیلے اور جس کا فائدہ پاکستان کے دشمن اٹھائیں۔

کیا اسے لاعلمی کہیں گے، ٹی وی اینکرز دھماکوں، خون آلود چہروں اور کنکریوں کی مانند بکھرے انسانی اعضاءکے باوجود یہ نہیں بھانپ پا رہے کہ پاکستان کے دشمن مظلومیت کے نئے پروپیگنڈے سے منظر عام پر آچکے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ افغانستان میں پاکستان کا کردار بڑھانے کا فیصلہ ہو چکا ہے، بھارت اپنے افغان سفارت خانوں کے بارے میں امریکی تشویش پر سیخ پا ہو رہا ہے۔دنیا حامد کرزئی کے پاکستان مخالف پروپیگنڈے پر مزید کان دھرنے سے انکاری ہے، ایسے وقت میں دہشت گردوں کی جانب سے ایف سی اہلکاروں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دینا قابل غور ہے۔ ان حملوں کی صورت میں بنیاد پرستوں نے پاکستانی ریاست کو کھلے الفاظ میں پیغام پہنچا دیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں صلح صفائی اور امن کے قیام میں دلچسپی نہیں رکھتے ۔

 طالبان نے اورایک ایسا موقع کھو دیا ہے جو جدید ریاستی تعریف میں بمشکل ہی نصیب ہوتا ہے۔اب ایک طرف ریاست ہے، دوسری طرف شر انگیزی پر تلے عناصر۔ ایک طرف اٹھارہ کروڑ پاکستانی ہیں، دوسری طرف چند ہزار جنونیوں پر مشتمل ٹولہ۔ اس جنونی ٹولے سے کس طرح نمٹا جائے گا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا متفقہ جواب ڈھونڈنے کی کوششیں ہو رہی ہیں ۔ کسی ایک نتیجے پر اس لئے بھی نہیں پہنچا جا سکا کہ پاکستانی میڈیا کے چند ہائی ریٹنگ فگرز مسلسل عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ یہ دانشوروں کا وہ کنفیوزڈ ٹولہ ہے جو کبھی طالبان کے حق میں ہو جاتا ہے اور کبھی ان پر تنقید کے ڈونگرے برسانے لگتا ہے۔ کیا کروڑوں لوگوں نے دیکھا نہیں کہ جب طالبان نے ان دانشوروں کو مذاکراتی ٹیم میں شمولیت کی دعوت دی، جو دس سال سے قبائلیوں کی مظلومیت کی داستانیں سنا سنا کر پنچابی اسٹیبلشمنٹ کو ذلیل کر رہے تھے، انہوں نے بھاگنے میں ایک منٹ بھی ضائع نہیں کیا۔ اب ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگاکہ مذہب یا علیحدہ وطن کی آڑ میں رینگتے نفرت کے اس اژدھے کو عام آبادیوں میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی یا دلیری سے کام لیتے ہوئے سر کچلا جائے گا؟.... بے گناہوں کا خون چیخ چیخ کر گواہی دے رہا ہے کہ مسلکی غرور کا جلاد لاشوں کے انبار لگا رہا ہے۔ کٹی پھٹی میتیں خاموشی کی زبان میں نوحہ کناں ہیں کہ ان کی قربانیوں کا حساب کون لے گا؟ عام پاکستانی سوال کر رہے ہیں کہ آخر کب تک انہیں چن چن کر موت کی بدصورتیوں کی جانب دھکیلا جاتا رہے گا؟

پاکستان بڑے دشوار گزار راستے سے گزر رہا ہے۔ درجنوں ایسے گروپ ہیں جو مسلکی پراکسی وار میں فنڈنگ کرنے والے ملکوں کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔ ان شرپسند گروپوں کے پاس ٹھیک ٹھاک وسائل ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ قیمتی گاڑیاں، آتش گیر ہتھیار اور محافظوں کی فوج ظفر موج کی تنخواہیں کہاں سے ادا کی جا رہی ہیں؟ پاکستان کو تجربہ گاہ سمجھتے ہوئے ان گروپوں کو دین کی ”ترویج“ کے نام پر قائم کیا گیا، لیکن آج ترویج کا جذبہ برتری کی جنگ میں بدل چکا ہے۔ ان گروپوں نے پاکستانی قوم کا اس حد تک بیڑہ غرق کردیا ہے کہ خود تو ان کے سرپرست کھجور،مکھن کا ناشتہ کرتے ہیں، لیکن یہاں قابل نفرت بحثوں کے ذریعے عام پاکستانی ایک دوسرے کو نظریاتی طور پر فتح کرنے کے چکروں میں الجھ چکے ہیں۔ کیا خودکش حملہ آور پورے اعتقاد سے اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں کو منافق قرار دیتے ہوئے جسموں کے پرخچے نہیں اڑا رہا؟ یہ خودکش بمبار معصوم شہریوں پر ہی نہیں، بلکہ ریاستی اساس پر بھی حملہ آور ہو رہے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہیں روکنے اور بیخ کنی کے لئے کون آگے بڑھے گا؟ کیا ریاست میں اتنا حوصلہ ہے کہ غیر ملکی پے رول پر کام کرتے چند میڈیا ٹائیکونز کی پرواہ کئے بغیر دین کی آڑ میں نفرت پھیلانے والوں کو دوبارہ مفید شہری بنا سکے۔ کیا شتر بے مہار مذہبی گروپوں کو عرب ریاستوں کی مانند ریاستی کنٹرول میں لیا جا سکتا ہے؟کیا پاکستان بھر میں ہزاروں کی تعدا د میں منعقد ہونے والی تربیتی نشستوں میں پھیلائی جانے والی نفرت اور برین واشنگ پر کریک ڈاﺅن کیا جا سکتا ہے؟اگر جواب نفی میں ہے تو پھر آپریشن کرنے یا ٹسوے بہانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپریشن بھی ایک محدود مدت تک چلے گا، کچھ تعطل کے بعد خود کش ©حملے دوبارہ شروع ہو جائیں گے۔ خون میں لتھڑے لوگ اسی طرح آہ وبکار کرتے رہیں گے، حتیٰ کہ ایک وقت ایسا آپہنچے گا، جب ہر طرف خوف کا راج ہوگا۔ نفرت پھیلانے والے گروپوں پر بنیادی پابندیوں کے بغیر ہر طرح کے نتائج وقتی تصور کئے جانے چاہئیں۔

آج کے پاکستان کی سب سے بڑی سچائی نفرت کے انہی دیوتاﺅں کی توڑ پھوڑ ہے جو پاکستان کی آنے والی نسلوں کا مستقبل نوچ رہے ہیں۔ یہ کیسی منحوس جنگ میں الجھ چکا ہے پاکستان کہ جس کا کوئی سرا بھی دکھائی نہیں دے رہا۔ کبھی یہ جنگ فاٹا میں بھڑک اٹھتی ہے، کبھی رخ پشاور کی جانب ہو جاتا ہے اور کبھی چلاس، سوات، راولپنڈی،کراچی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ یہ تو پاکستانی معاشرے کی خوبی اور باہمی تعلقات کی مضبوطی ہے جو ریاست ڈگمگائی نہیں ، وگرنہ کوئی اور معاشرہ ہوتا تو کب کا اکھڑ چکا ہوتا۔ تیرہ سالہ جنگ، درجنوں ممالک کی پراکسی چالیں ،پاکستان نے تو سینکڑوں خودکش حملے، ہزاروں شہادتیں سہہ لیں۔ اس جنگ کے ان موجدوں کا بھی سوچئے جہاں فقط ایک دھماکہ پورے ملک کو دہلا کر رکھ دیتا ہے۔اپنے معاشروں کو محفوط رکھنے کی خاطر ہی یہ ممالک دہشت گردوں اور جنگجوﺅں کو پاکستان کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ انہی کی شہ پر دہشت گرد امن مذاکرات سے قبل نت نئی شرائط پیش کر رہے ہیں۔ اس مرحلے پر حکومتی مذاکرات کاربھی کنفیوز نظر آرہے ہیں۔

 سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ طالبان کے چار درجن گروپوں میں سے کون فیصلہ کن اتھارٹی رکھتا ہے اور کس سے مذاکرات کئے جائیں گے؟کیا جن سے مذاکرات ہورہے ہیں، انہیںاعلانیہ دوسرے گروپوں کی تائید اور مینڈیٹ حاصل ہے؟ کیا طالبان ایک دوسرے پر بھروسہ کر رہے ہیں؟کیا مہمند ایجنسی کے طالبان ایف سی اہلکاروں کو شہید کرکے یہ پیغام نہیں پہنچا چکے کہ

 وہ دوسرے گروپوں پر برتری رکھتے ہیں ؟ حکومت نے طالبان سے مذاکرات تو شروع کر دئیے، لیکن کہیں یوں تو نہیں ہوگاکہ ہر گروپ علیحدہ سے مذاکرات کی ڈگر پر چل نکلے؟آخر میں صرف اتناکہہ دینا کافی ہے کہ پرویز رشید، عرفان صدیقی، حمزہ شہباز،عمران خان اور مولانا فضل الرحمن حد درجہ احتیاط کریں۔ آنے والے دنوں میں دہشت گرد سو فیصد بڑے ٹارگٹ کو ہٹ کریں گے۔ایسا ٹارگٹ جو بھونچال پیدا کر سکتا ہے۔ ٭

مزید : کالم